تین لاکھ سال سے پچھتر ہزار سال پہلے تک:
انسان کا ابتدائی سفر
تقریباً تین لاکھ سال پہلے افریقہ کی زمین پر ایک ایسی انسانی نوع موجود تھی جسے آج ہم Homo sapiens کہتے ہیں۔ یہ وہی نوع تھی جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں، لیکن اگر ہم اس زمانے کے کسی انسان کو آج کے کسی شہر میں لا کھڑا کریں تو شاید وہ ہماری دنیا کو پہچان بھی نہ سکے۔نہ کوئی شہر تھا، نہ ملک، نہ سرحد، نہ کتاب، نہ سڑک اور نہ وہ زبانیں جنہیں ہم آج جانتے ہیں۔ انسان چھوٹے چھوٹے گروہوں میں رہتا تھا۔ اس کی دنیا اس کے اردگرد پھیلے ہوئے جنگلات، گھاس کے میدان، دریا، پہاڑ اور جانور تھے۔ اس کے پاس زندہ رہنے کے لیے سب سے اہم چیزیں تھیں: اس کا جسم، اس کا دماغ، اس کے ساتھی اور وہ معمولی سے اوزار جنہیں وہ اپنے ہاتھوں سے بناتا تھا۔لیکن اس خاموش دنیا میں ایک بڑی تبدیلی ہو چکی تھی۔انسان کا جسم اب اس شکل کے قریب پہنچ چکا تھا جسے ہم آج پہچان سکتے ہیں۔
تین لاکھ سال پہلے کا انسان
مراکش کے Jebel Irhoud مقام سے ملنے والے انسانی فوسلز ہمیں تقریباً تین لاکھ سال پہلے کی اس دنیا تک لے جاتے ہیں۔ ان فوسلز کی عمر تقریباً 315 ہزار سال کے قریب بتائی گئی ہے۔ ان کے چہروں اور جبڑوں میں جدید انسان سے ملتی ہوئی کئی خصوصیات موجود تھیں، اگرچہ کھوپڑی کی کچھ خصوصیات اب بھی زیادہ قدیم دکھائی دیتی تھیں۔یہ بات شاید معمولی محسوس ہو، لیکن اس دریافت نے انسانی تاریخ کے بارے میں ہماری سوچ بدل دی۔
ایک وقت تھا جب یہ خیال زیادہ عام تھا کہ جدید انسان افریقہ کے کسی ایک حصے میں نسبتاً حال ہی میں نمودار ہوا۔ لیکن Jebel Irhoud نے بتایا کہ Homo sapiens کی کہانی کم از کم تین لاکھ سال پہلے تک پہنچتی ہے۔اور شاید اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ممکن ہے انسان ایک ہی جگہ پیدا نہ ہوا ہو۔افریقہ کوئی چھوٹا سا جزیرہ نہیں تھا جہاں چند انسان الگ تھلگ رہتے ہوں۔ وہاں مختلف ماحول، مختلف انسانی گروہ اور مختلف جغرافیائی علاقے تھے۔ ممکن ہے کہ ان قدیم آبادیوں کے درمیان وقتاً فوقتاً رابطہ ہوتا رہا ہو اور ہماری نوع کی جدید خصوصیات اسی طویل اور پیچیدہ عمل میں مختلف آبادیوں کے درمیان پھیلتی رہی ہوں۔یعنی Homo sapiens شاید کسی ایک لمحے میں مکمل شکل اختیار کرنے والا انسان نہیں تھا۔وہ بھی ہماری طرح ایک سفر کا نتیجہ تھا۔
افریقہ کی بدلتی ہوئی دنیا
تین لاکھ سال پہلے افریقہ آج کے افریقہ جیسا نہیں تھاموسم بدلتے رہتے تھے۔ کبھی بارش زیادہ ہوتی، کبھی خشک سالی آتی۔ کہیں گھنے جنگلات تھے تو کہیں وسیع گھاس کے میدان۔ جھیلیں بنتیں اور خشک ہوتیں، دریاؤں کے راستے بدلتے اور جانوروں کی نقل و حرکت بھی موسم کے ساتھ بدلتی رہتی۔انسان کو بھی ان تبدیلیوں کے ساتھ بدلنا پڑتا تھا۔اس زمانے کا انسان کسی ایک جگہ مستقل بیٹھ کر زندگی نہیں گزارتا تھا۔ خوراک جہاں ملتی، انسان وہاں جاتا۔ کبھی پھل اور جڑیں، کبھی بیج، کبھی شہد، کبھی مچھلی اور کبھی شکار۔وہ اپنے ماحول کو صرف دیکھتا نہیں تھا، اسے پڑھتا بھی تھا۔
کون سا پودا کھایا جا سکتا ہے؟
کس جانور کے قدموں کے نشان تازہ ہیں؟
پانی کہاں ملے گا؟
بارش کب آئے گی؟
کس راستے سے گزرنا محفوظ ہے؟
یہ معلومات کسی کتاب میں لکھی ہوئی نہیں تھیں۔ ایک نسل انہیں دوسری نسل کو دیکھ کر، سن کر اور ساتھ رہ کر سکھاتی تھی۔شاید یہی انسانی ثقافت کی ابتدائی طاقتوں میں سے ایک تھی۔
پتھر، آگ اور انسانی ہاتھ
انسان کے پاس ابھی لوہا نہیں تھا، نہ لکڑی کو تراشنے کے لیے جدید اوزار۔ لیکن اس کے پاس ہاتھ تھے، اور ہاتھوں کے ساتھ ایک ایسا دماغ تھا جو چیزوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔پتھر اٹھایا گیا، اسے دوسرے پتھر سے مارا گیا، ایک کنارہ توڑا گیا، پھر اسے دیکھا گیا کہ یہ کس کام آ سکتا ہے۔یہ معمولی عمل نہیں تھا۔یہ دراصل انسان اور باقی دنیا کے درمیان ایک نئے تعلق کی ابتدا تھی۔پتھر اب صرف زمین پر پڑا ہوا پتھر نہیں رہا تھا۔ انسان نے اسے اپنے مقصد کے مطابق بدلنا شروع کر دیا تھا۔وقت کے ساتھ پتھر کے اوزار زیادہ متنوع ہوئے۔ کچھ کاٹنے کے لیے، کچھ کھرچنے کے لیے اور کچھ دوسرے کاموں کے لیے استعمال ہونے لگے۔آگ بھی انسانی زندگی میں اہم مقام حاصل کر چکی تھی۔ آگ نے انسان کو صرف سردی سے بچانے میں مدد نہیں دی بلکہ خوراک، روشنی اور سماجی زندگی کے لیے بھی ایک نئی دنیا پیدا کی۔رات کا اندھیرا مکمل اندھیرا نہیں رہا تھا۔آگ کے گرد بیٹھے ہوئے چند انسان شاید ہمیں بہت معمولی منظر لگیں، لیکن ممکن ہے کہ انسانی سماجی زندگی کی بہت سی کہانیاں اسی طرح کے چھوٹے دائروں سے شروع ہوئی ہوں۔
ایک دنیا، کئی انسان
یہاں ایک بات بار بار یاد رکھنا ضروری ہے۔Homo sapiens اس وقت دنیا کی واحد انسانی نوع نہیں تھا افریقہ اور اس کے آس پاس کے وسیع خطوں میں انسانی ارتقا کی مختلف شاخیں پہلے سے موجود تھیں۔ یورپ اور مغربی ایشیا میں Neanderthals موجود تھے، اور ایشیا کے کچھ علاقوں میں دوسری قدیم انسانی آبادیوں کی موجودگی کے شواہد بھی ملتے ہیں۔یعنی زمین پر “انسان” کی ایک ہی کہانی نہیں چل رہی تھی۔مختلف انسانی گروہ اپنی اپنی دنیا میں زندگی گزار رہے تھے۔کچھ شکار کے ماہر تھے، کچھ مختلف ماحول کے مطابق ڈھل چکے تھے، اور سب کے جسم اور دماغ میں اپنی اپنی ارتقائی تاریخ کے نشان موجود تھے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انسانی انواع کے درمیان تعلق ہمیشہ دشمنی یا مقابلے کا نہیں تھا۔ بعد کے جینیاتی شواہد نے بتایا کہ Homo sapiens اور Neanderthals کے درمیان اختلاط بھی ہوا۔لیکن اس زمانے میں یہ سب ہونے سے بہت پہلے انسان کی اپنی دنیا میں ایک اور تبدیلی آ رہی تھی۔اس کا دماغ صرف چیزوں کو یاد رکھنے اور شکار کرنے کے لیے نہیں تھا۔وہ دنیا کو معنی دینے کی صلاحیت بھی پیدا کر رہا تھا۔
تقریباً دو لاکھ سال پہلے: انسان اپنے آپ کو بناتا ہوا
دو لاکھ سال پہلے تک Homo sapiens کی جسمانی شکل مزید واضح ہو چکی تھی۔لیکن انسان کی کہانی صرف جسم کی کہانی نہیں تھی۔ایک انسان دوسرے انسان کو دیکھتا، اس کے اشارے سمجھتا، خطرے کی خبر دیتا، خوراک کی طرف اشارہ کرتا، بچوں کو چیزیں سکھاتا۔ آوازیں، اشارے، چہرے کے تاثرات اور اجتماعی تجربات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہوں گے۔ہم یہ نہیں جانتے کہ اس زمانے کی زبان بالکل کیسی تھی۔ ہمارے پاس کوئی قدیم ریکارڈنگ موجود نہیں، نہ کوئی تحریری جملہ۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ انسانی زندگی میں سماجی رابطہ اور معلومات کی منتقلی بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ایک انسان اکیلا کمزور تھا۔گروہ میں وہ زیادہ طاقتور تھا۔ایک شخص شکار دیکھتا، دوسرا راستہ جانتا، تیسرا خطرے سے آگاہ کرتا، اور بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے۔یہ وہ طاقت تھی جس نے انسان کو صرف جسمانی طاقت سے کہیں آگے پہنچایا۔
ایک لمبا انتظار
دو لاکھ سال سے لے کر تقریباً ایک لاکھ سال پہلے تک انسانی دنیا میں بہت کچھ بدلتا رہا، مگر یہ تبدیلی کسی فلم کی طرح ہر سال یا ہر نسل میں دکھائی نہیں دیتی۔ارتقا کا سفر بہت آہستہ ہوتا ہے۔ہزار سال انسان کی نظر میں بہت طویل زمانہ ہے، مگر انسانی ارتقا کے پیمانے پر یہ ایک لمحے سے زیادہ نہیں۔انسان اپنی جگہ بدلتا رہا، موسم بدلتے رہے، جانوروں کی دنیا بدلتی رہی، اور افریقہ کے مختلف حصوں میں انسانی آبادیوں کے درمیان رابطے کبھی بڑھتے اور کبھی کم ہوتے رہے۔کبھی کسی گروہ کو بہتر موسم ملا، کبھی خشک سالی نے اسے دوسری جگہ جانے پر مجبور کیا۔کبھی خوراک زیادہ تھی، کبھی کم۔کبھی دریا راستہ بن گیا، کبھی صحرا رکاوٹ بن گیا۔اور انسان ہر بار اپنے ساتھ ایک چیز لے کر چلتا رہا:
سیکھنے کی صلاحیت۔
یہی صلاحیت شاید انسان کی سب سے بڑی طاقت بننے والی تھی۔تقریباً ایک لاکھ سال پہلے: دنیا بدلنے لگیاب ہم انسانی تاریخ کے ایک ایسے دور کے قریب پہنچتے ہیں جس میں Homo sapiens کے افریقہ سے باہر جانے کے ابتدائی شواہد سامنے آتے ہیں۔تقریباً ایک لاکھ سال پہلے مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں Skhul اور Qafzeh جیسے مقامات سے Homo sapiens کے فوسلز ملے ہیں۔ یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان نے افریقہ سے باہر نکلنے کی کوششیں موجودہ کامیاب عالمی پھیلاؤ سے بہت پہلے شروع کر دی تھیں۔لیکن یہاں ایک دلچسپ بات ہے۔یہ ابتدائی باہر نکلنا شاید وہ آخری اور کامیاب ہجرت نہیں تھی جس نے بعد میں انسان کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔انسان کئی مرتبہ باہر نکلا ہوگا، کچھ گروہ آگے بڑھے ہوں گے، کچھ واپس آئے ہوں گے، اور کچھ آبادیوں کا سلسلہ وقت کے ساتھ ختم ہوگیا ہوگا۔یعنی “Out of Africa” کو ایک ہی دن یا ایک ہی سفر سمجھنا درست نہیں۔یہ ایک طویل داستان تھی۔اور ابھی اصل سفر باقی تھا۔
پچھتر ہزار سال پہلے کی دہلیز
اب ہم تقریباً 75,000 سال پہلے کے قریب پہنچتے ہیں۔یہ وہ زمانہ ہے جب دنیا ایک بار پھر بڑے ماحولیاتی اور انسانی تغیرات سے گزر رہی تھی۔ برفانی ادوار کے اثرات، خشک اور سرد ماحول، بدلتے ہوئے ساحلی علاقے اور خوراک کے بدلتے ذرائع انسانی زندگی کو مسلسل متاثر کر رہے تھے۔لیکن انسان کے پاس اب ایک اہم چیز تھی:تجربہ۔وہ مختلف ماحول میں رہنا سیکھ چکا تھا۔
وہ اوزار بنا سکتا تھا۔
وہ آگ استعمال کرتا تھا۔
وہ اجتماعی زندگی گزار سکتا تھا۔
وہ اپنے بچوں کو سکھا سکتا تھا۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ ضرورت کے مطابق اپنے طریقے بدل سکتا تھا۔تقریباً تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں موجود ایک نسبتاً معمولی سی انسانی آبادی سے شروع ہونے والی یہ کہانی اب ایک ایسے مقام پر آ پہنچی تھی جہاں اس نوع کے سامنے پوری دنیا کھلی پڑی تھی۔مگر ابھی Homo sapiens دنیا کا حکمران نہیں تھا۔
وہ صرف ایک شکاری انسانی نوع تھی، جو اپنے اردگرد موجود دوسری انسانی انواع، بڑے شکاری جانوروں، بدلتے موسم اور نامعلوم جغرافیے کے درمیان اپنی جگہ تلاش کر رہی تھی۔اسے ابھی افریقہ سے نکل کر ایشیا کے راستے طے کرنے تھے۔اسے Neanderthals سے ملنا تھا۔اسے ایسے علاقوں میں پہنچنا تھا جہاں اس سے پہلے اس کے آباؤ اجداد کبھی نہیں پہنچے تھے۔اور پھر، بہت آگے جا کر، اسے پوری دنیا میں پھیل جانا تھا۔تین لاکھ سال پہلے کی اس کہانی میں انسان ابھی صرف ایک مسافر تھا۔پچھتر ہزار سال پہلے تک وہ سفر کے ایک نئے دروازے پر کھڑا تھا۔
اور اس دروازے کے دوسری طرف وہ دنیا تھی جسے ہم آج جانتے ہیں۔
یہ انسان افریقہ سے نکل کر دنیا کے دوسرے حصوں تک کیسے پہنچا
