فکری چراغ
سید ابوالاعلی مودودی ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اسرار احمد
وہ لوگ جنھوں نے اللہ کی دھرتی پے اللہ کے نظام کی بات کی جنھوں نے قران کا ترجمہ اور تفسیر لکھ کر أج کے جدید زہن کو بتایا کہ یہ صرف ثواب حاصل کرنے کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کی کتاب ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے لٹریچر کی بنیاد پر تحریک برپا کی اور ایک بہت بڑے حلقہ کو متاثر کیا ۔۔۔ فرقہ واریت سے ہمیشہ نہ صرف دور رہے بلکہ اس کی نفی کرتے رہے ۔۔۔۔ جس چیز کو حق سمجھا اسے ڈنکے کی چوٹ پر بیان کیا ۔ یہ مودودی صاحب کی فکر کا ہی نتیجہ ہے کہ أج جماعت اسلامی ایک بہترین ادارہ بن چکا ہے ۔۔۔ أپ ان کی فکر سے اختلاف کر سکتے ہیں ان کی جماعت سے بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے اندر جماعت کے مثبت کاموں کی فہرست بھی اتنی طویل ہے کہ أپ ان کی تعریف کیے بنا بھی نہیں رہ سکتے ۔
اسی طرح تنظیم اسلامی بھی اپنی ڈومین میں بہترین کام کر رہی ہے۔
غامدی صاحب۔
مکتب فراہی کا ایک ہونہار شاگرد جس نے پورے دین کا خلاصہ کیا ۔۔۔۔ خود کو ہمیشہ دین کا طالب علم سمجھا ۔۔۔ عقیدہ توحید کو تصوف کی منازل طے کیے بغیر نہ صرف بیان کیا بلکہ تصوف کو ایک متوازی دین قرار دیا ۔ وہ شخص جس نے سنت اور حدیث کے فرق کو واضع کیا ۔ وہ شخص جس نے اپنے استاد محترم کی لکھی تفسیر تدبرالقران کو نہ صرف اون کیا بلکہ جہاں انھیں اختلاف ہوا وہاں شخصیت پرستی کے بجائے جس بات کو جس طرح سمجا اسے بیان کر دیا ۔۔۔۔ وہ شخص جس نے بتایا کے پیغمبر کے ساتھیوں صحابہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوے کس درجے کی احتیاط کرنی چاہیے اور ان کے بارے میں اگر تاریخ کے حوالے سے بات کرنی بھی ہے تو اتنی ہی کرنی ہے جتنی ہوٸی ہو ۔۔۔ ھمیشہ ان کے نام پر جھتے بنانے اور ان کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کی مخالفت کی ۔وہ شخص جس نے نہ صرف فرقہ واریت کی مخالفت کی بلکہ خود کو مین بلاک سنی شیعہ کی تفریق سے بھی أزاد ڈکلیٸر کیا اور خود کو قران کے دیے نام مسلم سے مخاطب کرنا پسند کیا ۔ وہ شخص جس نے اپنی کتاب میزان میں اسلام کے تمام پہلو کو ایڈریس کیا ۔ غامدی صاحب کا ادارہ المورد مغربی دنیا میں دعوت و تبلیغ کا کام کر رہا ہے ۔۔۔ ان کا مقصد مغربی ممالک میں بسنے والے لوگوں تک قران کا ترجمہ پہنچانا ہے۔
مولانا اسحاق ۔۔۔۔۔۔ انجنٸیر محمد علی مرزا
۔
مولانا اسحاق دین کے داعی فقہی مسائل کو ایڈریس کرنے والے ۔۔۔۔۔ یوں تو بہت سے اہل علم کا یہ موضوع ہوتا ہے لیکن دو باتیں جو انھیں اپنے دوسرے ہم عصروں سے جدا کرتی ہیں ۔
اگرچہ ان کا رواٸتی فکری پس منظر تھا لیکن انھوں نے بغیر کسی کی پرواہ کیے فقہی مسائل کو ایڈریس کیا۔ جس وجہ سے بہت جلد وہ اپنی مزہبی حلقے میں غیر مقبول اور عوام میں مقبول ہونا شروع ہو گٸے ۔ انھوں نے اپنے اکابرین کی کتابوں سے نکال کر لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ یہ بات اس طرح جو أج بیان کی جا رہی ہے وہ اس طرح کتابوں میں لکھی ہے۔
دوسرا انھوں نے فروعی مسائل کو صرف فروعی مسائل ہی کی طرح ایڈریس کیا ۔۔۔ انھوں نے اس پر ایمان و کفر کے فتوے نہیں لگاٸے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اہل سنت کی حدیث کی کتابوں سے نکال کر بتایا کہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا بھی جاٸز ہے ۔ انھوں نے اپنی زندگی میں شیعہ سنی مسائل کو کھل کر ایڈریس کیا اور امت کی اس تفریق کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ان کے ویڈیوز کی صورت میں پڑھے علمی لیکچرز ہمیشہ کیلٸے انھیں امر کر گٸے ۔أپ اگر فق کے طالب علم ہو تو پھر ان کے دیے لیکچرز نہ صرف أپ کیلٸے فاٸدہ مند ہونگے بلکہ أپ کیلے بہت سے علمی راستے کھول دیں گے جو أپ کا سوچنے کا انداز بدل دیں گے۔
انجنیٸر محمد علی مرزا جنھوں نے بہت کم عرصے میں سوشل میڈیا کے زریعے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ۔ انھوں نے بھی زیادہ تر اختلافی موضع پر بات کی ۔یہ وہ شخص ہے جس نے لوگوں کو شخصیت پرستی کے بت سے أزاد کیا ۔۔۔ تصوف اور طریقت کے نام پر کچھ گستاخانہ عبارات کی انھوں نے کھل کر نفی کی ۔۔۔ ہر جگہ بیٹھے جعلی پیروں اور پیشواٸوں پر کھل کے بات کی۔ أپ اس شخصیت کے انداز بیان سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن جس طرح اس شخص نے سنی شیعہ کی فکر کو اور مسائل کو ایڈریس کیا وہ بہرحال قابل دید ہیں ۔
ڈاکٹر زاکر ناٸیک
ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے بلا کا حافظہ دیا ۔ وہ تقابل ادیان کے بہترین استاد مانے جاتے ہیں ۔ وہ ایک ایسی سوسائٹی میں پیدا ہوٸے جہان بت پرستی باقاعدہ مزہب کا درجہ رکھتی ہے ۔ ایسے میں وہاں اللہ اور اس کے رسول کی بات کرنا اور لاکھوں لوگوں کو کلمہ پڑھا کر دین اسلام میں داخل کرانا اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے مزہب کے پادری کو اسلام پر اٹھاٸے گٸے اعتراضات پر مدلل جواب دینا یہ سب اسی شخص کے زریعے ہوا ۔ اور پھر اس شخص کا مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ڈنکے کی چوٹ پر خود کو سنی شیعہ بلاک سے علیدہ کرنا اور فرقہ واریت کی نفی کرنا یہ سب اسی شخص کا وصف ہو سکتا ہے ۔۔۔ جو اللہ کی بات اللہ کی رضا کیلٸے کرے ۔ڈاکٹر زاکر ناٸیک کا لٹریچر کتابوں اور ویڈیوز کی صورت میں رہتی دنیا تک طالب علم کو فاٸدہ دیتا رہے گا۔
نوٹ :
وہ لوگ جو ان کو فالو کرتے ہیں ان کی فکر سے متاثر ہوتے ہیں وہ یہ حقیقت جان لیں کہ یہ بھی بہرحال انسان تھے اور انسان غلطی کا پتلا ہے ۔۔۔ اس لیے ایک استاد شاگرد کا رشتہ اپناتے ہوٸے ان سے علم ضرور حاصل کریں لیکن ان کے نام پر جھتے بنانے تاویلیں دینے اور ان کی فکر سے اختلاف رکھنے والوں پر کسی قسم کی فتوے بازی سے پرہیز کریں ۔اور ہر قسم کی شخصیت پرستی سے بچیں ۔
دوسرا وہ لوگ جو ان کی فکر سے اختلاف رکھتے ہیں انھیں بھی چاہیے کہ وہ دوسروں پر کفر کے فتوے لگانے اور گالم گلوچ کرنے سے پہلے اس بات پر ایک دفعہ غور تو کریں کہ أخر کوٸی تو بات ہے جو یہ رواٸتی فکر سے ہٹ کر سوچنے والوں نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا ۔۔۔
باقی جھگڑا کس بات کا اگر أپ ایک اللہ کی بات کرنے والے ہو۔
اس کے رسول کی تعلیمات کو اپنانے والے ہو۔
اللہ کا قران سنانے والے ہو ۔
أخرت کے بارے میں خبردار کرنے والے ہو ۔
تو پھر جھگڑا کس بات کا ۔۔۔ اختلاف کیسا اور اختلاف ہے بھی تو دوسروں کی نیتوں پر شک کرنا کیسا ۔۔۔۔۔
کیوں نہ اللہ عزوجل کے فیصلے اسی کو کرنے دیں ۔
لوگوں کے ایمان و کفر کے اور جنت اور جہنم کے فیصلے اسی کو کرنے دیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔
مزہبی ضرور بنو لیکن اتنے نہیں کہ ہر دوسرا شخص گمراہ لگنے لگے۔
السلام و علیکم
مکمل تحریر یہاں پڑھیں۔
https://sochwithsmile.com
