چنگیز خان اور جوجی خان


جوجی خان، چنگیز خان کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ کا نام بورٹے تھا۔ جوجی کی پیدائش تقریباً 1182ء کے آس پاس ہوئی۔ جوجی کے والد چنگیز خان نے منگول قبائل کو متحد کرکے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی، جبکہ جوجی نے اس سلطنت کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
جوجی کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ بورٹے کو مخالف قبیلے کے لوگوں نے کچھ عرصے کے لیے قید کر لیا تھا۔ اسی وجہ سے بعد میں جوجی کی نسبت کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے، لیکن چنگیز خان نے جوجی کو اپنا بیٹا تسلیم کیا اور اسے اپنے دوسرے بیٹوں کے برابر اہم مقام دیا۔
چنگیز خان اور جوجی کے تعلقات ہمیشہ مکمل طور پر ہموار نہیں رہے۔ بعض مواقع پر دونوں کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوئے، خصوصاً جوجی کے بھائی چغتائی کے ساتھ جوجی کے تعلقات خراب تھے۔ تاہم سیاسی اور عسکری اعتبار سے جوجی چنگیز خان کے قابل اعتماد بیٹوں میں شمار ہوتے تھے۔

چنگیز خان نے اپنی وسیع سلطنت کو اپنے بیٹوں کے درمیان مختلف علاقوں اور ذمہ داریوں میں تقسیم کیا۔ جوجی کو سلطنت کا مغربی حصہ ملا، جس میں موجودہ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کی سمت وسیع علاقے شامل تھے۔
جوجی کا اصل علاقہ آج کے نقشے میں تقریباً قازقستان، مغربی سائبیریا، ازبکستان کے بعض حصوں، روس کے جنوبی علاقوں اور مشرقی یورپ کے بعض علاقوں تک پھیلا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ البتہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس زمانے کی سرحدیں آج کی قومی سرحدوں جیسی نہیں تھیں۔
جوجی کو دریائے اِرتش کے مغرب سے لے کر دشتِ قپچاق اور آگے یورپ کی سمت علاقوں پر اختیار حاصل ہوا۔ بعد میں اسی سیاسی وراثت سے جوجی اولوس (Jochi Ulus) وجود میں آیا، جو آگے چل کر گولڈن ہورڈ (Golden Horde) کے نام سے مشہور ہوا۔


جوجی کے زیرِ اختیار یا اس کے اولوس سے وابستہ خطہ آج کے کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے۔ اس میں بالخصوص:
قازقستان، روس، ازبکستان، ترکمانستان کے بعض علاقے، یوکرین کے بڑے حصے اور مشرقی یورپ کے بعض علاقے شامل تھے۔
تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موجودہ پورا ملک جوجی کی سلطنت کا حصہ تھا، کیونکہ جدید ریاستوں کی سرحدیں اس دور سے بالکل مختلف ہیں۔

جوجی نے چنگیز خان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً خوارزم شاہی سلطنت کے خلاف منگول مہمات میں جوجی شامل رہے۔ 1219ء سے شروع ہونے والی منگول فتوحات کے نتیجے میں وسطی ایشیا کے بڑے حصے منگول سلطنت میں شامل ہوگئے۔
جوجی کو بعد میں مغربی علاقوں کی طرف مزید فتوحات کا کام سونپا گیا۔ اس کے زیر اثر دشتِ قپچاق کے علاقوں میں منگول اقتدار مضبوط ہوا۔
جوجی کی فوجی طاقت اور اس کے وسیع علاقے نے اسے چنگیز خان کے بعد ایک اہم سیاسی شخصیت بنا دیا تھا۔ لیکن جوجی اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا گئے، اس لیے وہ اپنی وسیع جاگیر کو مکمل طور پر ایک مستقل سلطنت میں تبدیل نہ کر سکے۔


جوجی اور ان کے بھائی چغتائی کے درمیان اختلافات مشہور ہیں۔ بنیادی مسئلہ جوجی کی پیدائش کے حوالے سے اٹھنے والے شکوک اور دونوں بھائیوں کی باہمی رقابت تھی۔
روایات میں آتا ہے کہ چغتائی نے جوجی کی نسبت پر اعتراض کیا، جس سے دونوں بھائیوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوئی۔ چنگیز خان نے اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی اور دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف جانے سے روکا۔
یہ اختلاف بعد میں منگول سلطنت کی تقسیم کے سیاسی مسائل میں بھی اہم بن گیا۔


جوجی کا کوئی ایسا زوال نہیں ہوا جس میں وہ کسی جنگ میں شکست کھا کر اقتدار سے محروم ہوئے ہوں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ چنگیز خان سے پہلے ہی وفات پا گئے۔
جوجی کی وفات تقریباً 1225ء یا 1227ء میں ہوئی۔ ان کی موت کی قطعی تاریخ اور سبب کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔
جوجی کی وفات چنگیز خان کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے ہوئی۔ اس وجہ سے جوجی خود منگول سلطنت کے عظیم خان نہ بن سکے۔


جوجی کی وفات کے بعد ان کا بیٹا باتو خان (Batu Khan) ان کے خاندان کا سب سے اہم حکمران بن کر سامنے آیا۔
چنگیز خان کی وفات 1227ء میں ہوئی۔ اس کے بعد منگول سلطنت کا مرکزی اقتدار اوگتائی خان کے پاس گیا، جبکہ جوجی کے خاندان کو مغربی علاقوں میں اپنی سیاسی طاقت برقرار رکھنے کا موقع ملا۔
باتو خان نے بعد میں ایک عظیم مغربی مہم کی قیادت کی۔ 1236ء سے 1242ء کے درمیان منگول فوجوں نے روسی ریاستوں کو شکست دی اور وسطی و مشرقی یورپ تک پیش قدمی کی۔
اسی عمل کے نتیجے میں جوجی خاندان کا اقتدار دشتِ قپچاق اور روسی علاقوں میں بہت مضبوط ہوگیا۔


گولڈن ہورڈ کا قیام


جوجی کی اولاد نے بعد میں ایک طاقتور ریاست قائم کی جسے تاریخ میں گولڈن ہورڈ کہا جاتا ہے۔ اس کا مرکز دریائے وولگا کے علاقے میں تھا اور اس نے روسی ریاستوں پر طویل عرصے تک بالادستی قائم رکھی۔
گولڈن ہورڈ کو جوجی کی سیاسی میراث کا سب سے اہم نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ریاست نے روس، قازقستان، یوکرین اور مشرقی یورپ کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔


جوجی خاندان کی سیاسی طاقت کئی صدیوں تک مختلف شکلوں میں برقرار رہی۔ گولڈن ہورڈ تقریباً 13ویں صدی کے وسط سے 15ویں صدی تک ایک بڑی طاقت رہی، اگرچہ اس کے آخری دور میں یہ کئی خانیتوں میں تقسیم ہوگئی۔
15ویں صدی میں گولڈن ہورڈ کی مرکزی طاقت بہت کمزور ہوگئی اور اس کی جگہ مختلف خانیتیں وجود میں آئیں، جن میں قازان خانیت، قریم خانیت، استراخان خانیت اور سائبیریائی خانیت اہم تھیں۔
اس لیے جوجی خاندان کا سیاسی ورثہ صرف گولڈن ہورڈ کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی مختلف شاخیں بعد کی صدیوں تک موجود رہیں۔


گولڈن ہورڈ کے زوال کے بعد اس کے سابق علاقوں پر مختلف طاقتوں نے قبضہ کیا۔ روسی طاقت خاص طور پر تیزی سے مضبوط ہوئی۔
1480ء میں دریائے اوگرا کے واقعے کو عموماً ماسکووی روس کی طرف سے گولڈن ہورڈ کی بالادستی سے عملی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد روسی ریاست مزید طاقتور ہوتی گئی۔
بعد میں روس نے سابق منگول خانیتوں کے علاقوں کو بھی فتح کرنا شروع کیا۔ 1552ء میں قازان خانیت اور 1556ء میں استراخان خانیت روسی سلطنت میں شامل ہوئیں۔ قریم خانیت اس کے بعد بھی کچھ عرصہ قائم رہی اور بالآخر 1783ء میں روسی سلطنت نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔
اس طرح جوجی کی میراث سے پیدا ہونے والی مختلف خانیتیں مختلف اوقات میں ختم ہوئیں، اس لیے “آخری قبضہ” کے لیے ایک ہی تاریخ دینا درست نہیں ہوگا۔


جوجی کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ ان کی اولاد نے منگول سلطنت کے مغربی حصے کو ایک طویل عرصے تک ایک طاقتور سیاسی خطے میں تبدیل کیا۔
جوجی خود چنگیز خان کے بعد عظیم خان نہیں بن سکے، لیکن ان کا خاندان منگول سلطنت کی سب سے طاقتور شاخوں میں شامل ہوگیا۔ باتو خان اور اس کے بعد آنے والے جوجی خاندان کے حکمرانوں نے روس، قازقستان، یوکرین اور مشرقی یورپ کی تاریخ کو کئی صدیوں تک متاثر کیا۔
آج بھی قازقستان، روس اور وسطی ایشیا کی تاریخ میں جوجی اور ان کی اولاد کا ذکر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ قازق خانیت کے حکمران بھی اپنے نسب کو جوجی خان اور بالآخر چنگیز خان سے جوڑتے تھے۔


چنگیز خان نے منگول قبائل کو متحد کرکے ایک وسیع سلطنت قائم کی اور اپنے بیٹوں میں اس سلطنت کے مختلف حصے تقسیم کیے۔ جوجی، ان کے سب سے بڑے بیٹے، کو مغربی علاقوں کی ذمہ داری ملی۔ جوجی کی جاگیر میں دشتِ قپچاق اور موجودہ قازقستان، روس، یوکرین اور مشرقی یورپ کے وسیع علاقے شامل تھے۔
جوجی تقریباً 1225ء/1227ء میں اپنے والد سے پہلے وفات پا گئے، اس لیے وہ خود اپنے حصے کی مکمل سیاسی تنظیم نہ کر سکے۔ ان کے بیٹے باتو خان نے مغربی علاقوں میں منگول طاقت کو بہت وسعت دی اور بعد میں گولڈن ہورڈ وجود میں آئی۔ یہ ریاست کئی نسلوں تک روس اور مشرقی یورپ کی سیاست پر اثرانداز رہی۔ بالآخر 15ویں صدی میں گولڈن ہورڈ کی مرکزی طاقت ختم ہوئی اور اس کی جگہ مختلف خانیتوں نے لے لی، جن میں سے کئی بعد میں روسی سلطنت کے قبضے میں آگئیں۔


The Secret History of the Mongols — Paul Kahn / Igor de Rachewiltz کے تراجم و مطالعات
The Mongols and the West, 1221–1410 — Peter Jackson
The Mongol Empire: A Historical Encyclopedia — Timothy May
The Cambridge History of Inner Asia: The Chinggisid Age — مختلف محققین
The Mongols — David Morgan
Jochi: The First Son of Genghis Khan — جوجی کی زندگی اور جوجی خاندان سے متعلق جدید مطالعات
The Golden Horde in World History — Golden Horde اور جوجی خاندان کی تاریخ سے متعلق تحقیقی مطالعات

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top