یونان کا سفر

شہر، جمہوریت، فلسفہ اور سکندر اعظم تک

پچھلے سفر میں ہم یونان کے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔ اب ہم اسی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں۔
لیکن یونان کو سمجھنے کے لیے صرف یہ جان لینا کافی نہیں کہ یہاں بڑے فلسفی پیدا ہوئے، جمہوریت آئی اور سکندر اعظم نے ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ اصل کہانی اس سے پہلے شروع ہوتی ہے، ان چھوٹے چھوٹے شہروں سے جہاں انسان پہلی مرتبہ یہ تجربہ کر رہا تھا کہ ایک شہر کو صرف بادشاہ ہی نہیں، شہری بھی چلا سکتے ہیں۔
یونان کی زمین بھی آسان نہیں تھی۔ پہاڑ، جزیرے اور سمندر نے یہاں ایک بڑی متحد سلطنت کے بجائے بہت سی چھوٹی سیاسی برادریاں پیدا کیں۔ ایک شہر دوسرے سے الگ تھا، لیکن سمندر انہیں تجارت، سفر اور خیالات کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑتا تھا۔
اسی ماحول میں polis یعنی شہر ریاست پیدا ہوئی۔
یہ صرف ایک شہر نہیں ہوتا تھا۔ اس میں شہر، آس پاس کی زمین، شہری، قوانین، مذہبی روایات اور اپنی سیاسی شناخت شامل ہوتی تھی۔ Athens ایک الگ ریاست تھی، Sparta الگ، Corinth الگ اور Thebes الگ۔
یہ چھوٹی دنیا بظاہر تقسیم تھی، مگر اسی تقسیم نے یونانی ذہن کو ایک عجیب آزادی بھی دی۔ ہر شہر اپنے نظام کے ساتھ تجربہ کر سکتا تھا۔ کہیں بادشاہت تھی، کہیں اشرافیہ کا غلبہ، کہیں محدود طبقہ حکومت کرتا تھا اور کہیں ایک ایسا نظام پیدا ہوا جس نے بعد میں پوری دنیا کی سیاسی تاریخ بدل دی۔

ایتھنز اور جمہوریت کی ابتدا

ایتھنز میں ابتدا ہی سے جمہوریت نہیں تھی۔
اقتدار پہلے بااثر خاندانوں اور اشرافیہ کے ہاتھ میں تھا۔ عام شہریوں اور حکمران طبقے کے درمیان معاشی اور سیاسی فاصلے بڑھتے گئے۔ قرض اور زمین کے مسائل نے معاشرے میں بے چینی پیدا کی۔
چھٹی صدی قبل مسیح کے آغاز میں Solon نے اصلاحات کیں۔ اس نے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور سیاسی نظام میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی۔ لیکن ایتھنز ابھی مکمل جمہوری ریاست نہیں بنا تھا۔
Cleisthenes کا دور آیا۔
تقریباً 508/507 قبل مسیح کے آس پاس اس کی اصلاحات نے ایتھنز کے سیاسی نظام کو ایک نئی بنیاد دی۔ شہریوں کی سیاسی تنظیم کو پرانے خاندانی اور علاقائی اثرات سے کچھ حد تک الگ کرکے نئے انتظامی ڈھانچے میں ترتیب دیا گیا۔ اسی عمل کو عام طور پر ایتھنز کی جمہوریت کے قیام کی بنیادی منزل سمجھا جاتا ہے۔
یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے۔
یہ آج کی جمہوریت نہیں تھی۔
خواتین، غلام اور غیر شہری اس سیاسی نظام میں برابر کے شہری نہیں تھے۔ صرف بالغ مرد شہری سیاسی عمل میں حصہ لے سکتے تھے۔
اس لیے جب ہم کہتے ہیں کہ جمہوریت یونان میں پیدا ہوئی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جدید جمہوریت مکمل شکل میں وہاں موجود تھی۔
اصل بات یہ ہے کہ ایتھنز نے ایک ایسا سیاسی تجربہ شروع کیا جس میں شہری براہِ راست ریاست کے اہم فیصلوں میں شریک ہوتے تھے۔
یہ تجربہ انسانی سیاسی تاریخ میں غیر معمولی تھا۔
آج جب ہم پارلیمنٹ، ووٹ، شہری حقوق، عوامی نمائندگی اور سیاسی شرکت کی بات کرتے ہیں تو ان تمام تصورات کی تاریخ سیدھی ایتھنز سے نہیں آتی، لیکن ایتھنز نے یہ سوال ضرور بہت پہلے دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا کہ:
حکومت صرف حکمرانوں کی چیز ہے یا شہری بھی حکومت کے فیصلے کر سکتے ہیں؟
یہ سوال آج بھی دنیا کی سیاست کے مرکز میں موجود ہے۔
ایتھنز کا شہری اور شہر کی نئی شکل
ایتھنز میں سیاست صرف محل کے اندر ہونے والی چیز نہیں تھی۔
شہری خود اجتماعی زندگی کا حصہ تھا۔ Agora شہر کا ایسا مرکزی مقام تھا جہاں تجارت، ملاقات، گفتگو اور سیاسی زندگی ایک دوسرے سے ملتی تھیں۔
یہاں سے ہمیں جدید شہر کی ایک بہت پرانی شکل دکھائی دیتی ہے۔
آج ہمارے شہروں میں بازار، پارلیمنٹ، عدالت، یونیورسٹی، عوامی چوک اور شہری مراکز الگ الگ شکلوں میں موجود ہیں۔ قدیم یونانی شہر میں بھی عوامی جگہ شہری زندگی کا مرکز بن رہی تھی۔
بعد میں Hippodamus of Miletus جیسے مفکر اور منصوبہ ساز نے شہروں کی باقاعدہ planning کے خیالات کو فروغ دیا۔ سڑکوں کو منظم grid کی شکل میں ترتیب دینے کا تصور بعد کے کئی شہروں میں استعمال ہوا۔
یعنی یونانی دنیا صرف فلسفہ نہیں سوچ رہی تھی۔
وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ انسان کو شہر میں کیسے رہنا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ آج urban planning کی تاریخ پڑھتے ہوئے یونانی شہر ریاستوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پھر انسان نے دنیا کے بارے میں سوال کرنا شروع کیا

لیکن یونان کی سب سے بڑی تبدیلی شاید سیاسی نہیں بلکہ ذہنی تھی۔
اس سے پہلے بھی مصر، Mesopotamia، بابل، ہندوستان اور دوسری قدیم تہذیبوں میں ریاضی، فلکیات، طب اور فطرت کے بارے میں گہرا علم موجود تھا۔ یونانیوں نے علم ایجاد کرنے کی پوری دنیا کی ابتدا نہیں کی تھی۔
لیکن یونان میں ایک خاص اندازِ فکر زیادہ نمایاں ہوا۔
انسان نے روایتی کہانی سنانے کے ساتھ ساتھ یہ پوچھنا شروع کیا کہ:

چیزیں حقیقت میں کیوں ہوتی ہیں؟

Miletus کے Thales جیسے ابتدائی مفکرین نے کائنات کی بنیادی حقیقت کو دیوتاؤں کی داستانوں کے بجائے قدرتی اصولوں سے سمجھنے کی کوشش کی۔ Anaximander اور Anaximenes نے بھی کائنات کی اصل کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب انسانی ذہن نے ایک نیا راستہ آزمایا۔

روایت کے مقابلے میں دلیل۔

کہانی کے ساتھ مشاہدہ۔
اور عقیدے کے ساتھ سوال۔
یہی وہ ذہنی روایت تھی جس نے بعد میں فلسفے کو ایک باقاعدہ علمی سرگرمی بنانے میں مدد دی۔

سقراط: سوال کرنے والا انسان

پھر پانچویں صدی قبل مسیح میں Socrates سامنے آتا ہے۔
اس نے کوئی کتاب نہیں لکھی، لیکن اس کے سوالات نے فلسفے کی تاریخ بدل دی۔
وہ لوگوں سے پوچھتا تھا کہ انصاف کیا ہے، اچھائی کیا ہے، علم کیا ہے، بہادری کیا ہے اور ایک اچھا انسان کیسے زندگی گزارے۔
اس کا طریقہ سادہ تھا لیکن گہرا۔
وہ جواب دینے والے سے سوال کرتا، پھر اس کے جواب میں موجود تضاد تلاش کرتا، پھر دوبارہ سوال کرتا۔
یوں گفتگو خود تحقیق بن جاتی۔
Socrates کے لیے فلسفہ صرف کائنات کے بارے میں نظریہ نہیں تھا۔
یہ اپنی زندگی کو جانچنے کا طریقہ بھی تھا۔
اس کی یہی روش آج کے critical thinking کے تصور سے ایک اہم تاریخی تعلق رکھتی ہے۔ جدید فلسفہ براہِ راست صرف سقراط سے نہیں نکلا، لیکن سوال، دلیل، تعریف اور منطقی جانچ کا جو انداز بعد کی فلسفیانہ روایت میں بہت اہم ہوا، اس میں سقراطی طریقۂ گفتگو کا بڑا مقام ہے۔

افلاطون اور ارسطو: سوال سے نظام تک

سقراط کی موت کے بعد اس کا شاگرد Plato سامنے آیا۔
افلاطون نے فلسفے کو صرف سوالات کی گفتگو تک محدود نہیں رکھا بلکہ اخلاق، سیاست، علم، حقیقت اور ریاست کے بارے میں وسیع نظریات پیش کیے۔
اس کی کتاب Republic میں مثالی ریاست، انصاف اور حکمران کے بارے میں بحث ملتی ہے۔
یہاں ایک عجیب تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے۔
جس شہر نے جمہوریت کو جنم دیا، اسی شہر میں رہنے والے افلاطون نے جمہوریت پر سخت سوالات بھی اٹھائے۔
یعنی یونانی دنیا میں جمہوریت صرف ایک قابلِ تعریف تصور نہیں تھی؛ وہ بحث، تنقید اور تجربے کا موضوع بھی تھی۔
یہی شاید یونانی ذہن کی اصل طاقت تھی۔
وہ اپنے ہی نظام سے اختلاف کرنے کی گنجائش رکھتا تھا۔

پھر افلاطون کا شاگرد Aristotle آیا۔

ارسطو نے سیاست کو صرف مثالی ریاست کے سوال تک محدود نہیں رکھا۔ اس نے مختلف آئینی نظاموں کا تقابل کیا، حکومت کی اقسام پر بحث کی، منطق کو منظم کیا، حیاتیات، طبیعیات، اخلاق، سیاست اور علم کے کئی شعبوں پر کام کیا۔
بعد کی مغربی علمی روایت پر اس کا اثر اتنا وسیع ہوا کہ صدیوں تک یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے مفکرین اس کے کام کے ساتھ بحث کرتے رہے۔
افلاطون اور ارسطو کے ذریعے یونانی فلسفہ ایک ایسی روایت بن گیا جس میں اخلاق، سیاست، علم اور حقیقت الگ الگ خانے نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے سے جڑ گئے۔
آج modern philosophy میں epistemology، ethics، metaphysics، logic اور political philosophy جیسے جو بڑے شعبے ہمیں نظر آتے ہیں، ان کی اصطلاحات اور مکمل جدید شکلیں بعد میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کے بنیادی سوالات کی جڑیں قدیم یونانی فلسفے تک پہنچتی ہیں۔

سپارٹا، ایتھنز اور جنگ

لیکن یونان صرف فلسفہ پڑھنے والوں کی دنیا نہیں تھا۔
یہ جنگوں کی دنیا بھی تھی۔
Sparta نے ایک بالکل مختلف معاشرہ بنایا تھا۔ یہاں فوجی تربیت، نظم و ضبط اور اجتماعی ریاستی زندگی کو بہت اہمیت حاصل تھی۔
دوسری طرف Athens تجارت، سمندری طاقت، سیاست، فن، فلسفہ اور شہری زندگی کا بڑا مرکز بن گیا۔
پھر دونوں کے درمیان کشمکش بڑھی اور Peloponnesian War نے یونانی دنیا کو طویل عرصے تک اپنی لپیٹ میں رکھا۔
ایتھنز کمزور ہوا۔
Sparta طاقتور ہوا۔
پھر Sparta بھی اپنی برتری برقرار نہ رکھ سکا۔
یونانی شہر ریاستیں ایک دوسرے سے لڑتے لڑتے اتنی تقسیم ہوئیں کہ ان کے اوپر ایک نئی طاقت کے لیے راستہ بن گیا۔
یہ طاقت جنوب سے نہیں بلکہ شمال سے آنے والی تھی۔

مقدونیہ کا عروج

مقدونیہ کا بادشاہ Philip II سمجھ گیا تھا کہ یونانی شہر ریاستیں آپس کی جنگوں سے تھک چکی ہیں۔
اس نے اپنی فوج کو منظم کیا، خاص طور پر مشہور Macedonian phalanx کو مؤثر انداز میں استعمال کیا، سفارت کاری کی اور آخرکار یونانی ریاستوں پر اپنا اثر قائم کر لیا۔
338 قبل مسیح میں Battle of Chaeronea میں Philip کی فوج نے Athens اور اس کے اتحادیوں کو شکست دی۔
اب یونانی شہر ریاستوں کی سیاسی آزادی پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
لیکن Philip صرف یونان پر قبضہ کرکے رکنے والا نہیں تھا۔
اس کی نظر اس عظیم سلطنت پر تھی جو یونان کے مشرق میں پھیلی ہوئی تھی:

Persian Empire۔
اس نے فارس کے خلاف مہم کی تیاری شروع کی۔
لیکن تاریخ نے اسے زیادہ وقت نہیں دیا۔
336 قبل مسیح میں Philip II قتل ہوگیا۔
اور اب تخت پر ایک نوجوان آیا۔
اس کی عمر تقریباً بیس سال تھی۔

نام تھا:

Alexander۔
سکندر اعظم

سکندر نے اقتدار سنبھالتے ہی بغاوتوں کو دبایا اور یونانی دنیا پر مقدونیہ کی گرفت برقرار رکھی۔
پھر 334 قبل مسیح میں وہ ایشیا کی طرف روانہ ہوا۔
اس کے سامنے فارسی سلطنت تھی۔
اس کے پاس ایک بڑی فوج تھی، لیکن اس کی اصل طاقت صرف فوج نہیں تھی۔ وہ تیز فیصلہ کرنے، مختلف حالات کے مطابق جنگی حکمت عملی بدلنے اور دشمن کے کمزور مقام پر براہِ راست حملہ کرنے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا تھا۔
Granicus، Issus اور پھر Gaugamela کی لڑائیوں کے بعد فارسی سلطنت کی طاقت ٹوٹنے لگی۔

سکندر مصر پہنچا۔

وہاں اس نے شہر Alexandria قائم کیا، جو بعد میں قدیم دنیا کے بڑے علمی اور تجارتی مراکز میں شامل ہوا۔
پھر وہ فارس کے قلب میں داخل ہوا۔
Persepolis اس کے قبضے میں آیا۔
لیکن سکندر کا سفر یہاں بھی نہیں رکا۔
وہ وسطی ایشیا کی طرف بڑھا، پھر ہندوستان کے شمال مغربی حصوں تک پہنچا۔
اس کا لشکر آخرکار دریائے Beas کے قریب رک گیا۔ سپاہی مزید آگے جانے سے تھک چکے تھے اور سکندر کو واپس مڑنا پڑا۔
تقریباً ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصے میں ایک نوجوان مقدونی بادشاہ نے یونان سے لے کر مصر، فارس اور وسطی ایشیا کے وسیع علاقوں تک ایک ایسی سلطنت قائم کر دی تھی جس نے قدیم دنیا کے نقشے کو بدل دیا۔
لیکن سکندر کی سب سے بڑی میراث صرف اس کی فتح شدہ زمینیں نہیں تھیں۔
اس کے ساتھ یونانی زبان، فن، فلسفہ، سیاسی روایات اور علمی روایت بھی وسیع دنیا میں پھیل گئی۔
یہیں سے Hellenistic World کی بنیاد پڑتی ہے۔
یونانی اور مشرقی دنیا ایک دوسرے سے ملنے لگیں۔
اور اس ملاقات سے ایک نئی تہذیبی دنیا پیدا ہونے والی تھی۔
لیکن سکندر خود اس نئی دنیا کو زیادہ دیر دیکھ نہ سکا۔

32 سال کی عمر میں، سکندر اعظم بابل میں وفات پا گیا۔

اس کی سلطنت ایک ہی حکمران کے ہاتھ میں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
مگر اس کا سفر ختم ہونے کے باوجود اس کے اثرات کا سفر شروع ہو چکا تھا۔
یونان نے دنیا کو صرف شہر نہیں دیے تھے۔
اس نے ایک سیاسی تجربہ دیا۔
اس نے فلسفے کے بنیادی سوالات کو نئی شکل دی۔
اس نے منطق، سیاست اور اخلاق پر منظم بحث کی۔
اس نے شہری زندگی اور شہر کی planning کے ایسے تصورات پیدا کیے جو بعد کے ادوار میں مختلف شکلوں میں واپس آئے۔
اور سکندر کے ذریعے یونانی دنیا کا یہ فکری ورثہ مشرقی دنیا کے بہت بڑے حصے سے جا ملا۔

اب تاریخ کا اگلا باب صرف یونان کا نہیں رہا تھا۔

یہ یونانی، مصری، ایرانی، وسطی ایشیائی اور ہندوستانی دنیا کے باہمی میل کا باب بننے والا تھا۔
اور اسی نئی دنیا سے آگے چل کر روم، عیسائیت، اسلامی تہذیب اور جدید دنیا تک جانے والے کئی راستے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top