سقراط کی دنیا

یونان کی گلیوں میں ایک ایسا آدمی گھوما کرتا تھا جس کے پاس نہ کوئی محل تھا، نہ کوئی مدرسہ، نہ کوئی کتاب اور نہ ہی کوئی سرکاری عہدہ۔ وہ عام سا لباس پہنتا، ننگے پاؤں چلتا اور لوگوں سے باتیں کرتا تھا۔ مگر اس کی ایک عجیب عادت تھی: وہ ہر بات کو سوال بنا دیتا تھا۔
اس آدمی کا نام سقراط تھا۔
تقریباً 470 قبل مسیح میں ایتھنز میں پیدا ہونے والا سقراط کسی بادشاہ کا بیٹا نہیں تھا۔ وہ نہ کسی سلطنت کا حکمران تھا اور نہ کسی فوج کا سپہ سالار۔ اس کی اصل طاقت اس کی زبان اور اس کا سوال تھا۔ وہ بازار میں ملنے والے عام آدمی سے بھی بات کرتا اور شہر کے بڑے سیاست دان، شاعر یا استاد سے بھی۔
اس زمانے کا یونان پہلے ہی علم، سیاست اور بحث کا مرکز بن چکا تھا۔ ایتھنز میں جمہوریت کا تجربہ جاری تھا، تقریری مقابلے ہوتے تھے، فلسفی کائنات کے بارے میں سوچ رہے تھے اور Sophists نوجوانوں کو تقریر، دلیل اور سیاسی زندگی کے لیے تیار کرتے تھے۔
لیکن سقراط نے گفتگو کا رخ کچھ اور طرف موڑ دیا۔
وہ یہ پوچھنے لگا کہ اچھا انسان کون ہے؟ انصاف کیا ہے؟ بہادری کیا ہے؟ علم کیا ہے؟ نیکی کیا ہے؟
اس کے سوالات بظاہر بہت سادہ تھے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ جن لوگوں کے پاس ان سوالات کے بڑے بڑے جواب تھے، سقراط ان سے ایک چھوٹا سا اگلا سوال پوچھ دیتا تھا۔
اور پھر ایک عجیب بات ہوتی۔
جو شخص چند لمحے پہلے پورے اعتماد سے کہہ رہا ہوتا کہ “میں جانتا ہوں”، کچھ دیر بعد خود اپنی بات کے بارے میں سوچنے لگتا۔
یہی سقراط کا اصل کمال تھا۔
وہ لوگوں کو صرف جواب نہیں دیتا تھا، بلکہ انہیں یہ احساس دلاتا تھا کہ شاید جس چیز کو ہم جانتے ہیں، اسے ہم نے ابھی صحیح طرح سمجھا ہی نہیں۔
اس اندازِ گفتگو کو بعد میں Socratic Method کہا گیا۔ سقراط عموماً سوالات کے ذریعے کسی تصور کی تعریف اور اس کے نتائج کو پرکھتا تھا، یہاں تک کہ گفتگو کرنے والا اپنی ہی رائے کے اندر موجود تضادات دیکھنے لگتا۔
یہاں سے فلسفے کی ایک نئی عادت پیدا ہوئی:
بات کو صرف اس لیے درست نہ ماننا کہ سب لوگ اسے درست کہتے ہیں؛ اسے سوال، دلیل اور غور سے پرکھنا۔
سقراط نے خود کوئی کتاب نہیں لکھی۔ آج ہم اس کے خیالات کو زیادہ تر اس کے شاگردوں اور دوسرے معاصر مصنفین کے ذریعے جانتے ہیں۔ خاص طور پر افلاطون اور زینوفون نے سقراط کو اپنی تحریروں میں محفوظ کیا، جبکہ Aristophanes نے اسے مزاحیہ اور تنقیدی انداز میں پیش کیا۔ اس لیے آج کا تاریخی سقراط اور افلاطون کے مکالموں کا سقراط بالکل ایک چیز سمجھنا درست نہیں؛ محققین دونوں کے درمیان فرق کو اہم سمجھتے ہیں۔

سقراط کے شاگرد

سقراط کی اصل میراث شاید اس کی اپنی باتوں سے زیادہ اس کے شاگرد تھے۔
ان میں سب سے مشہور افلاطون تھا۔ افلاطون نے اپنے استاد کے مکالموں کو ایسی ادبی اور فلسفیانہ شکل دی کہ سقراط آنے والی نسلوں کے لیے زندہ ہوگیا۔ اگر افلاطون نہ ہوتا تو ممکن ہے سقراط کا نام بھی یونان کے بہت سے دوسرے مفکرین کی طرح تاریخ کے کسی گوشے میں رہ جاتا۔
افلاطون نے اپنے استاد کے سوالات کو آگے بڑھایا اور فلسفے کو ایک وسیع نظام کی شکل دی۔ اس نے علم، حقیقت، اخلاق، سیاست اور ریاست کے بارے میں ایسے سوالات اٹھائے جو آج بھی فلسفے کے بنیادی موضوعات میں شامل ہیں۔
لیکن سقراط کا اثر صرف افلاطون تک محدود نہیں تھا۔
زینوفون بھی اس کے قریب رہا اور اس نے Memorabilia اور Apology جیسی تحریروں میں سقراط کی گفتگو اور کردار کو محفوظ کیا۔ Antisthenes نے بھی سقراط سے متاثر ہو کر ایک الگ فلسفیانہ روایت کی بنیاد رکھی جسے بعد میں Cynicism سے جوڑا گیا۔ Aristippus of Cyrene نے سقراطی حلقے سے متاثر ہو کر Cyrenaic فلسفے کی بنیاد رکھی، جو انسانی خوشی اور لذت کے سوالات پر مرکوز تھا۔ Euclid of Megara اور Phaedo جیسے افراد بھی سقراطی حلقے سے وابستہ تھے۔
یوں سقراط نے کوئی ایک اسکول نہیں بنایا جس کے دروازے پر اس کا نام لکھا ہو۔
اس نے لوگ پیدا کیے جو خود سوچ سکتے تھے۔
اور شاید یہی ایک بڑے استاد کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

سوچنے کا انداز بدل گیا

سقراط سے پہلے بھی یونان میں بڑے فلسفی گزر چکے تھے۔ Thales، Anaximander اور دوسرے مفکرین کائنات، مادے اور فطرت کی اصل کے بارے میں غور کر رہے تھے۔
سقراط نے توجہ کا مرکز بڑی حد تک انسان اور اس کی زندگی کی طرف موڑ دیا۔
وہ پوچھتا تھا کہ انسان کو کیسا ہونا چاہیے۔
انصاف صرف ریاست کا قانون ہے یا اس سے کچھ زیادہ؟
اگر سب لوگ کسی بات کو درست سمجھتے ہیں تو کیا وہ لازماً درست ہے؟
کیا علم رکھنے والا انسان لازماً اچھا بھی ہوتا ہے؟
کیا دولت انسان کو خوش کر سکتی ہے؟
کیا طاقت اور انصاف ایک ہی چیز ہیں؟
یہ سوال آج ہمیں عام محسوس ہوسکتے ہیں، مگر سقراط نے انہیں روزمرہ گفتگو کا حصہ بنا دیا۔
وہ فلسفے کو محلوں اور مخصوص علمی حلقوں سے نکال کر بازار، چوک اور عام انسانی گفتگو میں لے آیا۔
اس لحاظ سے سقراط نے فلسفے کا موضوع ہی نہیں بدلا، اس کا انداز بھی بدل دیا۔
فلسفہ اب صرف یہ جاننے کی کوشش نہیں تھا کہ کائنات کس مادے سے بنی ہے۔
یہ بھی سوال تھا کہ:
انسان کو اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے؟

سقراط اور جمہوریت

یہاں سقراط کی دنیا کا ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔
وہ ایتھنز کی جمہوری ریاست میں رہتا تھا، لیکن وہ ہر مقبول رائے کو درست نہیں مانتا تھا۔
اس کے نزدیک یہ کافی نہیں تھا کہ اکثریت کسی بات کو مانتی ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا وہ بات دلیل اور عقل کے امتحان پر بھی پوری اترتی ہے؟
یہی وجہ ہے کہ سقراط کا تعلق جمہوریت کی تاریخ سے بہت پیچیدہ ہے۔
اس نے جدید جمہوریت کی تعلیم نہیں دی، نہ وہ آج کے معنوں میں جمہوری نظریہ پیش کر رہا تھا۔ لیکن اس نے شہری زندگی کے ایک بنیادی مسئلے کو سامنے رکھا:
اگر عوام ریاست کے فیصلے کریں تو کیا عوام کے فیصلے بھی سوال اور تنقید سے بالاتر ہونے چاہئیں؟
یہ سوال آج بھی جمہوری معاشروں میں زندہ ہے۔
ایک صحت مند جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں۔ اس میں سوال، اختلاف، دلیل، تنقید اور اپنے ہی موقف کو دوبارہ جانچنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔
یہی سقراطی روح تھی۔
جب سوال خطرناک بن گیا
لیکن ہر معاشرہ سوال کرنے والے انسان کو ہمیشہ پسند نہیں کرتا۔
سقراط کے سوالات نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا، لیکن کچھ لوگوں کو ناراض بھی کیا۔ وہ نوجوانوں کے ساتھ گفتگو کرتا تھا، بااثر لوگوں سے سوال کرتا تھا اور ان دعوؤں کو چیلنج کرتا تھا جنہیں لوگ عام طور پر بغیر بحث کے قبول کر لیتے تھے۔
اس کے خلاف 399 قبل مسیح میں مقدمہ چلایا گیا۔ اس پر بنیادی طور پر ریاست کے دیوتاؤں کے بارے میں بے دینی اور نوجوانوں کو خراب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ مقدمے کے بارے میں ہماری اہم معلومات افلاطون اور زینوفون کی تحریروں سے آتی ہیں، اگرچہ ان دونوں کے بیانات میں ادبی اور فکری مقاصد بھی شامل ہیں۔
سقراط نے اپنے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ اگر وہ نوجوانوں کو خراب کرتا ہے تو یہ جان بوجھ کر نہیں ہوسکتا، کیونکہ کوئی شخص جان بوجھ کر اپنے اردگرد کے لوگوں کو خراب کرکے خود بھی نقصان نہیں اٹھانا چاہے گا۔ لیکن عدالت نے اسے مجرم قرار دے دیا۔
اسے موت کی سزا سنائی گئی۔
یہاں سقراط کے کردار کا سب سے عجیب پہلو سامنے آتا ہے۔
اس کے دوست اسے جیل سے فرار کرانے کے لیے تیار تھے۔ راستہ موجود تھا۔ وہ ایتھنز چھوڑ سکتا تھا۔
لیکن سقراط نے فرار قبول نہیں کیا۔
افلاطون کے Crito میں سقراط کا یہی فیصلہ سامنے آتا ہے کہ غلط کا جواب غلط سے نہیں دیا جانا چاہیے اور قانون کو جان بوجھ کر توڑ کر اپنی جان بچانا اس کے اپنے اصولوں سے متصادم ہوگا۔
چنانچہ وہ جیل میں رہا۔
399 قبل مسیح میں اسے زہر، روایتی طور پر hemlock، دیا گیا اور وہ مر گیا۔
ایک فلسفی جس نے پوری زندگی لوگوں سے سوال کیے تھے، آخر میں خود ایک سوال بن گیا۔
کیا ایک انسان اپنی جان بچانے کے لیے اپنے اصول چھوڑ سکتا ہے؟
سقراط کا جواب اس کی زندگی سے ملا۔

سقراط کے بعد

سقراط مر گیا، لیکن اس کی گفتگو ختم نہیں ہوئی۔
اس کے شاگردوں نے اسے مختلف سمتوں میں لے گئے۔
افلاطون نے اسے فلسفے کی عظیم ترین ادبی شخصیات میں بدل دیا۔ پھر افلاطون کے شاگرد ارسطو نے علم، منطق، سیاست، اخلاق اور فطرت کے مطالعے کو ایک نئی وسعت دی۔
یوں ایک شخص کی گفتگو نے ایک فکری سلسلہ پیدا کیا۔

سقراط → افلاطون → ارسطو۔

اور یہ سلسلہ صرف یونان تک محدود نہ رہا۔
بعد میں یونانی فلسفہ اسلامی دنیا تک پہنچا، جہاں مسلمان فلسفیوں اور مترجمین نے افلاطون اور ارسطو کے کام کا مطالعہ کیا، اس پر تنقید کی اور اسے اپنی علمی روایت میں شامل کیا۔ پھر یہ فلسفیانہ روایت قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں پہنچی اور جدید مغربی فکر کی تشکیل میں بھی اس کا کردار رہا۔
لیکن سقراط کی اصل میراث شاید کسی ایک نظریے کا نام نہیں۔
اس نے یہ نہیں کہا کہ دنیا کا ہر سوال اس کے پاس موجود ہے۔
بلکہ اس نے انسان کو یہ سکھایا کہ سوال کرنا خود علم کی طرف جانے والا راستہ ہوسکتا ہے۔
وہ لوگوں کو یہ احساس دلاتا تھا کہ لاعلمی کا اعتراف شکست نہیں۔
بلکہ کبھی کبھی یہی علم کی پہلی منزل ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دو ہزار چار سو سال سے زیادہ گزرنے کے باوجود سقراط کی گفتگو ختم نہیں ہوئی۔
آج یونیورسٹی کے فلسفے کے کلاس روم میں، عدالت میں دلیل دیتے ہوئے، کسی سائنسی تحقیق کے دوران مفروضہ پرکھتے ہوئے، کسی سیاسی نظریے پر بحث کرتے ہوئے اور حتیٰ کہ روزمرہ زندگی میں اپنے ہی یقین کو دوبارہ جانچتے ہوئے ہم ایک ایسی فکری روایت کا حصہ بنتے ہیں جس کی ایک بڑی تاریخی جڑ سقراط تک پہنچتی ہے۔
اس نے دنیا کو کوئی نئی سلطنت نہیں دی۔
اس نے کوئی شہر فتح نہیں کیا۔
اس نے کوئی کتاب بھی نہیں لکھی۔
لیکن اس نے انسان کے ذہن میں ایک ایسا دروازہ کھولا جسے بند کرنا آسان نہیں تھا:

سوال کا دروازہ۔

اور شاید سقراط کی سب سے بڑی فتح یہی تھی کہ اس کی موت کے بعد بھی لوگ اس سے سوال کرتے رہے، اس کے بارے میں سوال کرتے رہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ سے سوال کرنا سیکھ گئے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top