ایک شہر سے دنیا کی عظیم سلطنت تک
کبھی ایک وقت تھا جب روم صرف ایک شہر تھا۔
دریائے ٹائبر کے کنارے آباد ایک چھوٹی سی بستی، جس کے آس پاس پہاڑیاں، کھیت اور دوسری چھوٹی آبادیوں کی دنیا تھی۔ اس وقت شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہی معمولی سا شہر آنے والی صدیوں میں اتنی بڑی سلطنت کا مرکز بنے گا جس کی سرحدیں یورپ، افریقہ اور ایشیا کے وسیع علاقوں تک پھیل جائیں گی۔
روم کی کہانی بھی کسی ایک دن سے شروع نہیں ہوتی۔ قدیم روایت میں روم کے قیام کو 753 قبل مسیح سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ آثارِ قدیمہ ہمیں اس سے پہلے کی مختلف آبادیوں کا سراغ دیتے ہیں۔ ابتدائی روم پر مقامی اطالوی قبائل کے ساتھ ساتھ Etruscans اور یونانی دنیا کے اثرات بھی پڑے۔ ابتدا میں روم بادشاہوں کے زیرِ حکومت تھا، لیکن تقریباً 509 قبل مسیح میں رومیوں نے بادشاہت ختم کرکے ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد ر…
[4:06 PM, 8/26/2026] +92 346 9606716: ا
[3:07 PM, 8/27/2026] Waqas: رومی سلطنت: ایک شہر سے دنیا کی عظیم سلطنت تک
کبھی ایک وقت تھا جب روم صرف ایک شہر تھا۔
دریائے ٹائبر کے کنارے آباد ایک چھوٹی سی بستی، جس کے آس پاس پہاڑیاں، کھیت اور دوسری چھوٹی آبادیوں کی دنیا تھی۔ اس وقت شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہی معمولی سا شہر آنے والی صدیوں میں اتنی بڑی سلطنت کا مرکز بنے گا جس کی سرحدیں یورپ، افریقہ اور ایشیا کے وسیع علاقوں تک پھیل جائیں گی۔
روم کی کہانی بھی کسی ایک دن سے شروع نہیں ہوتی۔ قدیم روایت میں روم کے قیام کو 753 قبل مسیح سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ آثارِ قدیمہ ہمیں اس سے پہلے کی مختلف آبادیوں کا سراغ دیتے ہیں۔ ابتدائی روم پر مقامی اطالوی قبائل کے ساتھ ساتھ Etruscans اور یونانی دنیا کے اثرات بھی پڑے۔ ابتدا میں روم بادشاہوں کے زیرِ حکومت تھا، لیکن تقریباً 509 قبل مسیح میں رومیوں نے بادشاہت ختم کرکے ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھی جسے Roman Republic کہا گیا۔
یہ جمہوریہ آج کی جمہوریت جیسی نہیں تھی۔ اقتدار پر ابتدا میں اشرافیہ، یعنی Patricians، کا بہت زیادہ اثر تھا، جبکہ عام شہری، یعنی Plebeians، سیاسی حقوق اور معاشی انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ وقت کے ساتھ ان کی جدوجہد نے رومی سیاسی نظام کو بدل دیا اور بالآخر دونوں طبقوں کے درمیان سیاسی حقوق کا فرق کم ہوا۔
یہیں سے روم کی ایک اہم خصوصیت سامنے آتی ہے۔
روم صرف جنگ کرنے والی ریاست نہیں تھا۔ وہ اپنے اندر سیاسی اختلاف کو بھی ایک نظام میں تبدیل کرنا جانتا تھا۔ سینیٹ، عوامی اسمبلیاں، منتخب عہدے دار اور مختلف قانونی روایات ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے تھے۔ یہ نظام مکمل طور پر مساوی نہیں تھا، مگر اس نے رومی ریاست کو ایک ایسی سیاسی ساخت دی جو آنے والی صدیوں تک اس کی طاقت کا حصہ بنی رہی۔
پھر روم نے اپنی نظریں شہر کی حدود سے باہر اٹھائیں۔
روم کا پھیلاؤ
روم نے پہلے اطالوی جزیرہ نما پر اپنی طاقت مضبوط کی۔ پھر اس کا سامنا بحیرۂ روم کی بڑی طاقتوں سے ہوا۔
ان میں سب سے بڑا مقابلہ Carthage کے ساتھ تھا۔
پہلی، دوسری اور تیسری Punic Wars نے روم اور کارتھیج کو ایک طویل جدوجہد میں ڈال دیا۔ کارتھیج کا مشہور جرنیل Hannibal اپنے ہاتھیوں کے ساتھ الپس کے پہاڑ عبور کرکے اٹلی پہنچا اور رومیوں کو کئی بڑی شکستیں دیں۔
لیکن روم کی طاقت صرف ایک جنگ جیتنے یا ہارنے میں نہیں تھی۔
رومیوں کے پاس وسیع انسانی وسائل تھے، اتحادیوں کا ایک بڑا نظام تھا اور شکست کے بعد دوبارہ فوج کھڑی کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔
آخرکار روم نے کارتھیج کو شکست دے دی۔
اب بحیرۂ روم کی دنیا میں روم کی طاقت بڑھنے لگی۔
مقدونیہ، یونانی ریاستیں، ایشیا مائنر، شام، شمالی افریقہ اور پھر اسپین اور گال کے علاقے رومی دنیا میں شامل ہوتے گئے۔ آخری تین صدیوں میں Roman Republic ایک چھوٹی ریاست سے بڑھ کر ایک وسیع علاقائی طاقت بن چکی تھی۔
لیکن یہاں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوا۔
روم جتنا بڑا ہوتا گیا، اس کا پرانا سیاسی نظام اتنا ہی مشکل ہوتا گیا۔
ایک شہر کے لیے بنایا گیا سیاسی نظام اب ایک ایسی دنیا کو چلانے کی کوشش کر رہا تھا جو سینکڑوں اور پھر ہزاروں میل تک پھیل چکی تھی۔
جنگوں سے دولت روم میں آنے لگی، لیکن دولت سب میں برابر تقسیم نہیں ہوئی۔ بڑے زمیندار طاقتور ہوتے گئے، عام کسانوں پر دباؤ بڑھا اور سیاسی طبقوں کے درمیان کشمکش شدید ہوتی گئی۔
فوج بھی اب صرف روم کی حفاظت کرنے والی طاقت نہیں رہی تھی۔
فوجی جرنیل اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ سیاسی طاقت حاصل کرنے لگے۔
اور پھر تاریخ میں ایک ایسا نام سامنے آیا جس نے رومی جمہوریہ کی آخری صدی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا
جولیس سیزر اور جمہوریہ کا اختتام
Julius Caesar صرف ایک سپہ سالار نہیں تھا۔ وہ ایک سیاست دان، منتظم اور غیر معمولی فوجی حکمتِ عملی رکھنے والا شخص بھی تھا۔
گال کی جنگوں میں اس نے روم کے لیے وسیع علاقے فتح کیے اور اپنی فوج میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
لیکن روم میں اس کی بڑھتی ہوئی طاقت نے سینیٹ کے ایک طبقے کو خوفزدہ کر دیا۔
49 قبل مسیح میں Caesar نے اپنی فوج کے ساتھ Rubicon River عبور کیا۔
یہ قدم صرف ایک دریا عبور کرنا نہیں تھا۔
یہ رومی سیاسی نظام کے خلاف کھلا چیلنج تھا۔
اس کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی اور Caesar بالآخر روم کا سب سے طاقتور شخص بن گیا۔
وہ dictator بنا، اصلاحات کیں، کیلنڈر میں بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی اور ریاستی نظام کو اپنے گرد منظم کیا۔
لیکن اس کے مخالفین اسے بادشاہت کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
15 مارچ 44 قبل مسیح، یعنی Ides of March کو، سینیٹ کے بعض ارکان نے اسے قتل کردیا۔
شاید قاتلوں کا خیال تھا کہ Caesar کی موت کے ساتھ جمہوریہ دوبارہ زندہ ہوجائے گی۔
لیکن تاریخ نے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔
Caesar کے قتل کے بعد روم مزید خانہ جنگی میں داخل ہوگیا۔
آخرکار اقتدار Caesar کے متبنّی بیٹے اور وارث Octavian، اور اس کے اتحادی Mark Antony اور Cleopatra کے درمیان آخری بڑے مقابلے تک پہنچا۔
31 قبل مسیح میں Battle of Actium میں Octavian نے Antony اور Cleopatra کو شکست دی۔
اب روم کے سامنے ایک شخص رہ گیا تھا جس کے ہاتھ میں تقریباً پوری ریاست کی طاقت تھی۔
وہی Octavian آگے چل کر Augustus کہلایا۔
آگسٹس اور سلطنت کا آغاز
27 قبل مسیح میں Senate نے Octavian کو Augustus کا اعزاز دیا۔
رومی جمہوریہ بظاہر ختم نہیں ہوئی تھی۔ سینیٹ موجود تھا، روایتی عہدے بھی موجود تھے اور پرانے سیاسی الفاظ بھی زندہ تھے۔
لیکن اصل طاقت اب ایک شخص کے گرد جمع ہوچکی تھی۔
یہی Roman Empire کا آغاز تھا۔
Augustus نے روم کو صرف سیاسی طور پر نہیں بدلا بلکہ شہر کی شکل بھی بدل دی۔ اس کے دور میں روم کی تعمیرِ نو ہوئی، بڑے عوامی منصوبے بنے، عبادت گاہیں اور یادگاریں تعمیر ہوئیں اور شہر نے ایک عظیم imperial capital کی شکل اختیار کی۔
اس سے منسوب ایک مشہور تصور تھا کہ اس نے روم کو اینٹوں کا شہر پایا اور سنگِ مرمر کا شہر چھوڑا۔
یہ صرف خوبصورت عمارتیں بنانے کی بات نہیں تھی۔
Augustus سمجھتا تھا کہ سلطنت کو صرف فوج سے نہیں، تصویر، ثقافت اور ریاستی نظم سے بھی مضبوط کیا جاتا ہے۔
شاعروں اور ادیبوں کو سرپرستی ملی۔ Virgil نے Aeneid میں روم کی عظمت کو ایک عظیم تاریخی تقدیر کے ساتھ جوڑا، جبکہ Livy نے روم کی تاریخ کو ادبی شکل دی۔ ریاستی عمارتیں اور مجسمے بھی سیاسی پیغام کا ذریعہ بنے۔
روم اب صرف ایک شہر نہیں تھا۔
وہ ایک خیال بن رہا تھا۔
روم اپنے عروج کی طرف
Augustus کے بعد Julio-Claudian خاندان کے حکمران آئے۔ Tiberius، Caligula، Claudius اور Nero کے نام رومی تاریخ میں مختلف وجوہ سے مشہور ہوئے۔
کچھ کے دور میں انتظامی اصلاحات اور تعمیرات ہوئیں، کچھ کے دور میں شاہی عیش و عشرت اور سیاسی سازشیں نمایاں رہیں۔ مگر مجموعی طور پر روم کی طاقت بڑھتی رہی۔
رومی سلطنت کی اصل طاقت اس کی فوج، سڑکوں، بندرگاہوں، ٹیکس کے نظام، قانون، شہروں اور انتظامی ڈھانچے کے امتزاج میں تھی۔
رومی فوج جہاں جاتی، وہاں صرف فتح نہیں لاتی تھی۔
سڑکیں بنتیں۔
قلعے بنتے۔
بازار بنتے۔
شہر آباد ہوتے۔
رومن شہریّت مختلف علاقوں تک پھیلتی۔
مقامی اشرافیہ رومی انتظام میں شامل ہوتی۔
یوں فتح شدہ علاقے صرف زیرِ قبضہ زمین نہیں رہتے تھے؛ وقت کے ساتھ وہ رومی دنیا کا حصہ بنتے جاتے تھے۔
رومی شہر اور انجینئرنگ
رومی تہذیب کی ایک بڑی پہچان اس کے شہر تھے۔
Rome، Alexandria، Antioch، Carthage اور دوسرے بڑے مراکز لاکھوں لوگوں کی دنیا بن چکے تھے۔
رومیوں نے سڑکیں بنائیں، پل تعمیر کیے، بندرگاہیں بنائیں، پانی دور دراز علاقوں سے شہروں تک پہنچانے کے لیے aqueducts بنائے، عوامی حمام تعمیر کیے اور بڑے میدان بنائے۔
ان کے لیے شہر صرف گھر بنانے کی جگہ نہیں تھا۔
شہر ریاستی طاقت، تجارت، تفریح، مذہب اور سماجی زندگی کا مرکز تھا۔
آج بھی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی علاقوں میں رومی سڑکوں، پلوں، aqueducts اور عمارتوں کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ انجینئرنگ صرف خوبصورتی کے لیے نہیں تھی۔
یہ سلطنت کو چلانے کا ذریعہ تھی۔
ایک فوج اگر سینکڑوں میل دور جا رہی ہے تو اسے راستہ چاہیے۔
ایک شہر بڑھ رہا ہے تو اسے پانی چاہیے۔
لاکھوں لوگوں کی آبادی ہے تو خوراک، صفائی اور تجارت کا نظام چاہیے۔
روم نے ان مسائل کو اپنے زمانے کی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ حل کیا۔
Pax Romana: جب ایک بڑی دنیا نسبتاً پُرسکون ہوئی
Augustus کے بعد کئی صدیوں تک رومی دنیا کے بڑے حصے میں نسبتاً استحکام کا دور آیا جسے عام طور پر Pax Romana کہا جاتا ہے۔
یہ مکمل امن نہیں تھا۔ سرحدوں پر جنگیں ہوتی رہیں، بغاوتیں اٹھتی رہیں اور رومی سلطنت کو مسلسل فوجی خطرات کا سامنا رہا۔
لیکن سلطنت کے اندر وسیع علاقوں کو ایک ہی انتظامی اور اقتصادی نظام میں جوڑنے سے تجارت اور سفر کے لیے نسبتاً مستحکم ماحول پیدا ہوا۔
Trajan کے دور میں سلطنت اپنی علاقائی وسعت کی بلند ترین حدود کے قریب پہنچی۔ Dacia کی فتح کے بعد رومی سرحدیں بہت دور تک پھیل گئیں، جبکہ Hadrian نے بعد میں کئی سرحدوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے پر توجہ دی۔
یہی وہ زمانہ تھا جب روم واقعی ایک عالمی سلطنت جیسی شکل اختیار کر چکا تھا۔
بحیرۂ روم تقریباً اس کی اندرونی دنیا بن چکا تھا۔
شمال میں برطانیہ سے لے کر جنوب میں شمالی افریقہ تک، مغرب میں اسپین سے مشرق میں شام اور میسوپوٹیمیا تک رومی دنیا پھیلی ہوئی تھی۔
لیکن اتنی بڑی سلطنت کے اندر ایک اور تبدیلی خاموشی سے جاری تھی۔
ایک نئی مذہبی تحریک جنم لے چکی تھی۔
روم اور عیسائیت
پہلی صدی عیسوی میں یہودی ماحول سے نکلنے والی عیسائی تحریک رومی سلطنت کے مختلف شہروں میں پھیلنے لگی۔
ابتدا میں یہ ایک چھوٹی مذہبی جماعت تھی۔
لیکن رومی سلطنت کے شہر، سڑکیں اور تجارت ہی وہ راستے بھی بن گئے جن سے یہ نئی مذہبی روایت ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچتی گئی۔
ابتدائی عیسائیوں کو مختلف ادوار میں رومی حکام کی طرف سے مشکلات اور بعض جگہوں پر ظلم کا سامنا کرنا پڑا، لیکن عیسائیت ختم نہیں ہوئی۔
بلکہ وقت کے ساتھ اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔
چوتھی صدی میں ایک بہت بڑا موڑ آیا۔
Constantine the Great نے عیسائیت کو قانونی تحفظ دیا اور 324ء میں مشرق و مغرب کے رومی علاقوں کو دوبارہ ایک حکمرانی کے تحت جمع کیا۔ اس نے Byzantium کو نئی شاہی راجدھانی بنایا، جسے بعد میں Constantinople کہا گیا۔
یہ فیصلہ آنے والی تاریخ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔
رومی سلطنت اب صرف قدیم رومی دیوتاؤں کی دنیا نہیں رہی تھی۔
عیسائیت آہستہ آہستہ ریاستی اور معاشرتی زندگی کا مرکزی حصہ بننے لگی۔
Theodosius I کے دور میں چوتھی صدی کے آخر تک عیسائیت کی ریاستی حیثیت مزید مضبوط ہوئی اور قدیم pagan مذہبی اداروں پر پابندیاں بڑھیں۔
ایک سلطنت، دو دنیا
لیکن سلطنت کا حجم، سیاسی مسائل اور سرحدوں کے خطرات بڑھتے جا رہے تھے۔
تیسری صدی عیسوی میں روم کو شدید سیاسی اور فوجی بحران کا سامنا ہوا۔ مختصر مدت میں کئی شہنشاہ آئے، فوجی بغاوتیں ہوئیں اور بیرونی حملوں کا دباؤ بڑھا۔
پھر Diocletian آیا۔
اس نے سلطنت کو انتظامی طور پر مضبوط کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں اور اقتدار کو ایک سے زیادہ حکمرانوں میں تقسیم کرنے کا نظام قائم کیا، جسے Tetrarchy کہا جاتا ہے۔ اس نے سلطنت کو بہتر انتظام کے لیے مشرق اور مغرب کی سمتوں میں تقسیم شدہ حکمرانی کی طرف دھکیلا۔
بعد میں Constantine نے دوبارہ سلطنت کو متحد کیا، مگر طاقت کا مرکز بدل چکا تھا۔
Rome اب پہلے جیسا واحد مرکز نہیں رہا تھا۔
Constantinople مشرق میں ایک نئے طاقتور مرکز کے طور پر ابھر چکا تھا۔
یہ تبدیلی آہستہ آہستہ مستقبل کے دو رومی جہانوں کی بنیاد بن رہی تھی۔
روم کیوں کمزور ہوا؟
رومی سلطنت کا زوال کسی ایک دن شروع نہیں ہوا تھا۔
یہ بھی درست نہیں کہ صرف ایک وجہ سے روم ختم ہوگیا۔
بڑی سلطنتوں کی طرح روم کے زوال کے پیچھے کئی عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
سیاسی عدم استحکام بڑھا۔
شہنشاہوں کی تبدیلیاں اور فوجی بغاوتیں ہوئیں۔
سرحدوں پر دباؤ بڑھا۔
معاشی مشکلات اور ٹیکس کا بوجھ بڑھا۔
سلطنت کو ایک بہت وسیع فوجی نظام برقرار رکھنا پڑا۔
اور چوتھی صدی کے بعد شمالی اور مشرقی سرحدوں پر مختلف جرمن قبائل اور دوسرے گروہوں کی نقل مکانی اور فوجی دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔
370ء کی دہائی میں Huns کی آمد نے Danube کے علاقے میں موجود قبائل کو مزید بے گھر کیا۔ Visigoths رومی سرحدوں میں داخل ہوئے، اور 378ء میں Adrianople کی جنگ میں رومی فوج کو بڑی شکست ہوئی اور شہنشاہ Valens مارا گیا۔
پھر 395ء میں Theodosius I کی وفات کے بعد سلطنت مستقل طور پر اس کے بیٹوں کے زیرِ حکومت مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
یہ تقسیم ایک دن میں روم کے خاتمے کا سبب نہیں بنی، لیکن مغربی سلطنت اب مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کے سامنے زیادہ کمزور تھی۔
410ء میں Visigoth بادشاہ Alaric نے روم کو لوٹ لیا۔
یہ واقعہ اس نسل کے لیے ناقابلِ یقین تھا جس نے روم کو دنیا کی طاقتور ترین سلطنت کا مرکز سمجھا تھا۔
لیکن روم ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا۔
تقریباً چھ دہائیاں اور گزریں۔
476ء میں جرمن جرنیل Odoacer نے مغربی رومی شہنشاہ Romulus Augustulus کو معزول کردیا۔
عام طور پر اسی واقعے کو مغربی رومی سلطنت کے خاتمے کی روایتی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔
لیکن یہاں بھی تاریخ کو بہت سادہ نہیں کرنا چاہیے۔
رومی دنیا 476ء میں اچانک غائب نہیں ہوگئی تھی۔
رومی قانون، زبان، شہر، مذہب، انتظامی روایات اور ثقافت مختلف شکلوں میں زندہ رہے۔
اور مشرقی رومی سلطنت تو باقی رہی۔
اس کا مرکز Constantinople تھا، اور اس کے باشندے خود کو رومی ہی سمجھتے رہے۔
یہ سلطنت بعد میں جدید تاریخ میں Byzantine Empire کے نام سے مشہور ہوئی اور 1453ء تک قائم رہی، جب عثمانیوں نے Constantinople فتح کیا۔
روم ختم ہوا، لیکن رومی دنیا باقی رہی
رومی سلطنت کی کہانی یہاں ایک عجیب مقام پر پہنچتی ہے۔
ایک چھوٹی سی بستی سے شروع ہونے والا سفر ایک ایسی سلطنت تک پہنچا جس نے صدیوں تک یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑے حصے کو ایک سیاسی دنیا میں جوڑ کر رکھا۔
رومیوں نے شہر بنائے، سڑکیں بنائیں، پل بنائے، پانی کے نظام بنائے، قانون مرتب کیا، فوجی اور انتظامی ڈھانچے قائم کیے اور مختلف قوموں کو ایک وسیع سیاسی نظام میں شامل کیا۔
لیکن روم کی اصل میراث صرف پتھر کی عمارتوں میں نہیں۔
آج بھی بہت سے قانونی تصورات، شہری انتظام، زبان، architecture، engineering، سیاسی اصطلاحات اور ریاستی اداروں کی تاریخ میں رومی اثرات نظر آتے ہیں۔
لاطینی زبان نے بعد کی یورپی زبانوں پر گہرا اثر ڈالا۔
رومی قانون نے یورپ کے کئی قانونی نظاموں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
رومی شہر اور سڑکیں بعد کی یورپی شہری دنیا کی بنیادوں میں شامل ہوئیں۔
اور عیسائیت، جو کبھی رومی سلطنت کے اندر ایک چھوٹی جماعت تھی، اسی سلطنت کے ذریعے ایک ایسی مذہبی طاقت بن گئی جس نے یورپ اور بعد میں دنیا کی تاریخ بدل دی۔
روم کے زوال کے بعد بھی یہ سب ختم نہیں ہوا۔
بلکہ ایک نئی دنیا نے جنم لیا۔
مغرب میں رومی سیاسی نظام ٹوٹ کر مختلف بادشاہتوں میں تقسیم ہوا۔
مشرق میں Constantinople کے گرد رومی سلطنت زندہ رہی۔
اور اسی دوران یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ایک نئی مذہبی اور تہذیبی دنیا تشکیل پا رہی تھی۔
روم کی کہانی ختم نہیں ہوئی تھی؛ اس نے صرف اپنی شکل بدل لی تھی۔
ایک طرف مشرقی رومی سلطنت آنے والی ایک ہزار سالہ تاریخ کی طرف بڑھ رہی تھی، اور دوسری طرف مغرب میں وہ دنیا بن رہی تھی جسے بعد میں ہم قرونِ وسطیٰ کے نام سے جانیں گے۔
اور اسی نئے دور میں، رومی دنیا کے مشرقی کناروں سے ایک ایسی مذہبی اور تہذیبی تحریک اٹھنے والی تھی جو چند صدیوں میں دنیا کے نقشے کو ایک بار پھر بدل دے گی
