اوگتائی خان

چنگیز خان اور اوگتائی خان کا تعلق اوگتائی خان چنگیز خان اور ان کی اہلیہ بورٹے کے تیسرے بیٹے تھے۔ ان کے بڑے بھائی جوجی اور چغتائی جبکہ چھوٹے بھائی تولوی تھے۔چنگیز خان نے اپنے بیٹوں میں اوگتائی کو خاص اہمیت دی۔ جوجی اور چغتائی کے درمیان اختلافات کی وجہ سے دونوں میں سے کسی ایک کو عظیم خان بنانا مشکل تھا۔ چنگیز خان نے بالآخر اوگتائی کو اپنا جانشین مقرر کیا۔اوگتائی نسبتاً نرم مزاج، معاملہ فہم اور انتظامی صلاحیت رکھنے والے حکمران سمجھے جاتے تھے۔ چنگیز خان کے نزدیک ایک بہت بڑی سلطنت کو متحد رکھنے کے لیے صرف ایک عظیم سپہ سالار نہیں بلکہ ایسا حکمران ضروری تھا جو مختلف شہزادوں اور قبائل کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

چنگیز خان کی وفات 1227ء میں ہوئی۔ اس سے پہلے چنگیز خان نے اپنے بیٹوں میں سلطنت کے مختلف علاقوں کو اولوس کی صورت میں تقسیم کردیا تھا۔اوگتائی کو بنیادی طور پر منگولیا کے مغربی اور وسطی علاقوں سے متعلق علاقہ ملا، لیکن ان کی اصل اہمیت اس وقت شروع ہوئی جب وہ پوری منگول سلطنت کے عظیم خان بنے۔1229ء میں قوریلتائی منعقد ہوئی، جس میں منگول اشرافیہ نے اوگتائی کو چنگیز خان کا جانشین تسلیم کیا۔اس طرح اوگتائی صرف اپنے حصے کے حکمران نہیں رہے بلکہ جوجی، چغتائی، تولوی اور دوسرے منگول شہزادوں کے اوپر پوری سلطنت کے مرکزی حکمران بن گئے۔

اوگتائی کے دور میں منگول سلطنت نے غیر معمولی وسعت حاصل کی۔مشرق میں منگول فوجیں چین میں سونگ اور جن ریاستوں کے خلاف لڑ رہی تھیں، جبکہ مغرب میں وسطی ایشیا، ایران، روس اور مشرقی یورپ کی طرف فتوحات جاری تھیں۔1234ء میں منگولوں نے شمالی چین کی جن سلطنت کا خاتمہ کردیا۔اس کے بعد منگول فوجوں نے مغرب کی طرف بڑی مہم شروع کی۔ باتو خان کی قیادت میں منگول فوجیں روسی ریاستوں پر حملہ آور ہوئیں اور پھر پولینڈ اور ہنگری تک پہنچ گئیں۔اس طرح اوگتائی کے دور میں منگول سلطنت ایشیا سے یورپ کے قلب تک پہنچ گئی۔

گتائی کے دور کا سب سے مشہور واقعہ منگولوں کی یورپی مہم تھی۔1236ء میں باتو خان کی قیادت میں ایک بڑی منگول فوج نے مغرب کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اس مہم میں جوجی خاندان کے شہزادوں کے علاوہ دوسرے منگول جرنیل بھی شامل تھے۔1237ء سے 1240ء کے دوران منگولوں نے روسی ریاستوں کو شکست دی۔ 1240ء میں کییف پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔1241ء میں منگول فوجیں پولینڈ اور ہنگری تک پہنچ گئیں۔ پولینڈ میں لیگنیتسا اور ہنگری میں موہی کی جنگوں میں منگولوں نے یورپی افواج کو شکست دی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ منگول فوجیں مزید مغرب کی طرف بڑھ سکتی ہیں، لیکن اسی دوران اوگتائی خان کی وفات ہوگئی۔

اوگتائی صرف فاتح حکمران نہیں تھے بلکہ انہوں نے منگول سلطنت کے انتظامی نظام کو بھی مضبوط کیا۔انہوں نے ٹیکس وصولی کو منظم کیا، سرکاری مواصلات کو بہتر بنایا اور سلطنت کے مختلف حصوں کو مرکزی حکومت سے جوڑنے کے لیے یام کے ڈاک نظام کو وسعت دی۔یام نظام کے ذریعے سرکاری پیغامات اور احکامات گھوڑوں کے ذریعے تیزی سے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائے جاتے تھے۔اوگتائی نے قراقرم کو بھی منگول سلطنت کے مرکزی دارالحکومت کے طور پر ترقی دی۔ مختلف ممالک کے سفیر، تاجر، کاریگر اور مذہبی شخصیات یہاں آتی تھیں۔اس طرح قراقرم ایک ایسے شہر میں تبدیل ہوا جہاں منگول سلطنت کی مختلف قوموں اور تہذیبوں کا اجتماع نظر آتا تھا۔اوگتائی کا زوال اور وفاتاوگتائی کسی جنگ میں شکست کھا کر اقتدار سے محروم نہیں ہوئے۔ ان کا اقتدار ان کی وفات تک قائم رہا۔اوگتائی خان کی وفات 11 دسمبر 1241ء کو ہوئی۔ان کی وفات اس وقت ہوئی جب منگول سلطنت اپنے عروج کے انتہائی اہم مرحلے میں تھی۔ مغربی منگول فوجیں یورپ کے اندر موجود تھیں اور مشرق میں چین کے خلاف جنگیں جاری تھیں۔اوگتائی کی وفات کے بعد جانشینی کا مسئلہ پیدا ہوا۔ ان کے بیٹے گویک فوراً عظیم خان نہیں بن سکے۔اوگتائی کی بیوہ توریگینے خاتون نے عبوری طور پر سلطنت کا انتظام سنبھالا اور تقریباً پانچ سال تک اقتدار چلایا۔

ء میں اوگتائی کے بیٹے گویک خان عظیم خان منتخب ہوئے۔لیکن گویک خان کا دور بہت مختصر رہا۔ 1248ء میں ان کی وفات ہوگئی۔اس کے بعد منگول شہزادوں کے درمیان ایک بار پھر جانشینی کا تنازع پیدا ہوا۔ بالآخر 1251ء میں منگکے خان عظیم خان بنے۔منگکے کا تعلق تولوی خاندان سے تھا۔ اس طرح چنگیز خان کے بیٹوں کی مختلف شاخوں کے درمیان عظیم خان کا اقتدار منتقل ہوتا رہا۔بعد میں تولوی خاندان کے قبلائی خان نے چین میں یوان سلطنت قائم کی، جبکہ ہلاکو خان نے ایران اور عراق میں ایلخانی سلطنت قائم کی۔یوں اوگتائی خاندان کا مرکزی اقتدار ختم ہوگیا، لیکن چنگیز خان کی سلطنت مختلف شاخوں کی صورت میں مزید کئی نسلوں تک قائم رہی۔اوگتائی خاندان اور منگول سلطنت کا آخری انجاماوگتائی کی وفات کے بعد منگول سلطنت فوراً ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کی طاقت مزید کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔لیکن وقت کے ساتھ منگول سلطنت مختلف خانیتوں میں تقسیم ہوگئی

:جوجی خاندان → گولڈن ہورڈچغتائی خاندان → چغتائی خانیتتولوی خاندان →

اوگتائی خاندان بھی ایک اہم شاخ رہا، لیکن وہ دوبارہ پوری منگول سلطنت پر مستقل مرکزی اقتدار قائم نہ کرسکا۔اس طرح چنگیز خان کی متحد سلطنت ایک ایسی سیاسی دنیا میں تبدیل ہوگئی جس میں اس کے مختلف بیٹوں کی اولاد الگ الگ علاقوں میں حکمرانی کرنے لگی۔خلاصہاوگتائی خان چنگیز خان کے تیسرے بیٹے تھے اور چنگیز خان نے انہیں اپنا جانشین مقرر کیا۔ 1229ء میں قوریلتائی کے ذریعے وہ منگول سلطنت کے عظیم خان بنے۔ان کے دور میں منگول سلطنت نے بہت بڑی فتوحات حاصل کیں۔ 1234ء میں شمالی چین کی جن سلطنت کا خاتمہ ہوا، جبکہ مغرب میں باتو خان کی قیادت میں منگول فوجیں روس، پولینڈ اور ہنگری تک پہنچ گئیں۔اوگتائی نے سلطنت کے انتظام کو بھی مضبوط کیا، یام ڈاک نظام کو وسعت دی اور قراقرم کو مرکزی دارالحکومت کے طور پر ترقی دی۔11 دسمبر 1241ء کو اوگتائی کی وفات ہوئی۔ ان کے بعد ان کی بیوہ توریگینے خاتون نے حکومت چلائی اور 1246ء میں ان کے بیٹے گویک خان عظیم خان بنے۔گویک کی وفات کے بعد 1251ء میں تولوی خاندان کے منگکے خان عظیم خان بنے۔ اس کے بعد منگول سلطنت کی مختلف شاخوں کے درمیان طاقت کی تقسیم مزید واضح ہوتی گئی۔اوگتائی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ یہ تھا کہ چنگیز خان کے بعد اس نے منگول سلطنت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے چین سے لے کر یورپ تک مزید وسیع کردیا۔

. The Secret History of the Mongols — Igor de Rachewiltz2. The Mongols — David Morgan3. The Mongols and the West, 1221–1410 — Peter Jackson4. The Mongols and the Islamic World: From Conquest to Conversion — Peter Jackson5. The Mongol Empire: A Historical Encyclopedia — Timothy May6. The Cambridge History of Inner Asia: The Chinggisid Age — Nicola Di Cosmo, Allen J. Frank & Peter B. Golden7. Genghis Khan and the Making of the Modern World — Jack Weatherford8. Jami’ al-Tawarikh — Rashid al-Din

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top