تغلق خاندان

تغلق خاندان دہلی سلطنت کا تیسرا حکمران خاندان تھا۔ اس نے 1320ء سے 1414ء تک تقریباً 94 سال حکومت کی۔خلجی خاندان کے آخری دور میں دہلی سلطنت سیاسی انتشار کا شکار ہوگئی تھی۔ علاؤالدین خلجی کی وفات کے بعد کئی کمزور حکمران آئے اور دربار میں سازشیں اور اقتدار کی کشمکش بڑھتی گئی۔1320ء میں غیاث الدین تغلق نے خسرو خان کو شکست دے کر دہلی کا اقتدار حاصل کیا اور تغلق خاندان کی بنیاد رکھی۔

اصل نام غازی ملک تھا۔ وہ پہلے دہلی سلطنت کے ایک اہم فوجی افسر تھے اور منگولوں کے خلاف شمال مغربی سرحدوں کے دفاع میں نمایاں کردار ادا کرچکے تھے۔غیاث الدین تغلق اور سلطنت کی مضبوطیغیاث الدین تغلق نے اقتدار میں آنے کے بعد دہلی سلطنت میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی۔اس نے انتظامیہ کو مضبوط کیا اور صوبائی حکمرانوں پر مرکزی حکومت کی گرفت دوبارہ قائم کی۔غیاث الدین نے بنگال اور دیگر علاقوں کی طرف فوجی مہمات بھی کیں اور سلطنت کے کمزور حصوں کو دوبارہ دہلی کے زیرِ اقتدار لانے کی کوشش کی۔اس کے دور میں دہلی کے قریب تغلق آباد کے عظیم قلعے کی تعمیر بھی شروع ہوئی۔لیکن غیاث الدین کی حکومت زیادہ طویل نہیں رہی۔ 1325ء میں ایک لکڑی کے منڈپ کے گرنے سے اس کی وفات ہوگئی۔ بعض تاریخی روایات میں اس حادثے کے پیچھے اس کے بیٹے محمد بن تغلق کے کردار کے بارے میں شبہات بھی بیان کیے گئے ہیں، لیکن اس معاملے کو قطعی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جاتا۔

غیر معمولی منصوبے اور بڑے تجرباتغیاث الدین کے بعد اس کا بیٹا محمد بن تغلق 1325ء میں سلطان بنا۔محمد بن تغلق دہلی سلطنت کے سب سے زیادہ ذہین، تعلیم یافتہ اور متنازع حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔وہ فلسفہ، منطق، طب، ریاضی اور دیگر علوم میں دلچسپی رکھتا تھا۔ لیکن اس کی بعض انتظامی پالیسیاں عملی مشکلات کی وجہ سے ناکام ہوئیں اور اس کے دور میں سلطنت کو شدید بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے مشہور منصوبوں میں دارالحکومت کو دہلی سے دولت آباد منتقل کرنا، تانبے کے ٹوکن سکوں کا اجرا اور دوآب میں ٹیکس میں اضافہ شامل تھا۔دارالحکومت دہلی سے دولت آباد منتقل کرنامحمد بن تغلق نے دہلی سے دارالحکومت کو دولت آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔دولت آباد موجودہ مہاراشٹر میں واقع ہے اور اس وقت اسے دیوگیری کہا جاتا تھا۔محمد بن تغلق کے خیال میں دولت آباد سلطنت کے زیادہ مرکزی مقام پر واقع تھا، جس سے شمالی اور جنوبی ہندوستان دونوں پر حکومت کرنا آسان ہوسکتا تھا۔لیکن دہلی سے بڑی تعداد میں لوگوں کی منتقلی نے شدید مشکلات پیدا کیں۔ آخرکار سلطان کو دوبارہ دہلی کی طرف توجہ دینی پڑی۔یہ منصوبہ محمد بن تغلق کی سب سے مشہور اور متنازع پالیسیوں میں شمار ہوتا ہے۔

محمد بن تغلق نے ایک اور بڑا مالی تجربہ کیا۔ اس نے چاندی کے سکوں کے مقابلے میں تانبے کے ٹوکن سکے جاری کیے جنہیں سرکاری طور پر چاندی کے سکوں کے برابر قدر دی گئی۔لیکن عوام نے بڑی تعداد میں جعلی سکے بنانا شروع کردیے۔ چونکہ حکومت کے پاس اس جعل سازی کو روکنے کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا، اس لیے یہ تجربہ ناکام ہوگیا۔سلطان کو بعد میں یہ سکے واپس لینے پڑے اور انہیں اصل چاندی کے سکوں سے تبدیل کرنا پڑا۔اسی طرح دوآب کے علاقے میں ٹیکس بڑھانے کی کوشش بھی مشکلات کا سبب بنی۔ خراب حالات اور کسانوں کی مشکلات کی وجہ سے بغاوتیں پیدا ہوئیں۔محمد بن تغلق کے دور میں سلطنت کی وسعت اور بغاوتیںمحمد بن تغلق کے دور میں دہلی سلطنت رقبے کے اعتبار سے اپنے عروج کے قریب پہنچی۔اس کا اقتدار شمالی ہندوستان کے ساتھ ساتھ دکن اور جنوبی ہندوستان کے بڑے علاقوں تک پھیل گیا۔لیکن اتنی وسیع سلطنت کو ایک مرکز سے کنٹرول کرنا بہت مشکل تھا۔دور دراز صوبوں میں مسلسل بغاوتیں شروع ہوگئیں۔ دکن میں دہلی کا اقتدار کمزور ہوا اور آخرکار بہمنی سلطنت قائم ہوگئی۔جنوبی ہندوستان میں وجے نگر سلطنت بھی اسی وسیع سیاسی تبدیلی کے دور میں ابھری۔بنگال اور دوسرے علاقوں میں بھی دہلی سے آزادی کی کوششیں جاری رہیں۔اس طرح محمد بن تغلق کے دور میں سلطنت بیک وقت اپنے سب سے بڑے رقبے تک پہنچی اور پھر اسی وسعت کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہوگئی۔

تغلق کا دورمحمد بن تغلق کی وفات 1351ء میں ہوئی۔ اس کے بعد اس کا کزن فیروز شاہ تغلق سلطان بنا۔فیروز شاہ نے اپنے پیشرو کے مقابلے میں نسبتاً نرم اور مصالحتی پالیسی اختیار کی۔اس نے بڑے پیمانے پر نئی فتوحات کے بجائے سلطنت کے موجودہ علاقوں کو منظم کرنے پر زیادہ توجہ دی۔فیروز شاہ نے نہریں بنوائیں، زرعی زمینوں کو بہتر بنانے کے لیے آبپاشی کے منصوبے شروع کیے اور کئی نئے شہر آباد کیے۔اس کے دور میں فیروز آباد سمیت کئی تعمیراتی منصوبے مکمل ہوئے۔اس نے سرکاری عمارتیں، مساجد، مدارس، سرائیں اور باغات بھی تعمیر کروائے۔فیروز شاہ کے بعد تغلق خاندان کا زوالفیروز شاہ تغلق کی وفات 1388ء میں ہوئی۔اس کے بعد تغلق خاندان میں جانشینی کے جھگڑے شروع ہوگئے۔ مختلف شہزادے اور امرا اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے خلاف ہوگئے۔مرکزی حکومت کمزور ہوتی گئی اور صوبائی حکمران آزاد ہونے لگے۔اسی سیاسی کمزوری کے دوران 1398ء میں وسطی ایشیا کا فاتح امیر تیمور ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔تیمور نے دہلی پر قبضہ کیا اور شہر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور تباہی ہوئی۔ اس حملے نے دہلی سلطنت کی رہی سہی مرکزی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔تیمور ہندوستان میں مستقل حکومت قائم کرنے کے بجائے واپس چلا گیا، لیکن اس کے حملے کے بعد تغلق خاندان عملی طور پر بہت کمزور ہوگیا۔تغلق خاندان کا آخری انجامتیمور کے حملے کے بعد دہلی سلطنت کا اقتدار بہت محدود رہ گیا۔تغلق خاندان کے آخری حکمرانوں میں ناصر الدین محمود شاہ تغلق اہم تھا، لیکن اس کے پاس پورے ہندوستان پر حقیقی اقتدار نہیں تھا۔1412ء میں تغلق خاندان کا آخری دور ختم ہوا اور 1414ء میں تیمور کے نمائندے خضر خان نے دہلی پر قبضہ کرلیا۔

مملوک → خلجی → تغلق → سیدتغلق خاندان کی تاریخی اہمیت

تغلق خاندان دہلی سلطنت کے سب سے اہم خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔غیاث الدین تغلق نے مرکزی حکومت کو دوبارہ مضبوط کیا۔محمد بن تغلق نے سلطنت کو رقبے کے اعتبار سے انتہائی وسیع کیا، لیکن اس کے کئی بڑے انتظامی تجربات ناکام ہوئے۔فیروز شاہ تغلق نے جنگی فتوحات کے بجائے آبپاشی، زراعت، تعمیرات اور انتظامی منصوبوں پر توجہ دی۔تغلق دور میں دہلی سلطنت اپنے سب سے وسیع علاقوں میں سے ایک تک پہنچی، لیکن اسی وسعت نے مرکزی حکومت کے لیے مشکلات بھی پیدا کیں۔اس دور میں دکن اور جنوبی ہندوستان میں نئی طاقتیں ابھریں اور دہلی کی گرفت کمزور ہوتی

گئی۔خلاصہتغلق خاندان دہلی سلطنت کا تیسرا خاندان تھا، جس نے 1320ء سے 1414ء تک تقریباً 94 سال حکومت کی۔غیاث الدین تغلق نے 1320ء میں خسرو خان کو شکست دے کر تغلق خاندان قائم کیا اور دہلی سلطنت میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی۔اس کے بعد محمد بن تغلق حکمران بنا۔ وہ ایک ذہین اور تعلیم یافتہ حکمران تھا، لیکن اس کی کئی پالیسیاں عملی مشکلات کی وجہ سے ناکام ہوئیں۔اس نے دارالحکومت دہلی سے دولت آباد منتقل کرنے کی کوشش کی، تانبے کی ٹوکن کرنسی جاری کی اور ٹیکس کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں۔محمد بن تغلق کے دور میں دہلی سلطنت بہت وسیع ہوئی، لیکن دکن، بنگال اور دوسرے علاقوں میں مسلسل بغاوتوں کی وجہ سے سلطنت کی مرکزی طاقت کمزور ہوگئی۔اس کے بعد فیروز شاہ تغلق نے حکومت سنبھالی اور نہروں، آبپاشی، زراعت، شہروں، مدارس اور تعمیرات پر توجہ دی۔1388ء میں فیروز شاہ کی وفات کے بعد تغلق خاندان میں جانشینی کے جھگڑے شروع ہوگئے۔1398ء میں امیر تیمور کے حملے نے دہلی سلطنت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد تغلق خاندان کی طاقت تقریباً ختم ہوگئی۔بالآخر 1414ء میں خضر خان نے دہلی پر قبضہ کرکے سید خاندان کی حکومت قائم کی۔یوں دہلی سلطنت کا تاریخی سلسلہ آگے بڑھا:مملوک → خلجی → تغلق → سید → لودھی → مغل

The Delhi Sultanate: A Political and Military History — Peter Jackson2. Medieval India: From Sultanat to the Mughals, Part I — Satish Chandra3. A History of Medieval India — Satish Chandra4. The Cambridge History of India, Volume III: Turks and Afghans — مختلف محققین5. The Sultanate of Delhi — V. D. Mahajan6. Tarikh-i-Firuz Shahi — Ziauddin Barani7. Tarikh-i-Firuz Shahi — Shams-i-Siraj Afif8. Tughluq Dynasty — مختلف تاریخی مطالعات9. Zafarnama — Sharaf al-Din Ali Yazdi

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top