انسان نے دنیا کیسے بدل دی
تقریباً بارہ ہزار سال پہلے انسان ایک ایسے مقام پر کھڑا تھا جہاں اس کی زندگی لاکھوں سال کی نسبت سے بہت زیادہ نہیں بدلی تھی وہ اب بھی شکار کرتا تھا، جنگلی پودے جمع کرتا تھا، مچھلی پکڑتا تھا اور موسم کے ساتھ اپنی جگہ بدلتا تھا۔ اس کے پاس پتھر کے اوزار تھے، آگ تھی، اپنے ساتھیوں کا ساتھ تھا اور اپنے ماحول کو سمجھنے کا طویل تجربہ تھا۔لیکن دنیا بدل رہی تھی
آخری برفانی دور ختم ہونے کے بعد موسم نسبتاً گرم اور مستحکم ہونے لگا تھا۔ پودوں اور جانوروں کی دنیا بھی بدل رہی تھی۔ کچھ علاقوں میں جنگلی اناج اور دوسرے قابلِ خوراک پودے بڑی مقدار میں پیدا ہونے لگے۔اور انسان نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ اگر وہ ہر سال صرف جنگلی فصل کے پیچھے چلنے کے بجائے اسی جگہ کے وسائل کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرے تو شاید اس کی زندگی کچھ بدل سکتی ہے۔
یہ تبدیلی کسی ایک دن نہیں آئی۔نہ کسی ایک انسان نے زراعت ایجاد کی یہ ہزاروں سال پر پھیلا ہوا ایک خاموش سفر تھا۔
شکاری سے کسان تک
مشرقِ وسطیٰ کے ایک وسیع علاقے کو آج ہم Fertile Crescent کہتے ہیں۔ اس میں موجودہ عراق، شام، فلسطین، اردن، لبنان، اسرائیل، ترکی کے کچھ علاقے اور مغربی ایران کے حصے شامل تھے۔
یہ علاقہ انسانی تاریخ میں اس لیے اہم بن گیا کہ یہاں انسان نے جنگلی پودوں اور جانوروں کو صرف حاصل کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ ان کے انتظام اور پھر domestication کی طرف قدم بڑھایا۔ابتدائی مرحلے میں انسان اب بھی شکاری اور خوراک جمع کرنے والا تھا۔ لیکن کچھ گروہ ایک ہی علاقے میں زیادہ دیر رہنے لگے ہین جانتے تھے کہ کہاں جنگلی گندم اگتی ہے۔کس موسم میں جَو ملتا ہے۔
کون سا پودا کب پک کر تیار ہوتا ہے۔اور کون سی جگہ اگلے سال دوبارہ خوراک دے سکتی ہے۔یہ معلومات نسل در نسل منتقل ہونے لگیں۔پھر شاید کسی نے دانستہ طور پر بیج دوبارہ زمین میں ڈالے
کسی نے پودوں کو محفوظ رکھا
کسی نے فصل کے قریب رہنا شروع کیا۔اور آہستہ آہستہ انسان اور پودے کے درمیان تعلق بدلنے لگاتحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ زراعت کا آغاز بھی ایک اچانک تبدیلی نہیں تھا؛ انسان نے پہلے طویل عرصے تک جنگلی پودوں اور جانوروں کو زیادہ منظم طریقے سے استعمال کیا، پھر رفتہ رفتہ باقاعدہ domestication سامنے آئی۔یعنی کسان اچانک پیدا نہیں ہوا۔
شکاری خود آہستہ آہستہ کسان بنتا گیا۔اور شاید انسان کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے ساتھ پوری دنیا کا مستقبل بدل رہا ہے
۔ایک جگہ ٹھہرنے کی ابتدا
جب خوراک کسی خاص علاقے میں زیادہ دستیاب ہونے لگی تو ہر وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی ضرورت کم ہوئی انسان نے عارضی رہائش کی جگہوں کو زیادہ مستقل بنانا شروع کیا۔مٹی اور پتھر سے دیواریں بنیں۔
ذخیرہ کرنے کے لیے جگہیں بنیں۔
خوراک کو ایک موسم سے دوسرے موسم تک محفوظ کرنے کے طریقے بہتر ہوئے۔
اور پھر ایک عجیب تبدیلی ہوئی۔
انسان جس جگہ رہتا تھا، وہ جگہ صرف قیام کی جگہ نہیں رہی۔ وہ گھر بننے لگی۔کچھ بستیوں میں ایک گھر کے ساتھ دوسرا گھر بن گیا، پھر تیسرا، پھر کئی گھر۔
لوگ ایک دوسرے کے قریب رہنے لگے۔یہیں سے انسانی معاشرے کی ایک نئی شکل پیدا ہوئی۔
اب انسان صرف اپنے خاندان کے ساتھ نہیں رہ رہا تھا۔وہ پڑوسیوں کے ساتھ بھی رہ رہا تھا۔
کسی کے پاس شکار کا ہنر تھا، کسی کو پودوں کا علم تھا، کوئی اوزار بہتر بناتا تھا، کوئی گھر تعمیر کرنے میں ماہر تھا۔
انسانی زندگی میں کام کی تقسیم آہستہ آہستہ زیادہ اہم ہونے لگی۔
: ایک نئی دنیا کی جھلک
تقریباً نو سے دس ہزار سال پہلے کے قریب مشرقِ وسطیٰ میں ایسی بستیاں سامنے آنے لگیں جو پہلے کے چھوٹے انسانی کیمپوں سے بہت مختلف تھیں۔
ان میں سے ایک اہم مقام Jericho ہے۔
یہاں مستقل رہائش، تعمیرات، ذخیرہ کرنے اور اجتماعی زندگی کے ایسے شواہد ملتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان اب ایک نئی طرزِ زندگی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
Jericho کی تاریخ کئی ادوار پر مشتمل ہے، اور اس مقام پر بار بار آبادی ہوئی اور بعض اوقات بستی چھوڑی بھی گئی۔ لیکن اس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ ہمیں زراعت کے بعد پیدا ہونے والی ابتدائی مستقل آبادیوں کی دنیا دکھاتا ہے۔
یہاں انسان اب صرف آج کی خوراک کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔اسے کل کی فکر بھی تھی۔
اگر فصل ہے تو اسے ذخیرہ کرنا ہوگا۔اگرجانور ہیں تو ان کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔
اگر لوگ ایک جگہ رہتے ہیں تو پانی، گھر، خوراک اور حفاظت کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔
زندگی اب زیادہ منظم ہو رہی تھی۔
لیکن اس کے ساتھ ایک نئی مشکل بھی پیدا ہوئی۔
زیادہ لوگ، زیادہ ضروریات۔
اور یہی چیز آگے چل کر انسانی معاشرے کو مزید پیچیدہ بنانے والی تھی۔گائوں بننے لگے
وقت گزرتا گیا۔
کچھ بستیاں بڑی ہوئیں اور کچھ چھوٹی رہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں زراعت کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں میں بھی انسان نے اپنے مقامی پودوں اور جانوروں کو domesticate کرنا شروع کیا۔
چین میں دریائے یانگ زی اور دریائے زرد کے علاقوں میں چاول اور باجرے کی کاشت کے شواہد سامنے آئے۔
جنوبی ایشیا میں Mehrgarh جیسی بستیوں نے زراعت، جانور پالنے اور دور دراز تجارت کی ابتدائی شکلیں دکھائیں۔
یعنی زراعت صرف ایک جگہ سے پوری دنیا میں ایک ہی طریقے سے نہیں پھیلی۔
دنیا کے مختلف حصوں میں انسان نے اپنے ماحول کے مطابق خوراک پیدا کرنے کے مختلف راستے اختیار کیے۔
یہ بات انسانی تاریخ کے بارے میں ایک اہم سبق دیتی ہے۔
انسان صرف ماحول کے مطابق نہیں ڈھلتا، وہ ماحول کے ساتھ اپنا تعلق بھی بدل لیتا ہے۔
گوبیکلی تپے: کسانوں سے پہلے کے بڑے سوالات
اب کہانی میں ایک ایسا مقام آتا ہے جو آج بھی آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو حیران کرتا ہے۔
ترکی کے جنوب مشرق میں Göbekli Tepe۔
یہ تقریباً 10 ہزار سال پہلے کے قریب تعمیر ہونے والی یادگار عمارتوں کا ایک پیچیدہ مقام ہے۔ یہاں بڑے پتھریلے ستون، جانوروں کی نقش کاری اور اجتماعی تعمیرات ملتی ہیں۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اس زمانے کی یادگار ہے جب انسان ابھی مکمل شہری تہذیب تک نہیں پہنچا تھا۔
اس نے اتنے بڑے پتھر کیوں اٹھائے؟
اتنے لوگ ایک جگہ کیسے جمع ہوئے؟
یہ تعمیرات کس مقصد کے لیے تھیں؟
ہم ان سوالات کے تمام جوابات نہیں جانتے۔
لیکن Göbekli Tepe ہمیں ایک اہم بات ضرور بتاتا ہے:
انسان کی اجتماعی زندگی زراعت اور شہروں کے ظہور سے پہلے ہی پیچیدہ ہو رہی تھی۔
کبھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ پہلے انسان نے زراعت ایجاد کی، پھر گاؤں بنائے، پھر مذہبی عمارتیں بنیں۔
لیکن اب تصویر زیادہ پیچیدہ ہے۔
ممکن ہے کہ اجتماعی رسومات، سماجی تعاون اور مستقل یا نیم مستقل رہائش کے کچھ عناصر نے خود زراعت کے راستے کو بھی متاثر کیا ہو۔
یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ:
زراعت نے انسان کو کیسے بدلا؟
بلکہ یہ بھی ہے کہ:
انسان کی بدلتی ہوئی سماجی زندگی نے زراعت کو کیسے جنم دیا؟
Çatalhöyük: جب گھر ایک دوسرے سے جڑ گئے
تقریباً سات سے نو ہزار سال پہلے کے درمیان اناطولیہ میں Çatalhöyük جیسی بڑی Neolithic بستی سامنے آتی ہے۔
یہ عام گاؤں جیسی نہیں تھی۔
گھروں کی تعمیر ایک دوسرے کے بہت قریب تھی۔ کئی جگہ گھروں میں داخل ہونے کا راستہ چھت سے تھا۔ اندرونی دیواروں پر تصویریں، نقش و نگار اور مختلف اشیاء ملتی ہیں۔
یہاں ایک ایسا انسانی معاشرہ دکھائی دیتا ہے جو نہ مکمل طور پر قدیم شکاری دنیا ہے اور نہ ابھی وہ شہری تہذیب جسے ہم بعد میں دیکھیں گے۔
لوگ ایک جگہ رہ رہے ہیں۔
خوراک پیدا کر رہے ہیں۔
جانور پال رہے ہیں۔
دستکاری کر رہے ہیں۔
اور اپنے مردوں کو دفن کرنے کے مخصوص طریقے رکھتے ہیں۔
یہ وہ درمیانی دنیا تھی جہاں گاؤں آہستہ آہستہ پیچیدہ معاشرے میں تبدیل ہو رہے تھے۔
لیکن ابھی ایک چیز غائب تھی۔
شہر۔
اور شہر کے ساتھ وہ چیز بھی غائب تھی جس کے بغیر بڑی ریاست چلانا مشکل تھا:
تحریر۔
خوراک نے طاقت پیدا کی
زراعت کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ انسان خوراک پیدا کر سکتا تھا۔
لیکن خوراک پیدا کرنے کے ساتھ ایک اور چیز پیدا ہوئی:
اضافی خوراک۔
اگر ایک کسان اپنے خاندان کی ضرورت سے زیادہ اناج پیدا کرے تو وہ اضافی اناج کسی اور چیز کے بدلے دے سکتا ہے۔
وہ کسی اوزار بنانے والے سے اوزار لے سکتا ہے۔
کسی شکاری سے گوشت لے سکتا ہے۔
کسی کاریگر سے برتن لے سکتا ہے۔
یہیں سے تبادلہ بڑھنے لگا۔
پھر کچھ لوگ زیادہ مخصوص کام کرنے لگے۔
کوئی برتن بناتا۔
کوئی کپڑا یا لباس تیار کرتا۔
کوئی دھات کا کام سیکھتا۔
کوئی تعمیرات میں ماہر ہوتا۔
اور یوں انسانی معاشرہ آہستہ آہستہ specialization کی طرف بڑھتا گیا۔
لیکن جیسے جیسے معاشرہ بڑا ہوا، ایک نیا مسئلہ سامنے آیا۔
اگر ایک گاؤں میں چند درجن لوگ ہوں تو سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔
لیکن اگر آبادی سیکڑوں یا ہزاروں تک پہنچ جائے تو خوراک کس کے پاس ہے؟
کس کو کتنی دی گئی؟
کس نے کتنا اناج جمع کیا؟
کس کے پاس کتنے جانور ہیں؟
کون کس کا قرض دار ہے؟
ان سوالات نے انسانی تاریخ میں ایک ایسی ضرورت پیدا کی جو بعد میں تحریر کی بڑی وجہ بنی۔
دریاؤں کے کنارے نئی دنیا
اب ہم چند ہزار سال مزید آگے بڑھتے ہیں۔
جنوبی Mesopotamia میں دجلہ اور فرات کے درمیان کا علاقہ انسانی آبادی کے لیے بہت اہم بننے لگا۔
یہ زمین بعض جگہ انتہائی زرخیز تھی، لیکن اس کے ساتھ پانی کا مسئلہ بھی تھا۔
دریاؤں کے پانی کو استعمال کرنا، زمین کو کاشت کے قابل بنانا، آبپاشی کے انتظامات کرنا اور بڑے پیمانے پر خوراک پیدا کرنا اجتماعی محنت مانگتا تھا۔
چھوٹی بستی سے بڑا معاشرہ بنتا گیا۔
بستی کے اندر مختلف کام تقسیم ہوئے۔
مذہبی عمارتیں بنیں۔
انتظامی نظام پیدا ہوا۔
دور دراز علاقوں سے سامان آنے لگا۔
اور کچھ بستیوں نے ایسی شکل اختیار کرلی جسے ہم پہلی بار شہر کہہ سکتے ہیں۔
اُروک: جب بستی شہر بن گئی
تقریباً 3200 قبل مسیح تک جنوبی Mesopotamia میں Uruk ایک بہت بڑا شہری مرکز بن چکا تھا۔
یہ صرف گھروں کا مجموعہ نہیں تھا۔
یہ ایک منظم شہری معاشرہ تھا، جس میں بڑے پیمانے کی تعمیرات، مذہبی مراکز، کاریگر، منتظمین اور مختلف پیشے موجود تھے۔
Metropolitan Museum کے مطابق Uruk اس زمانے میں جنوبی Mesopotamia بلکہ ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا settlement تھا، اور اس کے بڑے مذہبی و انتظامی مراکز نے معاشرے کو ایک نئی سطح کی پیچیدگی دی۔
یہ وہ مقام تھا جہاں انسان کی پچھلے ہزاروں سال کی محنت ایک نئی شکل اختیار کر رہی تھی۔
ایک وقت تھا جب انسان چند افراد کے گروہ میں شکار کرتا تھا۔
پھر وہ گاؤں میں رہنے لگا۔
پھر گاؤں بڑا ہوا۔
پھر شہر وجود میں آیا۔
اور اب شہر کو چلانے کے لیے صرف یادداشت کافی نہیں تھی۔
کچھ چیزیں لکھنا ضروری ہوگئی تھیں۔
جب انسان نے بات کو مٹی پر محفوظ کیا
تحریر شاید کسی ایک دن اچانک ایجاد نہیں ہوئی۔
اس کی ابتدائی شکلیں حساب، سامان اور انتظام سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
انسان نے مٹی کی تختیوں پر نشانات بنانا شروع کیے۔
کتنا اناج آیا؟
کتنا دیا گیا؟
کتنے جانور ہیں؟
کتنے کارکن ہیں؟
شروع میں یہ نشانات مکمل زبان نہیں تھے جیسے ہم آج جملے لکھتے ہیں۔
یہ زیادہ تر چیزوں اور مقداروں کا حساب رکھنے کا ذریعہ تھے۔
لیکن یہی چھوٹے چھوٹے نشانات وقت کے ساتھ پیچیدہ ہوتے گئے۔
اور پھر انسان نے پہلی مرتبہ اپنی بات کو اس طرح محفوظ کرنا شروع کیا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں بھی باقی رہ سکے۔
Uruk سے ملنے والی تقریبا 3100–2900 قبل مسیح کی تختیوں میں ابتدائی تحریری نظام کی شکل نظر آتی ہے، جبکہ ان سے پہلے کے pictographic signs انتظامی حساب کتاب کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہی روایت آگے چل کر cuneiform یعنی میخی خط کی صورت میں پھیلی۔
یہ انسانی تاریخ میں شاید سب سے بڑی ذہنی چھلانگوں میں سے ایک تھی۔
اب انسان صرف اپنے ذہن میں یاد نہیں رکھتا تھا۔
وہ اپنی یاد کو مٹی پر منتقل کر سکتا تھا۔
تہذیب کی دہلیز
اب ہم اس سفر کے آخر میں کھڑے ہیں۔
بارہ ہزار سال پہلے انسان چھوٹے گروہوں میں شکار اور خوراک جمع کر رہا تھا۔
پھر اس نے پودوں کو کاشت کرنا شروع کیا۔
جانوروں کو پالنا سیکھا۔
مستقل بستیاں بنائیں۔
گاؤں بنے۔
خوراک ذخیرہ ہوئی۔
کام تقسیم ہوا۔
تجارت بڑھی۔
مذہبی اور اجتماعی عمارتیں بنیں۔
بڑی آبادیوں نے جنم لیا۔
شہر وجود میں آئے۔
اور آخرکار انسان نے اپنے حساب کتاب کو مٹی پر لکھنا شروع کر دیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہم تہذیب کے ابتدائی دروازے پر پہنچتے ہیں۔
لیکن تہذیب صرف شہر کا نام نہیں۔
یہ ایک ایسا پیچیدہ معاشرہ ہے جہاں بڑی آبادی، مستقل بستیاں، پیداوار اور ذخیرہ، مختلف پیشے، انتظامی ڈھانچے، سماجی درجہ بندی، تجارت، مذہبی ادارے اور بالآخر تحریر جیسی خصوصیات ایک دوسرے سے جڑنے لگتی ہیں۔
اور یہ سب کسی ایک بادشاہ نے شروع نہیں کیا تھا۔
اس کے پیچھے ہزاروں سال تک کام کرنے والے بے شمار عام انسان تھے۔
وہ کسان جس نے پہلی بار بیج کو زمین میں ڈالا۔
وہ عورت جس نے جنگلی پودوں کو پہچانا اور اگلی فصل کے لیے محفوظ کیا۔
وہ شخص جس نے جانوروں کو پالنا سیکھا۔
وہ کاریگر جس نے برتن بنایا۔
وہ مزدور جس نے مٹی کی اینٹ اٹھائی۔
وہ شخص جس نے اناج کا حساب رکھا۔
اور آخر میں وہ کاتب جس نے گیلی مٹی پر ایک نشان بنایا۔
شاید اسے اس وقت معلوم بھی نہ تھا کہ اس چھوٹے سے نشان کے ساتھ انسان اپنی یادداشت کو ہمیشہ کے لیے بدل رہا ہے۔
یہی انسان تھا جو کبھی غار کی تاریکی میں آگ کے گرد بیٹھتا تھا۔
پھر اس نے کھلے میدانوں میں شکار کیا۔
پھر زمین میں بیج ڈالا۔
پھر گھر بنایا۔
پھر گاؤں بنایا۔
پھر شہر بنایا۔
اور آخرکار اس نے اپنی آواز کو مٹی پر لکھ دیا۔
یہاں سے قبل از تاریخ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے اور تحریری تاریخ کا دروازہ کھلتا ہے۔
لیکن یہ بھی مکمل اختتام نہیں۔
کیونکہ اب انسان صرف تہذیب بنانے والا نہیں تھا۔
اب وہ ریاست بنانے، بادشاہت قائم کرنے، جنگ کرنے، قانون لکھنے، دیوتاؤں کے لیے مندر بنانے اور اپنی طاقت کو ہزاروں لوگوں تک پھیلانے والا انسان بننے جا رہا تھا۔
اور اس نئی دنیا کا پہلا بڑا منظر ہمیں دجلہ و فرات کی سرزمین میں دکھائی دیتا ہے۔
سومر۔
یہیں سے انسانی تاریخ کا اگلا باب شروع ہوتا ہے
