چنگیز خان کے سب سے چھوٹے بیٹے
چنگیز خان اور تولوی خان کا تعلق
تولوی خان، چنگیز خان اور ان کی اہلیہ بورٹے کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کے بڑے بھائی جوجی، چغتائی اور اوگتائی تھے۔
تولوی چنگیز خان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔ چنگیز خان نے اپنی زندگی کے آخری دور میں تولوی کو منگولیا کے مرکزی علاقوں اور فوجی طاقت کے ایک بڑے حصے کی نگرانی سونپی۔
تولوی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ چنگیز خان کے بعد اگرچہ اوگتائی عظیم خان بنے، لیکن تولوی خاندان نے بعد میں منگول سلطنت کے مرکزی اقتدار پر مضبوط گرفت قائم کی۔
چنگیز خان اور تولوی کے تعلقات
چنگیز خان اور تولوی کے درمیان قریبی تعلق تھا۔ تولوی نے اپنے والد کی مختلف فوجی مہمات میں حصہ لیا اور منگول فوجی نظام سے اچھی طرح واقف تھے۔
چنگیز خان نے تولوی کو اپنی سلطنت کے مشرقی اور مرکزی علاقوں میں اہم ذمہ داریاں دیں۔
چنگیز خان کی وفات 1227ء میں ہوئی۔ اس کے بعد منگول روایت کے مطابق تولوی نے کچھ عرصے کے لیے سلطنت کے مرکزی معاملات سنبھالے، کیونکہ نئے عظیم خان کے انتخاب تک عبوری انتظام کی ضرورت تھی۔
تولوی کو سلطنت میں سے کیا حصہ ملا؟
چنگیز خان کی تقسیمِ سلطنت میں تولوی کو بنیادی طور پر منگولیا کا مرکزی اور آبائی علاقہ ملا۔
یہ علاقہ دوسرے بھائیوں کے علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا تھا، لیکن اس کی سیاسی اور فوجی اہمیت بہت زیادہ تھی۔
منگولیا کا یہ مرکزی علاقہ چنگیز خان کے خاندان، منگول فوج اور شاہی اقتدار کا بنیادی مرکز تھا۔
اسی وجہ سے تولوی خاندان کے پاس بعد میں منگول سلطنت کے مرکزی اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد موجود تھی۔
تولوی کا علاقہ موجودہ کون سے ملک میں تھا؟
تولوی کا بنیادی علاقہ آج کے منگولیا میں واقع تھا۔
اس کے علاوہ منگول سلطنت کے پھیلاؤ کے ساتھ تولوی خاندان کی سیاسی طاقت بعد میں چین، ایران اور وسطی ایشیا کے وسیع علاقوں تک پہنچ گئی۔
تولوی کے اپنے ابتدائی اولوس کو موجودہ کسی ایک ملک کی مکمل سرحدوں کے برابر قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس زمانے میں جدید قومی ریاستیں اور ان کی موجودہ سرحدیں موجود نہیں تھیں۔
تولوی کے دور میں کیا ہوا؟
تولوی خود طویل عرصے تک عظیم خان نہیں رہے، لیکن انہوں نے منگول سلطنت کی فوجی اور سیاسی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
چنگیز خان کی وفات کے بعد 1229ء تک تولوی نے منگول سلطنت کے مرکزی انتظام میں عبوری کردار ادا کیا۔
1229ء میں قوریلتائی کے ذریعے اوگتائی خان کو عظیم خان منتخب کیا گیا۔
اس کے بعد تولوی نے اوگتائی کی حکومت کو قبول کیا اور سلطنت کے معاملات میں اپنا کردار جاری رکھا۔
تولوی اور خراسان و ایران کی فتوحات
تولوی کی سب سے اہم فوجی ذمہ داریوں میں سے ایک خراسان اور ایران کی طرف منگول مہم تھی۔
چنگیز خان کی آخری فتوحات کے بعد منگول سلطنت کو خراسان، فارس اور افغانستان کے علاقوں میں مزید مضبوط کرنا ضروری تھا۔
تولوی نے 1220ء کی دہائی میں ان علاقوں میں منگول فوجی مہم کی قیادت کی۔
مرو، نیشاپور، ہرات اور دیگر علاقوں پر منگول حملوں میں بڑی تباہی ہوئی۔ ان فتوحات نے خراسان اور مشرقی ایران کو منگول اقتدار کے زیر اثر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تولوی کی وفات
تولوی کی وفات 1232ء میں ہوئی۔
ان کی وفات کی وجہ کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں۔ بعض منگول روایات کے مطابق اوگتائی خان شدید بیمار تھے اور تولوی نے ایک مذہبی یا روحانی رسم کے تحت اپنی جان قربان کرکے اپنے بھائی کو بچانے کی پیشکش کی۔
اس روایت کے مطابق تولوی نے ایک مشروب پیا اور اوگتائی کی بیماری اپنے اوپر لینے کی کوشش کی، جس کے بعد ان کی موت ہوگئی۔
تاہم جدید مورخین اس روایت کو احتیاط سے دیکھتے ہیں اور تولوی کی موت کے بارے میں تمام تفصیلات کو قطعی تاریخی حقیقت نہیں سمجھتے۔
تولوی کے بعد کیا ہوا؟
تولوی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ سورغختانی بیگی نے اپنے بچوں کی پرورش اور سیاسی مستقبل کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
سورغختانی بیگی منگول تاریخ کی انتہائی بااثر خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔
تولوی کے بیٹوں میں:
منگکے خان، قبلائی خان، ہلاکو خان اور اریق بوقہ
سب سے زیادہ مشہور ہوئے۔
ان بیٹوں نے بعد میں منگول سلطنت کی مختلف بڑی ریاستوں کی بنیاد یا قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔
تولوی خاندان کا عروج
تولوی کی وفات کے وقت ان کے بیٹے ابھی بہت کم عمر تھے، لیکن بعد میں تولوی خاندان نے منگول سلطنت کے سیاسی مرکز پر قبضہ مضبوط کرلیا۔
1251ء میں تولوی کے بیٹے منگکے خان عظیم خان بنے۔
یہ تولوی خاندان کے لیے بہت بڑا سیاسی موڑ تھا۔
منگکے کے بعد ان کے بھائی قبلائی خان اور اریق بوقہ کے درمیان عظیم خان کی جانشینی کے لیے جنگ ہوئی۔
قبلائی کامیاب ہوئے اور چین میں یوان سلطنت قائم کی۔
ہلاکو خان اور ایران
تولوی کے ایک اور بیٹے ہلاکو خان نے مغربی ایشیا میں منگول اقتدار کو بہت وسعت دی۔
ہلاکو نے 1258ء میں بغداد پر قبضہ کیا اور عباسی خلافت کے سیاسی اقتدار کا خاتمہ کردیا۔
اس کے بعد ایران اور عراق کے بڑے حصے میں ایلخانی سلطنت قائم ہوئی۔
اس طرح تولوی خاندان کی ایک شاخ چین میں اور دوسری ایران و عراق میں بڑی طاقت بن گئی۔
قبلائی خان اور چین
تولوی کے بیٹے قبلائی خان منگول تاریخ کے سب سے طاقتور حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
1260ء میں قبلائی خان عظیم خان بنے۔ بعد میں انہوں نے چین میں اپنی حکومت مضبوط کی اور یوان سلطنت قائم کی۔
1271ء میں قبلائی نے اپنی چینی سلطنت کے لیے یوان کا نام اختیار کیا اور 1279ء میں جنوبی سونگ سلطنت کو شکست دے کر پورے چین پر منگول اقتدار قائم کیا۔
اس طرح تولوی خاندان نے چین کی تاریخ میں ایک مکمل شاہی خاندان قائم کیا۔
تولوی خاندان اور منگول سلطنت کی تقسیم
تولوی خاندان کے عروج کے زمانے میں منگول سلطنت پہلے ہی مختلف سیاسی حصوں میں تقسیم ہونے لگی تھی۔
جوجی خاندان کے پاس گولڈن ہورڈ تھا۔
چغتائی خاندان کے پاس چغتائی خانیت تھی۔
تولوی خاندان کے پاس بعد میں یوان سلطنت اور ایلخانی سلطنت جیسے بڑے سیاسی مراکز آگئے۔
اوگتائی خاندان بھی سیاسی طور پر موجود رہا، لیکن عظیم خان کا مرکزی اقتدار بالآخر زیادہ مضبوطی سے تولوی خاندان کے ہاتھ میں آگیا۔
تولوی خاندان کا زوال
تولوی خاندان فوراً ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی مختلف شاخیں کئی صدیوں تک حکمران رہیں۔
چین میں قبلائی خان کی قائم کردہ یوان سلطنت 1368ء میں ختم ہوئی، جب چینی منگ خاندان نے منگولوں کو چین سے نکال دیا۔
ایران میں ایلخانی سلطنت 14ویں صدی کے وسط میں ختم ہوگئی۔
تاہم تولوی خاندان کی دوسری شاخیں منگولیا اور وسطی ایشیا میں بھی موجود رہیں۔
اس لیے تولوی خاندان کے “زوال” کے لیے ایک ہی تاریخ مقرر کرنا درست نہیں۔
تولوی کے بعد منگول سلطنت کب تک قائم رہی؟
تولوی کی وفات 1232ء میں ہوئی، لیکن منگول سلطنت اس کے بعد تقریباً دو صدیوں تک مختلف شکلوں میں قائم رہی۔
چین میں یوان سلطنت 1271ء سے 1368ء تک قائم رہی۔
ایران میں ایلخانی سلطنت 1256ء سے 1335ء کے بعد تک مختلف شکلوں میں موجود رہی۔
گولڈن ہورڈ اور چغتائی خانیت بھی کئی صدیوں تک مختلف شکلوں میں قائم رہیں۔
اس طرح تولوی کی وفات کے بعد بھی چنگیز خان کی قائم کردہ سیاسی میراث ایشیا کے ایک بہت بڑے حصے میں جاری رہی۔
آخری قبضہ کس کا تھا؟
تولوی خاندان کی مختلف ریاستیں مختلف اوقات میں ختم ہوئیں۔
چین میں یوان سلطنت کا خاتمہ 1368ء میں ہوا اور منگول حکمرانوں کو چین سے نکال دیا گیا۔ منگ خاندان نے چین پر قبضہ قائم کیا۔
ایران میں ایلخانی سلطنت کا مرکزی نظام 14ویں صدی میں ختم ہوگیا اور مختلف مقامی اور علاقائی حکمران طاقتور ہوگئے۔
منگولیا میں چنگیزی خاندانوں کی حکمرانی اس کے بعد بھی جاری رہی اور بعد کی صدیوں میں مختلف منگول خانیتیں وجود میں آتی رہیں۔
تولوی اور مغل سلطنت کا تعلق
تولوی خاندان کا مغل سلطنت سے براہِ راست نسبی تعلق نہیں تھا، کیونکہ مغل سلطنت کے بانی بابر تیموری اور چنگیزی دونوں نسب سے تعلق رکھتے تھے، لیکن بابر کی چنگیزی نسبت جوجی یا تولوی کے ذریعے نہیں بلکہ چغتائی خاندان کی طرف سے تھی۔
بابر کی والدہ قطلق نگار خانم، چنگیز خان کے بیٹے چغتائی کی نسل سے وابستہ مغلستان کے حکمران خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
اس لیے بابر کی چنگیزی نسبت چغتائی شاخ سے تھی، تولوی شاخ سے نہیں۔
تولوی کی تاریخی اہمیت
تولوی خان کی تاریخی اہمیت ان کے اپنے دور سے کہیں زیادہ ان کی اولاد کی وجہ سے ہے۔
ان کے بیٹے منگکے، قبلائی، ہلاکو اور اریق بوقہ نے منگول سلطنت کی تاریخ کو تبدیل کردیا۔
منگکے عظیم خان بنے۔
قبلائی نے چین میں یوان سلطنت قائم کی۔
ہلاکو نے ایران اور عراق میں ایلخانی سلطنت قائم کی۔
اریق بوقہ نے قبلائی کے مقابلے میں عظیم خان کے منصب کے لیے جنگ کی۔
اس طرح تولوی خاندان نے 13ویں صدی کی منگول سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی۔
خلاصہ
تولوی خان چنگیز خان اور بورٹے کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہیں منگولیا کا مرکزی اور آبائی علاقہ ملا، جو منگول سلطنت کے سیاسی اور فوجی نظام کا بنیادی مرکز تھا۔
چنگیز خان کی وفات کے بعد تولوی نے عبوری طور پر مرکزی حکومت کے معاملات سنبھالے، لیکن 1229ء میں اوگتائی خان کو عظیم خان منتخب کیا گیا۔
تولوی نے خراسان اور ایران کی منگول فتوحات میں بھی اہم فوجی کردار ادا کیا۔ 1232ء میں ان کی وفات ہوگئی۔
ان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ سورغختانی بیگی نے اپنے بچوں کی پرورش اور سیاسی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تولوی کے بیٹے منگکے، قبلائی، ہلاکو اور اریق بوقہ بعد میں منگول سلطنت کے انتہائی اہم حکمران بنے۔ منگکے عظیم خان بنے، قبلائی نے چین میں یوان سلطنت قائم کی اور ہلاکو نے ایران و عراق میں ایلخانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔
اس طرح اگرچہ تولوی خود طویل عرصے تک عظیم خان نہیں رہے، لیکن ان کی اولاد نے منگول سلطنت کے بڑے حصے پر حکمرانی کی۔ چنگیز خان کے چار بڑے بیٹوں میں تولوی کی شاخ نے بالآخر مرکزی منگول اقتدار پر سب سے زیادہ دیر تک اثر قائم رکھا۔
ریفرنس کتب
- The Secret History of the Mongols — Igor de Rachewiltz
- The Mongols — David Morgan
- The Mongol Empire: A Historical Encyclopedia — Timothy May
- The Mongols and the Islamic World: From Conquest to Conversion — Peter Jackson
- The Cambridge History of Inner Asia: The Chinggisid Age — Nicola Di Cosmo, Allen J. Frank & Peter B. Golden
- The Cambridge History of China, Volume 6: Alien Regimes and Border States, 907–1368 — Herbert Franke & Denis Twitchett
- The Mission of Friar William of Rubruck — William of Rubruck
- The Travels of Marco Polo — Marco Polo