خلافتِ عثمانیہ کے بعد مسلم دنیا — حصہ چہارم

وہ مسلم ممالک جو عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھے

خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد دنیا کے تمام مسلم ممالک عثمانی سلطنت سے آزاد نہیں ہوئے۔ بہت سے مسلم ممالک پہلے ہی اپنی الگ سلطنتوں، ریاستوں اور حکمران خاندانوں کے تحت موجود تھے۔ ان میں ایران، افغانستان، وسطی ایشیا، برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کی تاریخ عثمانی خلافت کے خاتمے سے الگ ہے، لیکن بیسویں صدی میں ان میں سے بہت سے ممالک یورپی نوآبادیاتی طاقتوں سے آزاد ہو کر جدید قومی ریاستوں میں تبدیل ہوئے۔

افغانستان کبھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں رہا۔ یہاں درانی سلطنت کے بعد مختلف افغان حکمران خاندان اقتدار میں آئے۔ انیسویں صدی میں افغانستان برطانوی ہندوستان اور روسی سلطنت کے درمیان ایک اہم خطہ بن گیا۔ برطانیہ نے افغانستان پر مکمل قبضہ کرنے کے بجائے اس کے خارجی معاملات پر اثر قائم رکھنے کی کوشش کی۔ 1919ء میں امان اللہ خان کے دور میں تیسری افغان جنگ ہوئی اور معاہدۂ راولپنڈی کے بعد افغانستان نے اپنی خارجہ پالیسی پر مکمل خودمختاری حاصل کرلی۔ امان اللہ خان جدید آزاد افغانستان کے نمایاں بانی حکمران سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے افغانستان کو عثمانیوں سے آزاد ہونے والا ملک نہیں بلکہ اپنی الگ تاریخی ریاست سمجھنا چاہیے۔

ایران بھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھا بلکہ صدیوں تک عثمانیوں کا ایک طاقتور ہمسایہ اور حریف رہا۔ سولہویں صدی میں صفوی سلطنت نے ایران میں ایک مضبوط مرکزی ریاست قائم کی۔ عثمانیوں اور صفویوں کے درمیان طویل جنگیں ہوئیں اور دونوں کے درمیان عراق، قفقاز اور مشرقی اناطولیہ کے علاقوں پر کشمکش رہی۔ بعد میں افشاری اور قاجاری خاندان ایران پر حکمران رہے۔ 1925ء میں رضا شاہ پہلوی نے قاجار خاندان کا خاتمہ کرکے پہلوی سلطنت قائم کی۔ ایران کی جدید ریاست کی تاریخ عثمانی خلافت سے آزادی کے بجائے اپنی الگ ایرانی سلطنتی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔

پاکستان بھی کبھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھا۔ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد برطانوی اقتدار قائم ہوا۔ مسلمانوں میں سیاسی حقوق اور جداگانہ قومی شناخت کا تصور مضبوط ہوتا گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے الگ سیاسی ریاست کا مطالبہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریکِ پاکستان کامیاب ہوئی اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست بن گیا۔ قائداعظم اس کے بانی اور پہلے گورنر جنرل تھے۔

بنگلہ دیش بھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں رہا۔ موجودہ بنگلہ دیش برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا اور 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد مشرقی پاکستان بنا۔ زبان، سیاسی نمائندگی، معاشی حقوق اور علاقائی خودمختاری کے مسائل نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اختلافات پیدا کیے۔ 1971ء میں جنگِ آزادی کے بعد بنگلہ دیش ایک آزاد ملک بن گیا۔ شیخ مجیب الرحمن کو بنگلہ دیش کا بانی رہنما سمجھا جاتا ہے۔

بھارت موجودہ معنی میں مسلم ملک نہیں، لیکن برصغیر کی مسلم تاریخ میں اس کا مقام بہت اہم ہے۔ مغلیہ سلطنت، دہلی سلطنت، بنگال، دکن اور دیگر مسلم ریاستوں نے صدیوں تک ہندوستان کے بڑے حصوں پر حکومت کی۔ برطانوی اقتدار کے بعد 1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا، جبکہ ہندوستان ایک الگ ریاست کے طور پر قائم رہا۔ اس لیے ہندوستان کو عثمانی خلافت کے بعد آزاد ہونے والا مسلم ملک کہنا درست نہیں۔

انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، لیکن یہ عثمانی سلطنت کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ یہاں اسلام مختلف مسلم سلطنتوں، تاجروں اور علماء کے ذریعے پھیلا۔ ملاکا، آچے، جاوا اور دیگر علاقوں میں مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں۔ بعد میں ڈچ ایسٹ انڈیز کے نام سے نیدرلینڈز نے وسیع علاقوں پر نوآبادیاتی اقتدار قائم کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد انڈونیشیا کی آزادی کی تحریک مضبوط ہوئی۔ 17 اگست 1945ء کو سوکارنو اور محمد حتا نے آزادی کا اعلان کیا۔ طویل جدوجہد کے بعد 1949ء میں نیدرلینڈز نے انڈونیشیا کی خودمختاری تسلیم کی۔ سوکارنو جدید انڈونیشیا کے بانی رہنماؤں میں سب سے نمایاں تھے۔

ملائیشیا بھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھا۔ یہاں ملاکا سمیت کئی مسلم سلطنتیں قائم رہیں اور بعد میں برطانوی اثر بڑھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد آزادی کی تحریک مضبوط ہوئی۔ 31 اگست 1957ء کو فیڈریشن آف ملایا آزاد ہوئی۔ 1963ء میں ملایا، صباح، سراواک اور سنگاپور کو ملا کر ملائیشیا قائم ہوا، اگرچہ سنگاپور 1965ء میں الگ ہوگیا۔ تنکو عبدالرحمن کو جدید ملائیشیا کے بانی وزیراعظم کے طور پر اہم مقام حاصل ہے۔

برونائی ایک قدیم مسلم سلطنت ہے اور عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں رہی۔ برونائی سلطنت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں برطانیہ نے برونائی پر اپنا محافظتی اثر قائم کیا۔ 1 جنوری 1984ء کو برونائی نے مکمل آزادی حاصل کی۔ سلطان حسن البلقیہ آزادی کے وقت حکمران تھے، جبکہ ان کا خاندان صدیوں سے برونائی کا حکمران خاندان ہے۔

مالدیپ بھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھا۔ یہاں اسلام بارہویں صدی میں پھیلا اور بعد میں سلطنتِ مالدیپ قائم رہی۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانوی اثر قائم ہوا۔ 1965ء میں مالدیپ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور 1968ء میں جمہوریہ بن گیا۔ ابراہیم ناصر جدید آزاد مالدیپ کے اہم بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

آذربائیجان عثمانی سلطنت کا مستقل حصہ نہیں تھا۔ یہ علاقہ صفوی، افشاری، قاجاری اور بعد میں روسی سلطنت کے درمیان طاقت کی کشمکش کا مرکز رہا۔ 1828ء کے ترکمانچائے معاہدے کے بعد موجودہ آذربائیجان کا بڑا حصہ روسی سلطنت کے زیرِ اثر آگیا۔ 1918ء میں جمہوریہ آذربائیجان قائم ہوئی، لیکن 1920ء میں سوویت اقتدار آگیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 1991ء میں آذربائیجان دوبارہ آزاد ہوا۔ جدید جمہوریہ کے قیام کی ابتدائی بنیادوں میں محمد امین رسول زادہ کا اہم کردار تھا۔

قازقستان عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھا۔ یہ وسطی ایشیا کے ترک قبائل اور خانیتوں کا خطہ تھا اور بعد میں روسی سلطنت کے زیرِ اقتدار آیا۔ 1917ء کے بعد یہ سوویت نظام میں شامل ہوگیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 16 دسمبر 1991ء کو قازقستان آزاد ہوا۔ نور سلطان نظربایف آزاد قازقستان کے پہلے صدر اور ریاست کے ابتدائی سیاسی معمار تھے۔

کرغزستان بھی عثمانی سلطنت کا حصہ نہیں تھا۔ یہ وسطی ایشیا کا علاقہ روسی سلطنت اور پھر سوویت یونین کے زیرِ اقتدار رہا۔ 31 اگست 1991ء کو کرغزستان نے سوویت یونین سے آزادی حاصل کی۔ عسکر اکایف آزاد کرغزستان کے پہلے صدر بنے۔

ازبکستان کا علاقہ تاریخی طور پر بخارا، خیوا اور کوکند جیسی مسلم ریاستوں کا مرکز رہا۔ یہ سلطنتیں عثمانیوں کے ماتحت نہیں تھیں۔ انیسویں صدی میں روسی سلطنت نے وسطی ایشیا کے بڑے حصے پر قبضہ کیا اور بعد میں یہ سوویت یونین میں شامل ہوگیا۔ 1 ستمبر 1991ء کو ازبکستان نے آزادی حاصل کی۔ اسلام کریموف آزاد ازبکستان کے پہلے صدر اور ابتدائی ریاستی نظام کے مرکزی رہنما تھے۔

ترکمانستان بھی عثمانی سلطنت سے باہر تھا۔ یہ وسطی ایشیا کے ترکمان قبائل کا خطہ تھا اور انیسویں صدی میں روسی سلطنت کے زیرِ اثر آیا۔ سوویت دور کے بعد 27 اکتوبر 1991ء کو ترکمانستان آزاد ہوا۔ صفر مراد نیازوف آزاد ریاست کے پہلے صدر تھے۔

تاجکستان کا تاریخی تعلق وسطی ایشیا کی فارسی زبان اور تہذیب سے رہا۔ بخارا اور دیگر مسلم ریاستوں کے بعد یہ روسی سلطنت اور پھر سوویت یونین کا حصہ بنا۔ 9 ستمبر 1991ء کو تاجکستان نے آزادی حاصل کی۔ رحمان نبی یف پہلے صدر بنے، جبکہ بعد میں امام علی رحمان طویل عرصے تک ملک کے مرکزی سیاسی رہنما رہے۔

البانیہ عثمانی سلطنت کا ایک اہم یورپی علاقہ تھا، اس لیے اس کا معاملہ وسطی ایشیائی ممالک سے مختلف ہے۔ البانیہ کئی صدیوں تک عثمانی اقتدار میں رہا۔ 1912ء میں البانیہ نے عثمانی سلطنت سے آزادی کا اعلان کیا۔ اسماعیل قمالی آزادی کی تحریک کے مرکزی رہنما اور جدید البانیہ کے بانیوں میں سب سے نمایاں تھے۔ بعد میں البانیہ مختلف سیاسی مراحل سے گزرا اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی۔

بوسنیا عثمانی سلطنت کا اہم یورپی صوبہ تھا، لیکن آج یہ مسلم اکثریتی ملک نہیں بلکہ ایک کثیر مذہبی ریاست ہے جس میں بوسنیائی مسلمان بڑی آبادی ہیں۔ 1878ء میں برلن کانگریس کے بعد آسٹریا۔ہنگری نے بوسنیا پر انتظام قائم کیا اور 1908ء میں اسے باقاعدہ ضم کرلیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد یہ یوگوسلاویہ کا حصہ بنا۔ 1992ء میں بوسنیا و ہرزیگووینا نے آزادی کا اعلان کیا، جس کے بعد جنگ شروع ہوئی اور 1995ء کے ڈیٹن معاہدے سے جنگ ختم ہوئی۔ علی عزت بیگووچ آزادی کی جدوجہد کے سب سے نمایاں رہنما تھے۔

کوسوو بھی طویل عرصے تک عثمانی سلطنت کا حصہ رہا۔ عثمانیوں کے بعد یہ سربیا اور پھر یوگوسلاویہ کے سیاسی نظام میں شامل رہا۔ 1998ء اور 1999ء میں جنگ کے بعد بین الاقوامی انتظام قائم ہوا۔ 2008ء میں کوسوو نے آزادی کا اعلان کیا، تاہم اس کی آزادی کو تمام ممالک تسلیم نہیں کرتے۔ ابراہیم روگووا اور بعد میں دیگر کوسوو البانیائی رہنما آزادی کی تحریک میں اہم تھے۔

یہ تمام ممالک اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی تاریخ ایک ہی راستے پر نہیں چلی۔ ترکی، عراق، شام اور عرب علاقوں کی تاریخ عثمانی سلطنت کے براہِ راست خاتمے سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ ایران، افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک اپنی الگ تاریخی ریاستوں اور نوآبادیاتی تجربات سے گزر کر جدید ریاستیں بنے۔ عثمانی سلطنت نے مسلم دنیا کے ایک بڑے حصے کو سیاسی طور پر متحد رکھا تھا، لیکن اس کے خاتمے کے بعد قومی ریاست کا تصور غالب آگیا اور بیسویں صدی میں مسلم دنیا درجنوں الگ ریاستوں میں تقسیم ہوگئ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top