سلطنتِ بنو امیہ اسلامی تاریخ کی پہلی بڑی موروثی سلطنت تھی، جس نے خلافتِ راشدہ کے بعد تقریباً نوے برس تک اسلامی دنیا کے وسیع علاقوں پر حکومت کی۔ اس کا آغاز 41 ہجری/661ء میں حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ کے اقتدار سنبھالنے سے ہوا اور اختتام 132 ہجری/750ء میں مروان بن محمد کے قتل اور عباسی انقلاب کی کامیابی پر ہوا۔ بنو امیہ کے دور میں اسلامی ریاست مشرق میں سندھ اور وسطی ایشیا سے لے کر مغرب میں شمالی افریقہ اور اندلس تک پھیل گئی۔ اس دور میں انتظامیہ، ڈاک، مالیاتی نظام، عربی زبان کے سرکاری استعمال اور اسلامی فتوحات میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔
حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ — 41 تا 60 ہجری / 661 تا 680ء
حضرت امیر معاویہؓ نے 41 ہجری میں خلافت سنبھالی۔ ان کے دور کو عام طور پر بنو امیہ کی حکومت کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے دارالحکومت مدینہ سے دمشق منتقل کیا اور شام کو اپنی حکومت کا مضبوط مرکز بنایا۔ ان کے زمانے میں سلطنت کا انتظام مضبوط ہوا، بحری طاقت میں اضافہ ہوا اور رومی سلطنت کے خلاف مہمات جاری رہیں۔ حضرت معاویہؓ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کیا، جس سے اسلامی سیاسی نظام میں موروثی طرزِ حکومت کی بنیاد مضبوط ہوئی۔ ان کی وفات 60 ہجری/680ء میں ہوئی۔
یزید بن معاویہ — 60 تا 64 ہجری / 680 تا 683ء
یزید نے اپنے والد کی وفات کے بعد حکومت سنبھالی۔ اس کے دور کا سب سے اہم اور المناک واقعہ 61 ہجری/680ء کا واقعۂ کربلا تھا، جس میں حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقا شہید ہوئے۔ اس کے بعد مدینہ میں واقعۂ حرہ اور مکہ میں عبداللہ بن زبیرؓ کے خلاف جنگ جیسے واقعات پیش آئے۔ یزید کی حکومت تقریباً تین سال رہی اور 64 ہجری/683ء میں اس کی وفات ہوئی۔
معاویہ بن یزید (معاویہ ثانی) — 64 ہجری / 683ء
یزید کے بعد اس کا بیٹا معاویہ بن یزید خلیفہ بنا، جسے معاویہ ثانی کہا جاتا ہے۔ وہ کم عمری اور کمزور صحت کے باعث زیادہ عرصہ حکومت نہ کر سکا۔ اس نے مختصر مدت کے بعد خلافت سے دست برداری اختیار کرلی اور کچھ ہی عرصے بعد وفات پا گیا۔ اس کے بعد بنو امیہ میں اقتدار کا بحران پیدا ہوا اور عبداللہ بن زبیرؓ نے بھی حجاز سمیت ایک بڑے علاقے میں اپنی خلافت قائم کرلی۔
مروان بن حکم اور مروانی خاندان
معاویہ ثانی کے بعد بنو امیہ کے ایک دوسرے خاندان، یعنی مروان بن حکم کی آل و اولاد نے اقتدار سنبھالا۔ اسی وجہ سے بنو امیہ کی حکومت کو دو بڑے ادوار میں بھی دیکھا جاتا ہے: سفیانی خاندان کا دور اور مروانی خاندان کا دور۔
مروان بن حکم — 64 تا 65 ہجری / 684 تا 685ء
مروان بن حکم نے 64 ہجری میں خلافت سنبھالی اور بنو امیہ کی حکومت کو دوبارہ منظم کیا۔ اس وقت اموی اقتدار کو شدید سیاسی بحران کا سامنا تھا۔ مروان نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور مخالف قوتوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس کی حکومت بہت مختصر رہی اور 65 ہجری/685ء میں اس کی وفات ہوگئی۔
عبدالملک بن مروان — 65 تا 86 ہجری / 685 تا 705ء
عبدالملک بن مروان بنو امیہ کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے طویل خانہ جنگی کے بعد اموی سلطنت کو دوبارہ متحد کیا اور عبداللہ بن زبیرؓ کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اس کے دور میں ریاستی انتظام مضبوط ہوا، عربی کو سرکاری دفتری زبان بنایا گیا، اسلامی سکّہ رائج کیا گیا اور مالی و انتظامی اصلاحات کی گئیں۔ اسی دور میں بیت المقدس میں قبۃ الصخرہ کی تعمیر بھی ہوئی۔ عبدالملک کی حکومت میں اموی سلطنت ایک مضبوط مرکزی ریاست بن گئی۔
ولید بن عبدالملک — 86 تا 96 ہجری / 705 تا 715ء
ولید بن عبدالملک کے دور میں اسلامی سلطنت اپنی وسعت کے اعتبار سے بہت آگے بڑھی۔ مشرق میں قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں ماوراءالنہر کے علاقوں میں فتوحات ہوئیں، جبکہ محمد بن قاسم نے سندھ میں اسلامی حکومت قائم کی۔ مغرب میں موسیٰ بن نصیر کی فتوحات اور طارق بن زیاد کی قیادت میں اندلس کی فتح کا آغاز اسی دور میں ہوا۔ دمشق کی جامع مسجد کی تعمیر بھی ولید کے دور کا اہم کارنامہ ہے۔
سلیمان بن عبدالملک — 96 تا 99 ہجری / 715 تا 717ء
سلیمان بن عبدالملک نے ولید کے بعد اقتدار سنبھالا۔ اس کے دور میں قسطنطنیہ کے خلاف بڑی مہم بھیجی گئی، لیکن یہ مہم کامیاب نہ ہوسکی۔ سلیمان نے اپنے بعد عمر بن عبدالعزیز کو ولی عہد مقرر کیا۔ اس کی وفات 99 ہجری/717ء میں ہوئی۔
عمر بن عبدالعزیز — 99 تا 101 ہجری / 717 تا 720ء
عمر بن عبدالعزیز بنو امیہ کے سب سے معروف اور عادل حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے سادگی، عدل، بیت المال کی حفاظت اور رعایا کے حقوق پر خصوصی توجہ دی۔ غیر عرب مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کم کرنے کی کوشش کی اور ظلم و زیادتی کے خلاف اقدامات کیے۔ ان کے مختصر دورِ حکومت کو اسلامی تاریخ میں عدل و اصلاح کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی وفات 101 ہجری/720ء میں ہوئی۔
یزید بن عبدالملک — 101 تا 105 ہجری / 720 تا 724ء
عمر بن عبدالعزیز کے بعد یزید بن عبدالملک خلیفہ بنا۔ اس کے دور میں سلطنت کے مختلف علاقوں میں بغاوتیں اور سیاسی مسائل پیدا ہوئے۔ اموی حکومت نے اپنی سلطنت کا انتظام برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم عمر بن عبدالعزیز کی اصلاحات کا تسلسل بڑی حد تک برقرار نہ رہ سکا۔ یزید 105 ہجری/724ء میں وفات پا گیا۔
ہشام بن عبدالملک — 105 تا 125 ہجری / 724 تا 743ء
ہشام بن عبدالملک نے تقریباً بیس سال حکومت کی اور وہ بنو امیہ کے آخری مضبوط حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے دور میں ریاستی نظم و نسق نسبتاً مضبوط رہا اور سرحدی علاقوں میں فتوحات و جنگیں جاری رہیں۔ تاہم سلطنت کے اندر عرب قبائل کی باہمی کشمکش، خوارج کی بغاوتیں اور مختلف سیاسی تحریکیں بڑھتی گئیں۔ ہشام کی وفات 125 ہجری/743ء میں ہوئی۔
ولید بن یزید — 125 تا 126 ہجری / 743 تا 744ء
ولید بن یزید، ہشام کے بعد خلیفہ بنا۔ اس کا دور بہت مختصر رہا اور اس کی حکومت کو اندرونی اختلافات اور سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار اموی خاندان ہی کے مخالف گروہوں نے اس کے خلاف بغاوت کی اور 126 ہجری/744ء میں اسے قتل کردیا۔
یزید بن ولید — 126 ہجری / 744ء
یزید بن ولید نے اپنے پیش رو کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں خلافت سنبھالی۔ اسے یزید ثالث بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے کچھ انتظامی و مالی اصلاحات کی کوشش کی، لیکن اس کا دور چند ماہ ہی جاری رہا اور 126 ہجری/744ء میں اس کی وفات ہوگئی۔
ابراہیم بن ولید — 126 ہجری / 744ء
یزید ثالث کے بعد ابراہیم بن ولید خلیفہ بنا، لیکن وہ سیاسی طور پر مضبوط اقتدار قائم نہ کرسکا۔ اسی دوران بنو امیہ کے مختلف خاندانوں میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ مروان بن محمد نے اس کے خلاف پیش قدمی کی اور ابراہیم کی خلافت چند ماہ بعد ختم ہوگئی۔
مروان بن محمد — 127 تا 132 ہجری / 744 تا 750ء
مروان بن محمد، جسے مروان ثانی بھی کہا جاتا ہے، بنو امیہ کا آخری خلیفہ تھا۔ وہ ایک قابل سپہ سالار تھا اور اس نے خلافت سنبھالتے ہی مختلف بغاوتوں کو دبانے کی کوشش کی، لیکن اس وقت اموی سلطنت اندرونی اختلافات، قبائلی کشمکش اور عباسی تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات سے کمزور ہوچکی تھی۔ عباسی دعوت نے خراسان میں طاقت حاصل کی اور ابو مسلم خراسانی کی قیادت میں اموی حکومت کے خلاف بڑی تحریک شروع ہوئی۔ 132 ہجری/750ء میں زاب کی جنگ میں مروان کو شکست ہوئی اور وہ مصر کی طرف فرار ہوگیا، جہاں اسے قتل کردیا گیا۔ اس کے ساتھ شام میں قائم تقریباً نوے سالہ بنو امیہ کی خلافت کا خاتمہ ہوگیا اور عباسی خلافت قائم ہوگئی۔
اختتامیہ
سلطنتِ بنو امیہ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم سیاسی اور تہذیبی دور تھا۔ 41 ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ سے شروع ہونے والی یہ حکومت پہلے سفیانی خاندان اور پھر مروان بن حکم کی آل و اولاد کے ذریعے آگے بڑھی۔ عبدالملک، ولید اور ہشام جیسے حکمرانوں کے دور میں سلطنت نے غیر معمولی وسعت اور انتظامی استحکام حاصل کیا، جبکہ عمر بن عبدالعزیز کا دور عدل و اصلاح کے حوالے سے نمایاں رہا۔ دوسری طرف اندرونی سیاسی اختلافات، قبائلی تنازعات اور مختلف بغاوتوں نے رفتہ رفتہ اموی اقتدار کو کمزور کیا۔ بالآخر مروان ثانی کے دور میں عباسی انقلاب کامیاب ہوا اور 132 ہجری/750ء میں بنو امیہ کی مشرقی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم اندلس میں بنو امیہ کی حکومت بعد میں عبدالرحمن الداخل کے ذریعے دوبارہ قائم ہوئی، جس نے
