ہلاکو خان، سقوطِ بغداد اور عباسی خلیفہ
تیرہویں صدی میں خلافتِ عباسیہ اپنے ابتدائی عروج سے بہت دور جا چکی تھی۔ عباسی خلفاء کی سیاسی طاقت محدود ہو چکی تھی اور بغداد میں خلافت زیادہ تر علامتی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ 1258ء میں منگول حکمران ہلاکو خان ایک بڑی فوج کے ساتھ بغداد کی طرف بڑھا۔ اس وقت عباسی خلیفہ المستعصم باللہ حکمران تھا۔ ہلاکو نے بغداد کا محاصرہ کیا اور شہر چند دنوں میں منگولوں کے قبضے میں آ گیا۔ بغداد میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوئی اور عباسی خلافت کا وہ سیاسی مرکز ختم ہوگیا جو تقریباً پانچ صدیوں سے قائم تھا۔ خلیفہ المستعصم کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کو اسلامی تاریخ کے اہم ترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ بغداد نہ صرف سیاسی مرکز تھا بلکہ علم، ادب اور تہذیب کا بھی عظیم مرکز تھا۔
خلافتِ عباسیہ کے زوال کے بعد عروج پانے والے خاندان
بغداد کے سقوط سے مسلم دنیا میں سیاسی خلا پیدا ہوا، مگر خلافت کے خاتمے کے ساتھ اسلامی دنیا ختم نہیں ہوئی۔ مختلف علاقوں میں کئی مسلم سلطنتیں پہلے ہی طاقت حاصل کر رہی تھیں۔ مصر و شام میں ایوبی خاندان کے بعد مملوکوں نے اقتدار سنبھالا، اناطولیہ میں سلجوقیوں کے بعد مختلف ترک ریاستیں وجود میں آئیں، فارس اور عراق کے بعض علاقوں میں منگول ایلخانی حکومت قائم ہوئی، جبکہ شمالی افریقہ اور اندلس میں بھی مختلف مسلم خاندان حکمران رہے۔ بعد کے زمانے میں عثمانی، صفوی اور مغل سلطنتیں اسلامی دنیا کی بڑی طاقتیں بنیں۔ اس طرح عباسی خلافت کے سیاسی زوال کے باوجود مسلم دنیا میں نئی سلطنتوں اور خاندانوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ایوبیہ سلطنت اور صلاح الدین ایوبی
ایوبی سلطنت کا آغاز صلاح الدین ایوبی نے کیا۔ وہ کرد نژاد خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدا میں زنگی حکمرانوں کے زیرِ اثر شام اور مصر کی سیاست میں نمایاں ہوئے۔ 1171ء میں صلاح الدین نے مصر میں فاطمی خلافت کا خاتمہ کرکے عباسی خلیفہ کی اطاعت قبول کی اور مصر کو دوبارہ سنی سیاسی نظام میں شامل کیا۔ بعد میں انہوں نے مصر، شام، حجاز اور دیگر علاقوں کو اپنی حکومت کے تحت متحد کیا۔ صلاح الدین کی سب سے بڑی تاریخی شہرت صلیبی جنگوں کے دوران ہوئی۔ 1187ء میں جنگِ حطین میں صلیبی فوج کو شکست دینے کے بعد انہوں نے بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضے میں لے لیا۔ ان کی وفات 1193ء میں ہوئی۔ ان کے بعد ایوبی خاندان نے مختلف علاقوں میں حکومت جاری رکھی، لیکن خاندان کے اندر تقسیم نے اس کی سیاسی طاقت کم کر دی۔
مملوک سلطنت کا عروج
ایوبی سلطنت کے آخری دور میں مملوک فوجی طبقہ انتہائی طاقتور ہو چکا تھا۔ مملوک زیادہ تر ایسے غلام سپاہی تھے جو مختلف علاقوں سے لائے جاتے، فوجی تربیت حاصل کرتے اور بعد میں اعلیٰ فوجی عہدوں تک پہنچتے تھے۔ 1250ء میں مصر میں ایوبی اقتدار کا خاتمہ ہوا اور مملوکوں نے اقتدار سنبھال لیا۔ مملوک سلطنت نے جلد ہی ایک بڑی علاقائی طاقت کی شکل اختیار کر لی۔ 1260ء میں عین جالوت کی مشہور جنگ میں مملوک سلطان قطز اور اس کے جرنیل بیبرس نے منگول فوج کو شکست دی۔ یہ کامیابی انتہائی اہم تھی کیونکہ اس سے منگولوں کی مصر اور شمالی افریقہ کی طرف پیش قدمی رک گئی۔ بعد میں سلطان بیبرس نے مملوک سلطنت کو مزید مضبوط کیا۔ عباسی خلافت کے بغداد سے خاتمے کے بعد بیبرس نے 1261ء میں ایک عباسی شہزادے کو قاہرہ میں خلیفہ مقرر کیا۔ یوں عباسی خلافت کا ایک نیا، زیادہ تر علامتی مرکز قاہرہ بن گیا، جبکہ حقیقی سیاسی اقتدار مملوک سلاطین کے ہاتھ میں رہا۔
مملوک سلطنت کا عروج اور اسلامی دنیا میں کردار
مملوکوں نے مصر اور شام کو ایک مضبوط سیاسی و فوجی مرکز بنایا۔ انہوں نے صلیبی ریاستوں کے باقی ماندہ مراکز کو بھی بتدریج ختم کیا اور مشرقی بحیرۂ روم میں اپنی طاقت مستحکم کی۔ قاہرہ علم، تجارت، مذہب اور ثقافت کا اہم مرکز بن گیا۔ مملوک دور میں مدارس، مساجد، کتب خانے اور دیگر علمی ادارے قائم ہوئے۔ مملوک سلاطین نے حجاز کے مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کی حفاظت اور انتظام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں قاہرہ مسلم دنیا کے ان بڑے مراکز میں شامل ہوگیا جہاں سے سیاسی اور مذہبی اثرات پورے خطے تک پہنچتے تھے۔
مملوک سلطنت کا زوال
مملوک سلطنت کئی صدیوں تک مصر و شام کی بڑی طاقت رہی، لیکن وقت کے ساتھ اس کی فوجی اور معاشی طاقت کم ہونے لگی۔ اندرونی سیاسی کشمکش، سلاطین کی بار بار تبدیلی، معاشی مشکلات اور تجارتی راستوں میں تبدیلی نے سلطنت کو کمزور کیا۔ دوسری طرف عثمانی سلطنت اناطولیہ سے بڑھ کر ایک طاقتور عالمی سلطنت بن چکی تھی۔ 1516ء میں جنگِ مرج دابق میں عثمانی سلطان سلیم اول نے مملوک فوج کو شکست دی، جبکہ 1517ء میں جنگِ ریدانیہ کے بعد قاہرہ بھی عثمانیوں کے قبضے میں آ گیا۔ یوں مملوک سلطنت کا سیاسی اقتدار ختم ہوگیا اور مصر و شام عثمانی سلطنت کا حصہ بن گئے۔ قاہرہ میں قائم عباسی خلافت بھی اسی دور میں اپنی سیاسی حیثیت کھو بیٹھی۔ اس طرح بغداد سے شروع ہونے والی عباسی خلافت کی آخری علامتی کڑی بھی مملوک اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ختم ہوگئی، اور مسلم دنیا میں عثمانیوں کا نیا دور نمایاں طور پر سامنے آیا
