مملوک یا غلام خاندان:

مملوک خاندان دہلی سلطنت کا پہلا حکمران خاندان تھا۔ اس خاندان کی حکومت 1206ء سے 1290ء تک تقریباً 84 سال جاری رہی۔

اس خاندان کو عام طور پر غلام خاندان بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کے ابتدائی حکمرانوں میں کئی ایسے افراد تھے جو اصل میں فوجی غلام یا مملوک تھے اور اپنی قابلیت کی بنیاد پر اعلیٰ فوجی اور سیاسی عہدوں تک پہنچے۔

مملوک کا مطلب عربی میں ایسا غلام یا زیرِ تربیت فوجی ہے جسے فوجی خدمت کے لیے تربیت دی جائے۔ اسلامی دنیا میں مملوک فوجی نظام پہلے سے موجود تھا اور ایسے غلام فوجی اپنی قابلیت کی وجہ سے بعض اوقات بہت طاقتور حکمران بھی بن جاتے تھے۔

ہندوستان میں اس خاندان کا آغاز قطب الدین ایبک سے ہوا، جو محمد غوری کا قابل اعتماد غلام، سپہ سالار اور ہندوستانی فتوحات کا اہم منتظم تھا۔

محمد غوری نے ہندوستان میں اپنی فتوحات کے انتظام کی ذمہ داری قطب الدین ایبک کو سونپی تھی۔ قطب الدین ایبک نے دہلی اور شمالی ہندوستان میں غوری اقتدار کو مضبوط کیا۔

1206ء میں محمد غوری کی وفات کے بعد اس کی ہندوستانی حکومت کے لیے کوئی براہِ راست وارث موجود نہیں تھا۔ اس موقع پر قطب الدین ایبک نے دہلی میں اپنی آزاد حکومت قائم کرلی۔

یوں 1206ء میں دہلی سلطنت کے پہلے خاندان یعنی مملوک خاندان کا آغاز ہوا۔

قطب الدین ایبک نے لاہور کو اپنا اہم مرکز بنایا۔ اس کا دور زیادہ طویل نہیں تھا۔ 1210ء میں چوگان کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرنے کے نتیجے میں اس کی وفات ہوگئی۔

اسے اس کی سخاوت کی وجہ سے لکھ بخش بھی کہا جاتا تھا۔

قطب الدین ایبک کے بعد اقتدار میں سیاسی کشمکش پیدا ہوئی۔ آخرکار شمس الدین التمش نے دہلی کے اقتدار کو مضبوط کیا اور مملوک خاندان کو ایک مستحکم سلطنت میں تبدیل کردیا۔

التمش خود بھی مملوک غلام تھا اور قطب الدین ایبک نے اسے خریدا تھا، لیکن اپنی قابلیت کی وجہ سے وہ اعلیٰ مقام تک پہنچا۔

التمش نے دہلی کو اپنی حکومت کا مرکزی دارالحکومت بنایا اور مختلف علاقوں میں موجود مخالف طاقتوں کو شکست دے کر سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔

اس نے پنجاب، سندھ، بنگال اور شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں پر دہلی کی مرکزی حکومت مضبوط کی۔

التمش کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی تھی کہ اس نے عباسی خلیفہ سے اپنی حکومت کی باقاعدہ منظوری حاصل کی، جس سے دہلی سلطنت کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوئی۔

التمش کے دور میں وسطی ایشیا میں منگول طاقت بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ چنگیز خان کی فتوحات کے بعد منگول سلطنت دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بن رہی تھی۔

1221ء میں خوارزم شاہی خاندان کا حکمران جلال الدین منکبرنی منگولوں سے بچ کر ہندوستان کی طرف آیا۔

اس نے التمش سے مدد مانگی، لیکن التمش نے اسے کھلی حمایت دینے سے گریز کیا۔ اس فیصلے نے دہلی سلطنت کو منگولوں کے ممکنہ حملے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ التمش کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

التمش نے اپنی بیٹی رضیہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا، کیونکہ وہ اپنے دوسرے بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ قابل سمجھتے تھے۔

1236ء میں رضیہ سلطانہ دہلی کے تخت پر بیٹھیں۔

رضیہ سلطانہ برصغیر کی تاریخ میں ایک غیر معمولی شخصیت تھیں۔ وہ دہلی سلطنت کی پہلی اور واحد باقاعدہ خاتون سلطان سمجھی جاتی ہیں۔

رضیہ نے حکومت کے معاملات خود چلانے کی کوشش کی اور ترک امرا کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی۔

لیکن طاقتور امرا نے ان کی مخالفت شروع کردی۔ آخرکار 1240ء میں رضیہ سلطانہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور اسی سال ان کا انتقال ہوگیا۔

رضیہ کے بعد مملوک خاندان میں کئی کمزور حکمران آئے اور اصل طاقت طاقتور امرا کے ہاتھ میں منتقل ہوگئی۔

ان حالات میں غیاث الدین بلبن ایک طاقتور شخصیت بن کر ابھرے۔

1266ء میں بلبن سلطان بنے۔

بلبن نے بادشاہت کے وقار اور مرکزی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے سخت پالیسی اختیار کی۔ اس نے طاقتور امرا کی خودمختاری کم کی اور سلطنت میں نظم و ضبط قائم کیا۔

بلبن کا مشہور نظریہ تھا کہ سلطان کی حیثیت انتہائی بلند ہونی چاہیے۔ اس نے دربار میں سخت آداب اور شاہی وقار کو فروغ دیا۔

بلبن کے دور میں دہلی سلطنت کو کئی خطرات کا سامنا تھا۔ شمال مغربی سرحد پر منگول حملوں کا خطرہ موجود تھا جبکہ ہندوستان کے اندر مختلف علاقوں میں بغاوتیں بھی ہوتی تھیں۔

بلبن نے فوج کو مضبوط کیا اور سرحدی علاقوں میں قلعہ بندی پر توجہ دی۔

اس نے میوات اور دوآب کے علاقوں میں ڈاکوؤں اور باغی گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔

بلبن نے سلطنت کے مرکزی اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے امرا پر کڑی نظر رکھی اور بغاوت کو سختی سے دبایا۔

اس کے دور میں دہلی سلطنت ایک مضبوط مرکزی حکومت کی شکل اختیار کرگئی۔

بلبن کی وفات 1287ء میں ہوئی۔ اس کے بعد مملوک خاندان دوبارہ کمزور ہونے لگا۔

بلبن کے جانشین کمزور ثابت ہوئے اور دربار میں مختلف طاقتور گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہوگئی۔

آخرکار ترک مملوک امرا کی طاقت کم ہوئی اور خلجی خاندان کے لوگ سیاسی طور پر طاقتور ہونے لگے۔

1290ء میں جلال الدین فیروز خلجی نے مملوک خاندان کا خاتمہ کرکے دہلی کے تخت پر قبضہ کرلیا۔

اس کے ساتھ تقریباً 84 سال تک جاری رہنے والے مملوک خاندان کا خاتمہ ہوا اور دہلی سلطنت میں خلجی خاندان کا آغاز ہوگیا۔

مملوک خاندان کے آخری حکمران کے طور پر معز الدین کیقباد کا نام اہم ہے۔

کیقباد بلبن کے بعد تخت پر آیا، لیکن وہ مضبوط حکمران ثابت نہ ہوسکا۔ اس کے دور میں دربار میں مختلف امرا کے درمیان اقتدار کی کشمکش بڑھ گئی۔

1290ء میں خلجی گروہ نے اقتدار حاصل کرلیا اور مملوک خاندان کا خاتمہ ہوگیا۔

یوں مملوک خاندان کا اقتدار کسی بیرونی طاقت کے ہاتھوں نہیں بلکہ دہلی سلطنت کے اندر موجود طاقتور فوجی و سیاسی گروہوں کی تبدیلی کے نتیجے میں ختم ہوا۔

مملوک خاندان کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے دہلی سلطنت کی بنیاد کو مضبوط کیا۔

قطب الدین ایبک نے محمد غوری کی ہندوستانی فتوحات کے بعد ایک آزاد حکومت قائم کی۔

التمش نے اس حکومت کو مضبوط کرکے ایک باقاعدہ سلطنت میں تبدیل کیا۔

رضیہ سلطانہ نے ہندوستان میں ایک خاتون حکمران کی غیر معمولی مثال قائم کی۔

بلبن نے مرکزی حکومت، فوج اور شاہی اقتدار کو مزید مضبوط کیا۔

مملوک حکمرانوں نے دہلی کو ایک اہم سیاسی مرکز بنایا اور شمالی ہندوستان میں ایک ایسی مسلم سلطنت قائم کی جو ان کے بعد خلجی، تغلق، سید اور لودھی خاندانوں کے ذریعے تقریباً تین صدیوں تک جاری رہی۔

مملوک خاندان کی تاریخ کو آسانی سے اس ترتیب میں سمجھا جاسکتا ہے:

محمد غوری → قطب الدین ایبک → التمش → رضیہ سلطانہ → ناصر الدین محمود → غیاث الدین بلبن → کمزور جانشین → کیقباد → خلجی خاندان

اس سلسلے میں قطب الدین ایبک نے بنیاد رکھی، التمش نے سلطنت کو مضبوط کیا اور بلبن نے مرکزی حکومت کو دوبارہ طاقتور بنایا۔

مملوک یا غلام خاندان دہلی سلطنت کا پہلا خاندان تھا، جس نے 1206ء سے 1290ء تک ہندوستان کے بڑے حصے پر حکومت کی۔

اس خاندان کا آغاز قطب الدین ایبک نے کیا، جو محمد غوری کا غلام اور سپہ سالار تھا۔ محمد غوری کی وفات کے بعد قطب الدین ایبک نے دہلی میں آزاد حکومت قائم کی۔

اس کے بعد شمس الدین التمش نے سلطنت کو مضبوط کیا، دہلی کو مرکزی دارالحکومت بنایا اور مختلف علاقوں کو دوبارہ دہلی کے زیرِ اقتدار لایا۔

التمش کے بعد رضیہ سلطانہ حکمران بنیں، جو دہلی سلطنت کی پہلی اور واحد باقاعدہ خاتون سلطان تھیں۔

بعد میں غیاث الدین بلبن نے مرکزی حکومت، فوج اور شاہی اقتدار کو مضبوط کیا اور منگول خطرے کے مقابلے کے لیے شمال مغربی سرحدوں کو محفوظ بنایا۔

بلبن کی وفات کے بعد مملوک خاندان کمزور ہوگیا۔ آخرکار 1290ء میں جلال الدین فیروز خلجی نے اقتدار سنبھال کر مملوک خاندان کا خاتمہ کردیا۔

مملوک خاندان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ یہ تھا کہ اس نے محمد غوری کی فتوحات کو ایک مستقل سیاسی سلطنت میں تبدیل کیا اور دہلی کو ہندوستان میں ایک طاقتور مسلم سیاسی مرکز بنا دیا۔

مملوک → خلجی → تغلق → سید → لودھی → مغل

یہی وہ تاریخی سلسلہ ہے جس کے ذریعے دہلی سلطنت نے تقریباً 320 سال تک ہندوستان کی سیاست کو متاثر کیا۔

  1. The Delhi Sultanate: A Political and Military History — Peter Jackson
  2. Medieval India: From Sultanat to the Mughals, Part I — Satish Chandra
  3. The Cambridge History of India, Volume III: Turks and Afghans — مختلف محققین
  4. A History of Medieval India — Satish Chandra
  5. The Sultanate of Delhi — V. D. Mahajan
  6. Tabaqat-i-Nasiri — Minhaj-i-Siraj Juzjani
  7. Tarikh-i-Firuz Shahi — Ziauddin Barani
  8. Futuh-us-Salatin — Isami

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top