المأمون سے سقوطِ بغداد تک
عباسی خلافت نے 198 ہجری/813ء میں محمد الامین کے قتل کے بعد ایک نئے دور میں قدم رکھا۔ عبداللہ المأمون کی خلافت سے عباسی سلطنت علمی، فکری اور تہذیبی اعتبار سے اپنے عروج کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئی، لیکن سیاسی طور پر مرکزی حکومت بتدریج کمزور ہوتی گئی۔ وسیع سلطنت کے مختلف علاقوں میں مقامی خاندان طاقتور ہوتے گئے اور کئی خاندان عملی طور پر خودمختار حکومتیں قائم کرنے لگے۔ بغداد میں عباسی خلیفہ کی مذہبی اور علامتی حیثیت برقرار رہی، مگر بہت سے علاقوں میں حقیقی سیاسی اختیار مقامی سلاطین اور امیروں کے ہاتھ میں منتقل ہوگیا۔ بالآخر 656 ہجری/1258ء میں منگول حکمران ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا، آخری عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کو قتل کیا اور بغداد میں عباسی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔
عبداللہ المأمون — 198 تا 218 ہجری / 813 تا 833ء
المأمون نے اپنے بھائی الامین کی شکست اور قتل کے بعد خلافت سنبھالی۔ اس نے ابتدا میں مرو اور پھر بغداد کو اپنے اقتدار کا مرکز بنایا۔ اس کے دور میں علمی اور فکری سرگرمیوں کو غیر معمولی فروغ ملا۔ یونانی، فارسی اور سریانی علوم کے عربی تراجم ہوئے اور فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم کے مطالعے میں اضافہ ہوا۔ بیت الحکمہ کی علمی سرگرمیوں کو اسی دور میں نمایاں ترقی ملی۔ المأمون نے مختلف سیاسی و مذہبی تحریکوں کا مقابلہ کیا اور سلطنت کے مرکزی نظم کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
اس کے دور کا ایک اہم مذہبی و فکری واقعہ محنہ تھا، جس کے ذریعے معتزلی عقیدے کے بعض نظریات کو سرکاری سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پالیسی نے بعد کے ادوار میں خلیفہ اور علماء کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔
المعتصم باللہ — 218 تا 227 ہجری / 833 تا 842ء
المعتصم نے المأمون کے بعد خلافت سنبھالی۔ اس نے فوجی طاقت کو مضبوط کیا اور ترک فوجیوں کی بڑی تعداد کو فوج میں شامل کیا۔ اسی فوجی طاقت نے بعد میں عباسی سیاست میں غیر معمولی اثر حاصل کرلیا۔ المعتصم نے بغداد سے تقریباً 60 میل شمال میں سامرہ کو 221 ہجری/836ء کے قریب اپنا نیا دارالحکومت بنایا، جہاں اس کے بعد کئی عباسی خلفاء نے حکومت کی۔
اس کے دور میں بابک خرمدین کی بغاوت کو کئی سال کی جنگ کے بعد شکست دی گئی۔ بازنطینی سلطنت کے خلاف بھی بڑی فوجی مہمات ہوئیں اور عموریہ کی فتح عباسی عسکری طاقت کی نمایاں کامیابی تھی۔
الواثق باللہ — 227 تا 232 ہجری / 842 تا 847ء
الواثق نے المعتصم کے بعد خلافت سنبھالی۔ اس نے اپنے پیش رو کی علمی اور مذہبی پالیسیوں کو جاری رکھا اور معتزلی نظریات کی سرکاری حمایت برقرار رہی۔ اس کے دور میں ترک فوجی عناصر کا دربار میں اثر مزید بڑھا۔ الواثق کی وفات 232 ہجری/847ء میں ہوئی اور اس کے بعد عباسی خلافت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جہاں فوجی امرا کی طاقت تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
المتوکل علی اللہ — 232 تا 247 ہجری / 847 تا 861ء
المتوکل کا دور عباسی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کا زمانہ تھا۔ اس نے معتزلی سرکاری پالیسیوں کو ختم کیا اور اہلِ سنت کے علماء کے لیے نسبتاً سازگار ماحول پیدا کیا۔ اس کے دور میں محنہ کا خاتمہ ہوا اور مذہبی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی۔
المتوکل نے سامرہ میں عظیم الشان جامع مسجد تعمیر کروائی، جو اپنے زمانے کی اہم عمارتوں میں شمار ہوتی تھی۔ تاہم اس کے دور میں ترک فوجی کمانڈروں کا سیاسی اثر بہت بڑھ گیا۔ 247 ہجری/861ء میں اسے اپنے ہی ترک فوجیوں کے ایک گروہ نے قتل کردیا۔ اس واقعے کے بعد عباسی خلفاء کی سیاسی کمزوری مزید نمایاں ہوگئی۔
سامرہ کا بحران اور عباسی خلفاء کی کمزوری — 247 تا 279 ہجری / 861 تا 892ء
المتوکل کے قتل کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک عباسی خلافت شدید سیاسی بحران کا شکار رہی۔ اس دور میں کئی خلفاء مختصر مدت کے لیے تخت پر آئے اور فوجی کمانڈروں کے ہاتھوں ہٹائے جاتے رہے۔ معتز، مہتدی اور معتمد سمیت متعدد خلفاء نے حکومت کی، لیکن مرکزی اقتدار مستقل طور پر کمزور ہوتا گیا۔
اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ خلیفہ کی حیثیت برقرار تھی مگر عملی سیاسی طاقت فوجی سرداروں اور صوبائی حکمرانوں کے ہاتھ میں منتقل ہونے لگی۔ 279 ہجری/892ء میں المعتضد نے دارالحکومت دوبارہ بغداد منتقل کیا، جس سے عباسی حکومت نے کچھ عرصے کے لیے سیاسی استحکام حاصل کیا۔
المعتضد باللہ — 279 تا 289 ہجری / 892 تا 902ء
المعتضد عباسی خلافت کے نسبتاً مضبوط خلفاء میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے فوجی اور انتظامی طاقت کو دوبارہ مرکز کے تحت لانے کی کوشش کی اور سلطنت کے کئی علاقوں میں مرکزی اقتدار بحال کیا۔ اس کے دور میں بغداد دوبارہ خلافت کا مرکز بن گیا۔ تاہم سلطنت پہلے جیسی وسیع اور مکمل طور پر مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام نہیں رہی تھی۔
المقتدر باللہ — 295 تا 320 ہجری / 908 تا 932ء
المقتدر کا طویل دور عباسی خلافت کی پیچیدگیوں اور کمزور ہوتی مرکزی طاقت کی مثال ہے۔ دربار میں وزراء، فوجی گروہوں اور محل کے مختلف سیاسی حلقوں کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری رہی۔ اگرچہ بغداد کی حیثیت برقرار رہی، لیکن سلطنت کے دور دراز علاقوں میں مقامی خاندان مضبوط ہوتے گئے۔
اسی زمانے میں عباسی خلافت کے مقابل فاطمی خلافت شمالی افریقہ سے ابھر چکی تھی اور قرطبہ میں اموی خلافت بھی 316 ہجری/929ء میں قائم ہوگئی۔ یوں مسلم دنیا سیاسی طور پر ایک سے زیادہ خلافتوں میں تقسیم ہوگئی۔
نمایاں علاقائی خاندان اور ان کی حکومتیں
عباسی دور میں مرکزی خلافت کے کمزور ہونے کے ساتھ کئی طاقتور خاندان ابھرے۔ ان خاندانوں نے مختلف علاقوں میں تقریباً خودمختار حکومتیں قائم کیں، جبکہ بعض اوقات عباسی خلیفہ کی رسمی بالادستی کو تسلیم کرتے رہے۔
طاہری خاندان — 205 تا 259 ہجری / 821 تا 873ء
طاہری خاندان نے خراسان میں حکومت قائم کی۔ اس خاندان کے بانی طاہر بن حسین تھے، جنہوں نے المأمون کی جانب سے الامین کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ طاہری حکمران عباسی خلیفہ کے نام سے خطبہ اور سکہ جاری کرتے رہے، مگر خراسان میں انہیں بڑی عملی خودمختاری حاصل تھی۔ ان کی حکومت نے عباسی مرکز سے دور صوبائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی بنیاد مضبوط کی۔
صفاری خاندان — 247 تا 393 ہجری / 861 تا 1003ء
صفاری خاندان کا آغاز یعقوب بن لیث الصفار سے ہوا۔ اس نے سیستان سے اپنی طاقت بڑھائی اور خراسان کے بڑے علاقوں تک اثر قائم کیا۔ یعقوب نے عباسی اقتدار کو چیلنج کیا اور بغداد کی طرف بھی پیش قدمی کی، اگرچہ وہ خلافت کا خاتمہ نہ کرسکا۔ بعد میں صفاری خاندان خراسان اور مشرقی ایران میں ایک اہم علاقائی طاقت رہا۔
سامانی خاندان — 261 تا 389 ہجری / 874 تا 999ء
سامانی خاندان نے ماوراءالنہر اور خراسان میں حکومت قائم کی۔ بخارا اس کا اہم مرکز تھا۔ سامانی دور فارسی زبان و ادب، شہری ترقی اور علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے معروف ہے۔ اسی ماحول میں فارسی ادبی روایت کو نئی قوت ملی اور بعد میں غزنوی و سلجوقی دور کے لیے تہذیبی بنیادیں تیار ہوئیں۔
طولونی خاندان — 254 تا 292 ہجری / 868 تا 905ء
احمد بن طولون نے مصر میں اپنی مضبوط حکومت قائم کی اور شام کے بڑے حصے پر بھی اثر قائم کیا۔ طولونی حکومت نے مصر کو سیاسی اور معاشی اعتبار سے زیادہ خودمختار بنایا۔ قاہرہ سے پہلے قطائع شہر اس حکومت کا اہم مرکز تھا۔ اگرچہ یہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہی، لیکن اس نے مصر میں عباسی مرکز سے الگ مضبوط مقامی اقتدار کی مثال قائم کی۔
اخشیدی خاندان — 323 تا 358 ہجری / 935 تا 969ء
اخشیدی خاندان نے مصر اور شام کے بعض علاقوں میں حکومت کی۔ محمد بن طغج الاخشید اس خاندان کا بانی تھا۔ اس دور میں مصر ایک اہم سیاسی و اقتصادی مرکز بن چکا تھا۔ بعد میں فاطمیوں نے مصر پر قبضہ کرکے اخشیدی حکومت کا خاتمہ کردیا۔
حمدانی خاندان — چوتھی صدی ہجری
حمدانی خاندان نے شمالی عراق اور شام میں طاقت حاصل کی۔ سیف الدولہ حمدانی حلب کا معروف حکمران تھا اور بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگوں کے لیے مشہور ہوا۔ حلب اس دور میں عربی ادب اور ثقافت کا اہم مرکز بھی بن گیا۔
بویہی خاندان — 334 تا 447 ہجری / 945 تا 1055ء
بویہی خاندان نے 334 ہجری/945ء میں بغداد پر قبضہ کرکے عباسی خلیفہ کو اپنی سیاسی طاقت کے زیرِ اثر لے لیا۔ عباسی خلیفہ منصب پر برقرار رہا، لیکن حقیقی حکومتی اختیار بویہی امیروں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ یہ عباسی خلافت کی سیاسی کمزوری کا انتہائی نمایاں مرحلہ تھا۔ بویہی حکمران شیعی پس منظر رکھتے تھے اور بغداد میں ان کا اثر تقریباً ایک صدی تک قائم رہا۔
سلجوقی خاندان — 447 تا 590 ہجری / 1055 تا 1194ء
447 ہجری/1055ء میں طغرل بیگ نے بغداد میں داخل ہوکر بویہی اقتدار کا خاتمہ کیا۔ سلجوقیوں نے عباسی خلیفہ کی سنی مذہبی حیثیت کو مضبوط کیا، مگر سیاسی اور عسکری طاقت زیادہ تر سلجوقی سلاطین کے پاس رہی۔ نظام الملک جیسے وزراء نے انتظامی اور تعلیمی نظام کو مضبوط کیا اور نظامیہ مدارس قائم کیے۔ سلجوقی دور نے بغداد اور مشرقی اسلامی دنیا میں سنی سیاسی نظم کو نئی قوت دی۔
عباسی خلافت کی آخری طاقت
سلجوقیوں کے کمزور ہونے کے بعد عباسی خلفاء نے بغداد میں اپنی سیاسی طاقت دوبارہ بڑھانے کی کوشش کی۔ المسترشد، المقتفی اور خصوصاً الناصر لدین اللہ جیسے خلفاء نے مرکزی اقتدار کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ الناصر نے طویل عرصہ حکومت کیا اور عباسی خلافت کے سیاسی وقار کو دوبارہ بلند کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اسی زمانے میں مشرق میں خوارزم شاہی سلطنت، مغرب میں مختلف علاقائی طاقتیں اور شام و مصر میں ایوبی اور پھر مملوک حکمران موجود تھے۔ عباسی خلیفہ کی مذہبی و علامتی حیثیت باقی تھی، لیکن پوری اسلامی دنیا پر اس کا براہِ راست سیاسی اقتدار قائم نہیں تھا۔
ہلاکو خان اور سقوطِ بغداد — 656 ہجری / 1258ء
ساتویں صدی ہجری میں منگول طاقت تیزی سے مشرقی اسلامی دنیا کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہلاکو خان نے ایران، عراق اور دیگر علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے بغداد کا رخ کیا۔ آخری عباسی خلیفہ المستعصم باللہ نے منگول خطرے کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے مناسب تیاری نہ کی اور 656 ہجری/1258ء میں منگول فوج نے بغداد کا محاصرہ کرلیا۔
بغداد پر قبضے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوئی اور عباسی خلافت کا مرکزی سیاسی ڈھانچہ ختم ہوگیا۔ المستعصم باللہ کو ہلاکو کے حکم سے قتل کردیا گیا۔ اس طرح 656 ہجری/1258ء میں بغداد میں قائم عباسی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ بغداد کی تباہی اسلامی دنیا کے سیاسی، علمی اور تہذیبی تاریخ کا ایک انتہائی بڑا سانحہ سمجھی جاتی ہے۔
عباسی خلافت کا نمایاں تاریخی سفر
عباسی خلافت نے 132 ہجری/750ء میں بنو امیہ کے خاتمے کے بعد ایک عظیم مرکزی سلطنت کی حیثیت سے آغاز کیا۔ المأمون اور المعتصم کے دور میں علمی و عسکری قوت نمایاں رہی، لیکن بعد میں ترک فوجی عناصر اور صوبائی خاندانوں کے بڑھتے ہوئے اثر نے مرکز کو کمزور کردیا۔ طاہری، صفاری، سامانی، طولونی، اخشیدی، حمدانی، بویہی اور سلجوقی خاندانوں نے مختلف علاقوں میں اپنی حکومتیں قائم کیں۔
اس پورے سفر میں بغداد اپنی مذہبی، علمی اور تہذیبی اہمیت بڑی حد تک برقرار رکھتا رہا، لیکن سیاسی اقتدار وقت کے ساتھ مختلف خاندانوں میں تقسیم ہوتا گیا۔ بویہی اور سلجوقی ادوار میں عباسی خلیفہ زیادہ تر مذہبی و علامتی سربراہ بن گیا، جبکہ حقیقی سیاسی طاقت طاقتور سلاطین اور امیروں کے ہاتھ میں رہی۔ اس کے باوجود عباسی خلافت کا نام مسلم دنیا میں غیر معمولی وقار رکھتا تھا۔
عباسی سلطنت کے تاریخی اثرات
عباسی دور نے اسلامی تہذیب کو گہرائی سے متاثر کیا۔ علم و تحقیق، ترجمہ، طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، جغرافیہ، ادب اور تاریخ کے میدانوں میں ایسی ترقی ہوئی جس کے اثرات بعد کی مسلم اور عالمی تہذیب تک پہنچے۔ بغداد، سامرہ، بخارا، نیشاپور، حلب اور دیگر شہر علم و ثقافت کے مراکز بنے۔
سیاسی اعتبار سے عباسی دور نے ایک طرف مضبوط مرکزی خلافت کی مثال قائم کی، تو دوسری طرف اس نے یہ بھی دکھایا کہ وسیع سلطنت میں مقامی خاندانوں کے مضبوط ہونے سے مرکزی اقتدار کس طرح تقسیم ہوسکتا ہے۔ 656 ہجری/1258ء کا سقوطِ بغداد اس طویل سیاسی سفر کا اختتام تھا، لیکن عباسی خلافت کی تہذیبی اور علمی میراث اس کے سیاسی زوال کے بعد بھی صدیوں تک زندہ رہی
