خلجی خاندان

دہلی سلطنت کا دوسرا حکمران خاندان تھا۔ اس نے 1290ء سے 1320ء تک تقریباً 30 سال ہندوستان کے بڑے حصے پر حکومت کی۔خلجیوں کا تعلق ترک النسل فوجی طبقے سے تھا، اگرچہ ان کی کئی نسلیں افغانستان کے علاقے میں رہنے کی وجہ سے افغان ماحول سے بھی متاثر ہوچکی تھیں۔ اسی وجہ سے تاریخ میں خلجیوں کے نسلی پس منظر پر مختلف آرا ملتی ہیں۔مملوک خاندان کے آخری دور میں ترک غلام امرا کے درمیان اقتدار کی کشمکش بڑھ گئی تھی۔ اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلال الدین فیروز خلجی نے 1290ء میں دہلی کا اقتدار سنبھالا اور مملوک خاندان کا خاتمہ کردیا۔اس کے ساتھ دہلی سلطنت میں خلجی خاندان کا آغاز ہوا۔

جلال الدین فیروز خلجی خلجی خاندان کے بانی تھے۔ وہ عمر رسیدہ شخص تھے اور ان کی پالیسی مملوک حکمران بلبن کے مقابلے میں نسبتاً نرم سمجھی جاتی تھی۔انہوں نے سابق مملوک امرا کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کی۔لیکن دہلی سلطنت میں اس وقت کئی سیاسی گروہ موجود تھے اور نئے خاندان کے لیے اقتدار کو مستحکم کرنا آسان نہیں تھا۔جلال الدین کے بھتیجے اور داماد علاؤالدین خلجی نے بعد میں اپنی فوجی قابلیت کی وجہ سے بہت زیادہ طاقت حاصل کرلی۔

علاؤالدین خلجی جلال الدین فیروز خلجی کے بھتیجے اور داماد تھے۔1296ء میں علاؤالدین نے اپنے چچا جلال الدین کو قتل کرکے دہلی کا تخت حاصل کرلیا۔اس کے بعد علاؤالدین نے سلطنت کو مضبوط بنانے اور وسیع کرنے کے لیے ایک انتہائی طاقتور فوجی اور انتظامی نظام قائم کیا۔اس کا دور دہلی سلطنت کی تاریخ کے اہم ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔علاؤالدین خلجی کی فتوحاتعلاؤالدین خلجی نے شمالی ہندوستان کے ساتھ ساتھ دکن اور جنوبی ہندوستان کی طرف بھی بڑی فوجی مہمات بھیجیں۔اس کے دور میں گجرات، رنتھمبور، چتوڑ، مالوہ اور دوسرے اہم علاقوں پر دہلی سلطنت کا اقتدار مضبوط ہوا۔دکن کی فتوحات میں اس کے قابل جرنیل ملک کافور نے اہم کردار ادا کیا۔ملک کافور نے دیوگیری، ورنگل، دوار سمندر اور مدورائی کی طرف فوجی مہمات کیں۔ان مہمات کے نتیجے میں جنوبی ہندوستان کی کئی طاقتور ریاستوں نے دہلی سلطنت کی بالادستی تسلیم کی یا خراج دینا قبول کیا۔یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ جنوبی ہندوستان کے تمام علاقے براہِ راست دہلی سلطنت میں ضم نہیں ہوئے تھے۔ کئی ریاستیں خراج دینے والی یا تابع ریاستوں کی حیثیت سے موجود رہیں۔

لجی دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ منگول حملے تھے۔چنگیز خان کی قائم کردہ منگول طاقت اس وقت وسطی ایشیا اور ایران کے بڑے حصے پر قابض تھی۔ منگول فوجوں نے ہندوستان کی شمال مغربی سرحدوں کی طرف بھی کئی مرتبہ پیش قدمی کی۔علاؤالدین خلجی نے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دہلی کی فوج کو بہت مضبوط کیا۔منگولوں کے متعدد حملوں کو دہلی سلطنت نے شکست دی۔ اس کامیابی نے دہلی کو ایک بڑے بیرونی خطرے سے محفوظ رکھا۔اگر منگول دہلی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو شمالی ہندوستان کی تاریخ بالکل مختلف ہوسکتی تھی۔علاؤالدین خلجی کی معاشی اور انتظامی اصلاحاتعلاؤالدین خلجی نے ایک بہت مضبوط مرکزی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔اس نے امرا کی طاقت کم کی اور ان کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی۔ اسے خوف تھا کہ طاقتور امرا اس کے خلاف بغاوت کرسکتے ہیں۔اس نے شراب نوشی اور بعض ایسی محفلوں پر پابندیاں عائد کیں جہاں امرا آپس میں سازشیں کرسکتے تھے۔علاؤالدین نے بازاروں اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی سخت انتظامات کیے۔ اناج، کپڑے، گھوڑوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں کے لیے مقررہ نرخ رکھے گئے۔اس نظام کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ بڑی فوج کو نسبتاً کم اخراجات میں برقرار رکھا جاسکے۔

علاؤالدین نے ایک بڑی مستقل فوج برقرار رکھی۔فوجیوں کی تنخواہیں نقد ادا کرنے کا نظام مضبوط کیا گیا۔ گھوڑوں کی شناخت اور فوجیوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے داغ اور چیرا جیسے نظام استعمال کیے گئے۔داغ سے مراد گھوڑوں پر سرکاری نشان لگانا تھا، جبکہ چیرا فوجیوں کی شناخت اور حاضری کے ریکارڈ سے متعلق نظام تھا۔ان اقدامات کا مقصد جعلی فوجیوں اور ناقص گھوڑوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو نقصان سے بچانا تھا۔علاؤالدین خلجی کی وفات اور خلجی خاندان کا زوالعلاؤالدین خلجی کی وفات 1316ء میں ہوئی۔ان کی وفات کے بعد خلجی خاندان میں اقتدار کے لیے شدید کشمکش شروع ہوگئی۔ملک کافور نے کچھ عرصے کے لیے اقتدار پر اثر قائم کیا، لیکن وہ زیادہ دیر تک اقتدار برقرار نہ رکھ سکا۔اس کے بعد مختلف حکمران تخت پر آتے رہے اور دربار میں سازشیں اور اختلافات بڑھتے گئے۔آخرکار خلجی خاندان کی مرکزی طاقت ختم ہوگئی اور

اس کے ساتھ خلجی خاندان کا خاتمہ اور تغلق خاندان کا آغاز ہوا۔خلجی خاندان کا آخری حکمرانخلجی خاندان کے آخری حکمران کے طور پر قطب الدین مبارک شاہ خلجی کا نام اہم ہے، جس نے 1316ء سے 1320ء تک حکومت کی۔اس کے بعد خسرو خان نے اقتدار حاصل کرلیا، لیکن وہ بھی زیادہ دیر حکومت نہ کرسکا۔1320ء میں غیاث الدین تغلق نے خسرو خان کو شکست دی اور دہلی کا تخت حاصل کرلیا۔یوں خلجی خاندان کا تقریباً 30 سالہ دور ختم ہوگیا۔خلجی خاندان کی تاریخی اہمیتخلجی خاندان کا سب سے بڑا کارنامہ دہلی سلطنت کی غیر معمولی توسیع تھا۔علاؤالدین خلجی کے دور میں دہلی سلطنت شمالی ہندوستان سے نکل کر دکن تک پہنچی۔ جنوبی ہندوستان کی کئی بڑی ریاستوں سے خراج وصول کیا گیا۔خلجیوں نے منگول حملوں کے خلاف دہلی کا دفاع بھی کامیابی سے کیا۔علاؤالدین خلجی کی معاشی، فوجی اور انتظامی اصلاحات نے مرکزی حکومت کو بہت مضبوط کیا۔اس کے دور میں دہلی سلطنت اپنے ابتدائی ادوار کے مقابلے میں زیادہ طاقتور، وسیع اور منظم ریاست بن گئی۔

خلجی خاندان دہلی سلطنت کا دوسرا خاندان تھا جس نے 1290ء سے 1320ء تک حکومت کی۔جلال الدین فیروز خلجی نے 1290ء میں مملوک خاندان کا خاتمہ کرکے اقتدار حاصل کیا۔اس کے بعد 1296ء میں علاؤالدین خلجی نے اپنے چچا جلال الدین کو قتل کرکے سلطنت کا اقتدار سنبھالا۔علاؤالدین خلجی دہلی سلطنت کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے گجرات، مالوہ، رنتھمبور اور چتوڑ سمیت شمالی ہندوستان کے متعدد علاقوں کو فتح کیا، جبکہ ملک کافور کی قیادت میں دکن اور جنوبی ہندوستان تک فوجی مہمات بھیجیں۔اس کے دور میں منگولوں نے ہندوستان پر کئی مرتبہ حملے کیے، لیکن دہلی سلطنت نے ان حملوں کو کامیابی سے روکا۔علاؤالدین نے بازاروں، قیمتوں، فوج، گھوڑوں اور امرا کے حوالے سے سخت انتظامی اصلاحات بھی نافذ کیں۔1316ء میں علاؤالدین کی وفات کے بعد خلجی خاندان میں اندرونی کشمکش شروع ہوئی۔ بالآخر 1320ء میں غیاث الدین تغلق نے خسرو خان کو شکست دے کر تغلق خاندان قائم کیا۔یوں دہلی سلطنت کا تاریخی سلسلہ آگے بڑھا:

مملوک → خلجی → تغلق → سید → لودھی → مغل

. The Delhi Sultanate: A Political and Military History — Peter Jackson2. Medieval India: From Sultanat to the Mughals, Part I — Satish Chandra3. A History of Medieval India — Satish Chandra4. The Cambridge History of India, Volume III: Turks and Afghans — مختلف محققین5. The Sultanate of Delhi — V. D. Mahajan6. Tarikh-i-Firuz Shahi — Ziauddin Barani7. Khazain-ul-Futuh — Amir Khusrau8. Tabaqat-i-Nasiri — Minhaj-i-Siraj Juzjani9. The Wonder That Was India, Volume II — S. A. A. Rizvi

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top