تمہید
اردو برصغیر کی ایک اہم اور وسیع ادبی زبان ہے۔ اس نے ہندوستان کی مختلف تہذیبوں، مذاہب، علاقوں اور زبانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اردو کی تشکیل کسی ایک دن یا کسی ایک شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی، بلکہ یہ ایک طویل تاریخی اور لسانی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس کی بنیاد شمالی ہندوستان کی مقامی بولیوں، خصوصاً دہلی اور اس کے گردونواح کی بولیوں، پر پڑی اور وقت کے ساتھ اس میں فارسی، عربی، ترکی اور دیگر زبانوں کے الفاظ شامل ہوتے گئے۔
اردو زبان کا خالق کون ہے؟
عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اردو زبان کا خالق کون ہے؟ اس کا درست جواب یہ ہے کہ اردو کا کوئی ایک خالق نہیں ہے۔
زبانیں عموماً کسی ایک فرد کی ایجاد نہیں ہوتیں بلکہ معاشرتی رابطے، نقل مکانی، تجارت، حکومت، مذہب، ادب اور مختلف قوموں کے باہمی میل جول سے آہستہ آہستہ تشکیل پاتی ہیں۔ اردو بھی اسی طرح صدیوں کے دوران تشکیل پائی۔
البتہ امیر خسرو دہلوی کو اردو یا قدیم ہندوی کے ابتدائی اور اہم ادبی نمائندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان بھی انہیں اس نئی زبان کا ایک بڑا ابتدائی عوامی شاعر قرار دیتی ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ امیر خسرو نے اکیلے اردو زبان ’’بنائی‘‘ یا ’’ایجاد‘‘ کی، تاریخی اور لسانی اعتبار سے درست نہیں۔
اردو زبان کی تاریخ
اردو کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرونِ وسطیٰ کے شمالی ہندوستان کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ دہلی اور اس کے گردونواح میں مقامی ہند آریائی بولیاں بولی جاتی تھیں۔ مسلمانوں کی آمد اور دہلی سلطنت کے قیام کے بعد مقامی آبادی اور فارسی، عربی اور ترکی بولنے والے لوگوں کے درمیان مسلسل رابطہ بڑھا۔
اس رابطے کے نتیجے میں ایک ایسی بول چال کی زبان نے ترقی کی جس میں مقامی ہندوستانی زبانوں کی بنیادی ساخت موجود تھی، جبکہ فارسی اور عربی کے بہت سے الفاظ اس میں شامل ہوتے گئے۔ ابتدائی دور میں اسے ہندوی، ہندی، زبانِ دہلی، زبانِ ہند اور دوسرے ناموں سے پکارا گیا۔ بعد کے زمانوں میں ریختہ، گجری، دکنی اور اردوئے معلّیٰ جیسے نام بھی استعمال ہوئے۔
اردو کے ارتقا میں صوفیا، شعرا، درباروں، تاجروں اور عام لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔ صوفیا نے عوام تک مذہبی اور اخلاقی پیغام پہنچانے کے لیے مقامی زبانوں کو استعمال کیا، جس سے اس زبان کو مختلف علاقوں میں پھیلنے میں مدد ملی۔
دہلی سے یہ زبان دکن، گجرات اور دوسرے علاقوں تک پہنچی۔ دکن میں اس نے دکنی کی شکل میں خاص ادبی ترقی کی اور وہاں اردو شاعری اور نثر کا ایک مضبوط ذخیرہ پیدا ہوا۔
لفظ ’’اردو‘‘ کہاں سے آیا؟
لفظ اردو بنیادی طور پر ترکی زبان کے لفظ اُردو (Ordu) سے نکلا ہے، جس کے معنی لشکر، فوجی پڑاؤ یا کیمپ کے ہیں۔
مغل دور میں اردوئے معلّیٰ کی ترکیب استعمال ہوتی تھی، جس کا مفہوم شاہی لشکر یا شاہی دربار سے متعلق تھا۔ وقت کے ساتھ یہ لفظ اس زبان کے نام کے طور پر استعمال ہونے لگا۔
تاہم یہاں بھی ایک تاریخی نکتہ قابلِ ذکر ہے۔ موجودہ مفہوم میں زبان کے نام کے طور پر ’’اردو‘‘ کا استعمال نسبتاً بعد میں نمایاں ہوا۔ بعض محققین کے مطابق اٹھارہویں صدی کے آخری حصے میں یہ نام زبان کے لیے واضح طور پر استعمال ہونے لگا۔ اس سے پہلے یہی زبان مختلف علاقوں اور ادوار میں ہندوی، ریختہ، دکنی اور دوسرے ناموں سے جانی جاتی تھی۔
اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ زبان پہلے وجود میں آئی اور ’’اردو‘‘ نام بعد میں اس زبان کے لیے عام ہوا۔
امیر خسرو دہلوی کا اردو زبان کے لیے کردار
امیر خسرو دہلوی (1253–1325ء) برصغیر کی ادبی اور ثقافتی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت ہیں۔ وہ فارسی کے بڑے شاعر تھے، لیکن انہیں ہندوی زبان کے ابتدائی اہم ادبی نمائندوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے فارسی اور ہندوستانی زبان و ثقافت کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پیدا کیا۔ ان کے کلام میں ہندوستانی الفاظ، محاورات اور عوامی اظہار کے نمونے ملتے ہیں۔ پہیلیاں، دوہے، کہہ مکرنیاں اور دیگر عوامی اصناف سے ان کی نسبت اردو اور ہندوی کے ابتدائی ادبی سفر میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔
امیر خسرو کی اہمیت صرف زبان تک محدود نہیں۔ انہوں نے ہندوستانی موسیقی، ثقافت اور فارسی ادبی روایت کے درمیان بھی ایک منفرد تعلق پیدا کیا۔
تاہم جدید محققین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امیر خسرو سے منسوب تمام ہندوی اشعار کی نسبت قطعی طور پر ثابت نہیں۔ اس لیے علمی انداز میں انہیں اردو/ہندوی کے ابتدائی اہم ادبی نمائندوں میں شمار کرنا زیادہ محتاط اور درست طرزِ بیان ہے۔
مولوی عبدالحق کا اردو زبان کے لیے کردار
مولوی عبدالحق (1870–1961ء) جدید دور میں اردو زبان کے سب سے بڑے خادموں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں محبت اور احترام سے بابائے اردو کہا جاتا ہے۔
انہوں نے اردو زبان کی ترقی، تدریس، تحقیق، لغت، قواعد اور ادبی اداروں کے قیام کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ وہ انجمن ترقی اردو سے طویل عرصے تک وابستہ رہے اور اردو کو تعلیمی اور علمی زبان بنانے کے لیے مسلسل کام کرتے رہے۔
مولوی عبدالحق نے حیدرآباد دکن میں دارالترجمہ کے قیام اور علمی و سائنسی کتابوں کے اردو ترجمے کے کام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے بھی وابستہ رہے۔ بعد میں پاکستان آنے کے بعد انہوں نے کراچی میں اردو کے فروغ کے لیے بھی اہم ادارہ جاتی کام کیا۔
ان کی علمی خدمات میں اردو زبان و ادب پر تحقیق، تدوین، لغت اور قواعد کی کتابیں شامل ہیں۔ ان کی معروف علمی کاوشوں میں The Standard English-Urdu Dictionary اور اردو صرف و نحو شامل ہیں۔
مولوی عبدالحق کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اردو کو محض شاعری کی زبان سمجھنے کے بجائے اسے تعلیم، تحقیق، صحافت، سائنس اور علمی اظہار کی مکمل زبان بنانے کی کوشش کی۔
اردو زبان کتنی پرانی ہے؟
اردو کی عمر بتاتے وقت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم ’’اردو‘‘ سے کیا مراد لیتے ہیں۔
اگر ہم موجودہ نام اردو کی بات کریں تو یہ نام نسبتاً بعد میں رائج ہوا اور اٹھارہویں صدی میں زبان کے نام کے طور پر واضح طور پر سامنے آتا ہے۔
لیکن اگر ہم اس زبان کی لسانی جڑوں اور ابتدائی شکل کی بات کریں تو اس کی بنیاد قرونِ وسطیٰ کے شمالی ہندوستان میں کئی صدیوں پہلے پڑ چکی تھی۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اردو کی ابتدا کو بارہویں صدی کے بعد مسلمانوں کی آمد اور شمال مغربی ہندوستان کی مقامی بولیوں کے ساتھ رابطے کے تاریخی عمل سے جوڑتی ہے۔
اس لحاظ سے اردو کی لسانی تاریخ تقریباً آٹھ سے نو صدیوں پر محیط ایک طویل ارتقائی سفر ہے، جبکہ ’’اردو‘‘ نام کا باقاعدہ استعمال اس سے بہت بعد میں عام ہوا۔
اردو کی تشکیل میں کن زبانوں کا کردار ہے؟
اردو کی بنیادی ساخت ہندوستانی ہند آریائی لسانی روایت سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ اس کے ذخیرۂ الفاظ پر مختلف زبانوں کے گہرے اثرات ہیں۔
اہم اثرات میں شامل ہیں:
- ہندوی/ہندوستانی مقامی بولیاں — بنیادی لسانی ساخت
- کھڑی بولی — شمالی ہندوستان میں اہم بنیاد
- برج بھاشا — ادبی و شعری اثرات
- فارسی — الفاظ، ادب اور درباری اصطلاحات
- عربی — مذہبی، علمی اور علمی اصطلاحات
- ترکی — متعدد الفاظ اور تاریخی اثرات
- پنجابی، سندھی، گجراتی اور دیگر علاقائی زبانیں — مختلف ادوار میں مقامی اثرات
اسی لسانی اور ثقافتی امتزاج نے اردو کو ایک ایسی زبان بنایا جس میں ہندوستانی بنیاد کے ساتھ فارسی و عربی الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
نتیجہ
اردو کسی ایک شخص کی ایجاد کردہ زبان نہیں بلکہ برصغیر کی مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے طویل میل جول کا نتیجہ ہے۔ اس کی ابتدائی بنیاد شمالی ہندوستان کی مقامی بولیوں میں پڑی، جبکہ فارسی، عربی، ترکی اور دیگر زبانوں نے اس کے ذخیرۂ الفاظ اور ادبی اظہار کو مالا مال کیا۔
امیر خسرو دہلوی نے ابتدائی ہندوی زبان کو ادبی اظہار دینے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ اردو کے ابتدائی ادبی سفر کی ایک انتہائی اہم شخصیت ہیں۔ اس کے بعد صوفیا، شعرا، ادیبوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں نے اس زبان کو آگے بڑھایا۔
وقت کے ساتھ یہی زبان ہندوی، ہندی، ریختہ، دکنی اور دوسرے ناموں سے گزرتی ہوئی اردو کے نام سے معروف ہوئی۔
جدید دور میں مولوی عبدالحق نے اردو کی علمی، تعلیمی، ادبی اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ اسی وجہ سے انہیں بجا طور پر بابائے اردو کہا جاتا ہے۔
یوں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی، تاریخی اور ادبی میراث بھی ہے۔
اہم حوالہ جات
- قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ’’اردو کا تاریخی پس منظر‘‘۔
- Encyclopaedia Iranica، “Urdu” — اردو کی لسانی تشکیل اور تاریخی ارتقا۔
- Rekhta، “The Story of Rekhta” — ریختہ اور ہندوی کے تاریخی ارتقا پر مواد۔
- مسعود حسین خان، اردو زبان کی ابتدا اور تاریخی ارتقا سے متعلق تحقیقات؛ متعلقہ مواد قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں بھی موجود ہے۔
- شمس الرحمن فاروقی، اردو کے نام اور لفظ ’’اردو‘‘ کے تاریخی استعمال پر بحث۔
- مولوی عبدالحق، پاکستان میں اردو کا المیہ اور دیگر تصانیف۔
- مولوی عبدالحق کی علمی و ادبی خدمات، انجمن ترقی اردو اور دارالترجمہ سے متعلق معلومات۔
- اردو زبان کی تاریخ، مرزا خلیل احمد بیگ، ایجوکیشنل بک ہاؤس۔