برطانوی راج کیا تھا؟ 1858ء سے 1947ء تک
برطانوی راج (British Raj) سے مراد ہندوستان میں برطانوی تاج کی براہِ راست حکومت ہے جو 1858ء سے 1947ء تک قائم رہی۔
1857ء کی بغاوت کے بعد برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان کا انتظام واپس لے لیا۔
Government of India Act 1858 کے ذریعے ہندوستان کا اقتدار براہِ راست برطانوی تاج کے پاس آگیا۔
اب ہندوستان کا انتظام ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں بلکہ برطانوی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ حکام کرتے تھے۔
۔ ملکہ وکٹوریہ اور برطانوی حکومت
1858ء کے بعد ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی علامتی سربراہ بنیں۔
1876ء میں ملکہ وکٹوریہ نے Empress of India کا لقب بھی اختیار کیا۔
برطانوی حکومت نے ہندوستان میں ایک مرکزی انتظامی نظام قائم کیا۔ وائسرائے برطانوی تاج کا ہندوستان میں سب سے بڑا نمائندہ ہوتا تھا۔
اس کے نیچے صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ اور مختلف سرکاری محکمے کام کرتے تھے۔
۔ برطانوی راج میں ہندوستان کا انتظام
برطانوی ہندوستان دو بڑی قسم کے علاقوں پر مشتمل تھا۔
پہلا حصہ وہ تھا جو براہِ راست برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام تھا۔ اسے British India کہا جاتا تھا۔
دوسرا حصہ مختلف Princely States پر مشتمل تھا، جہاں مقامی راجے، نواب اور مہاراجے اندرونی معاملات میں حکومت کرتے تھے، لیکن وہ برطانوی بالادستی کو تسلیم کرتے تھے۔
اس طرح پورا ہندوستان ایک ہی طریقے سے براہِ راست برطانوی صوبہ نہیں تھا۔
۔ معیشت، ریلوے اور برطانوی دور کی تبدیلیاں
برطانوی دور میں ہندوستان میں ریلوے، ٹیلی گراف، جدید ڈاک، بندرگاہوں اور سڑکوں کا وسیع نظام قائم ہوا۔
لیکن ان ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد صرف ہندوستانی عوام کی سہولت نہیں تھا۔ برطانوی حکومت کے لیے فوج کی نقل و حرکت، خام مال کی ترسیل اور تجارت بھی بہت اہم مقاصد تھے۔
ہندوستانی معیشت کو برطانوی صنعتی اور تجارتی نظام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ کپاس، نیل، چائے، افیون اور دیگر اجناس کی پیداوار اور برآمد میں اضافہ ہوا۔
اسی دوران ہندوستانی صنعتوں، خصوصاً روایتی دستکاری اور کپڑے کی صنعت، کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑا۔
۔ 1857ء کے بعد سیاسی بیداری
1857ء کے بعد ہندوستان میں سیاسی شعور آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔
1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس قائم ہوئی۔ ابتدا میں اس کے مطالبات زیادہ تر سیاسی اور انتظامی اصلاحات سے متعلق تھے، لیکن وقت کے ساتھ ہندوستانی آزادی کا مطالبہ مضبوط ہوتا گیا۔
20ویں صدی میں مہاتما گاندھی کی قیادت میں عدم تعاون، سول نافرمانی اور Quit India Movement جیسی تحریکیں سامنے آئیں۔
اسی دور میں آل انڈیا مسلم لیگ بھی ایک اہم سیاسی قوت بن گئی، جس نے بالآخر مسلمانوں کے لیے الگ سیاسی وطن کے مطالبے کو آگے بڑھایا۔
۔ دوسری جنگِ عظیم اور آزادی کی طرف سفر
دوسری جنگِ عظیم (1939–1945ء) نے برطانوی سلطنت کو معاشی اور سیاسی طور پر بہت کمزور کردیا۔
جنگ کے بعد ہندوستان میں آزادی کا مطالبہ مزید طاقتور ہوگیا۔
برطانوی حکومت کے لیے ہندوستان پر پرانے طریقے سے حکومت جاری رکھنا مشکل ہوتا گیا۔
1946ء میں Cabinet Mission ہندوستان آیا اور اقتدار کی منتقلی کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
لیکن کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان سیاسی اختلافات، خصوصاً مرکز اور صوبوں کے مستقبل کے بارے میں اختلافات، حل نہ ہوسکے۔
۔ 1947ء — برطانوی راج کا خاتمہ اور تقسیمِ ہند
بالآخر برطانوی حکومت نے ہندوستان سے اقتدار منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
Indian Independence Act 1947 کے تحت برطانوی ہندوستان کو دو آزاد ریاستوں، پاکستان اور بھارت میں تقسیم کیا گیا۔
14 اگست 1947ء کو پاکستان آزاد ہوا اور 15 اگست 1947ء کو بھارت آزاد ہوا۔
اس طرح تقریباً دو صدیوں پر محیط برطانوی سیاسی اقتدار کا ہندوستان میں خاتمہ ہوگیا۔
تقسیم کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہجرت، فسادات اور انسانی المیے بھی پیش آئے۔
حوالہ جات
- Bipan Chandra — India’s Struggle for Independence
- Sekhar Bandyopadhyay — From Plassey to Partition and After
- C.A. Bayly — Indian Society and the Making of the British Empire
- Judith M. Brown — Modern India: The Origins of an Asian Democracy
- Barbara D. Metcalf & Thomas R. Metcalf — A Concise History of India
- Yasmin Khan — The Great Partition: The Making of India and Pakistan
- The Indian Independence Act 1947
- Government of India Act 1858
