تجارت سے ہندوستانی اقتدار تک
۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کیا تھی؟
ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) ایک تجارتی کمپنی تھی جسے انگلستان کی ملکہ الزبتھ اول نے 1600ء میں شاہی اجازت نامہ دیا۔ ابتدا میں اس کا مقصد ہندوستان اور مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کرنا تھا، نہ کہ ہندوستان پر حکومت کرنا۔
کمپنی ہندوستان میں کپڑا، مصالحہ جات، نیل، چائے اور دوسری قیمتی اشیا کی تجارت کرتی تھی۔ اس نے مختلف ساحلی شہروں میں اپنی تجارتی کوٹھیاں اور مراکز قائم کیے۔
2۔ مغل سلطنت اور کمپنی کے تعلقات
جب ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پہنچی تو یہاں مغل سلطنت ایک بڑی سیاسی طاقت تھی۔
کمپنی نے مغل حکمرانوں سے تجارتی مراعات حاصل کیں۔ اسے مختلف مقامات پر تجارت اور اپنی فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت ملی۔
وقت کے ساتھ کمپنی نے تجارت کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات میں مداخلت شروع کردی۔ مغل سلطنت کمزور ہونے لگی تو کمپنی کو ہندوستانی ریاستوں کے درمیان جاری سیاسی کشمکش سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔
3۔ پلاسی کی جنگ — اصل سیاسی طاقت کا آغاز
ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں سیاسی اقتدار کا اہم موڑ 1757ء کی جنگِ پلاسی تھی۔
بنگال کے نواب سراج الدولہ اور کمپنی کی فوج کے درمیان جنگ ہوئی۔ کمپنی کے کمانڈر رابرٹ کلائیو نے سراج الدولہ کو شکست دی۔
اس جنگ کے بعد کمپنی کا بنگال کی سیاست اور معیشت پر اثر بہت بڑھ گیا۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ ایک تجارتی کمپنی پہلی مرتبہ ہندوستان کے ایک بڑے اور دولت مند صوبے کی سیاست میں فیصلہ کن طاقت بن گئی۔
۔ جنگِ بکسر اور دیوانی کا حق
1764ء کی جنگِ بکسر میں کمپنی نے مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی، اودھ کے نواب اور بنگال کے نواب کی مشترکہ طاقت کو شکست دی۔
اس کے بعد 1765ء میں معاہدۂ الہ آباد کے نتیجے میں کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دیوانی حقوق حاصل ہوئے۔
دیوانی کا مطلب بنیادی طور پر محصول اور مالیاتی انتظام کا حق تھا۔
اب کمپنی صرف تجارت سے منافع کمانے والی تنظیم نہیں رہی بلکہ ایک ایسی سیاسی طاقت بن گئی جس کے پاس اپنی فوج اور ریاستی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھا۔
۔ کمپنی کی فوج اور ہندوستانی ریاستیں
کمپنی نے اپنی فوج کو بہت مضبوط کیا۔ اس فوج میں بڑی تعداد میں ہندوستانی سپاہی بھی شامل تھے، جنہیں عموماً سپاہی (Sepoys) کہا جاتا تھا۔
کمپنی نے مختلف جنگوں کے ذریعے اپنی سلطنت کو وسعت دی۔
اس نے مراٹھوں، میسور، سکھوں اور مختلف ہندوستانی ریاستوں کے خلاف جنگیں لڑیں۔
حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے خلاف میسور کی جنگیں، مراٹھا جنگیں اور بعد میں سکھ جنگیں کمپنی کے پھیلاؤ میں اہم تھیں۔
۔ کمپنی کا انتظام اور برطانوی حکومت کی مداخلت
کمپنی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اقتدار نے خود برطانیہ میں بھی تشویش پیدا کی۔
کمپنی کی مالی مشکلات اور ہندوستان میں اس کے انتظام کے مسائل کے باعث برطانوی پارلیمنٹ نے کمپنی کے معاملات میں براہِ راست مداخلت شروع کردی۔
1773ء کا Regulating Act اور 1784ء کا India Act اس مداخلت کے اہم مراحل تھے۔
اس طرح کمپنی بظاہر ایک تجارتی ادارہ رہی، لیکن اس کے ہندوستانی معاملات پر برطانوی حکومت کا کنٹرول مسلسل بڑھتا گیا۔
۔ 1857ء کی بغاوت اور کمپنی کا خاتمہ
19ویں صدی تک ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے ایک بہت بڑے حصے پر قابض ہوچکی تھی۔
لیکن کمپنی کی پالیسیوں، فوجی و سیاسی اقدامات، معاشی تبدیلیوں اور مختلف دیگر اسباب کی وجہ سے 1857ء میں بڑی بغاوت شروع ہوئی۔
یہ بغاوت شمالی اور وسطی ہندوستان کے وسیع علاقوں میں پھیل گئی۔
اگرچہ کمپنی اور برطانوی فوج نے بغاوت کو ختم کردیا، لیکن اس کے بعد برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان کا انتظام اب کمپنی کے ہاتھ میں نہیں رہنا چاہیے۔
1858ء کے Government of India Act کے ذریعے کمپنی کی حکمرانی ختم کردی گئی اور ہندوستان براہِ راست برطانوی تاج کے زیرِ حکومت آگیا۔
حوالہ جات
- William Dalrymple — The Anarchy: The East India Company, Corporate Violence, and the Pillage of an Empire
- P.J. Marshall — The Making and Unmaking of Empires: Britain, India, and America c.1750–1783
- John Keay — The Honourable Company: A History of the East India Company
- C.A. Bayly — Indian Society and the Making of the British Empire
- Sekhar Bandyopadhyay — From Plassey to Partition and After
- A History of the East India Company — Sir William Wilson Hunter
