سلطنتِ عثمانیہ: ایک قبیلے سے عظیم سلطنت تک

سلطنتِ عثمانیہ کی کہانی تیرہویں صدی کے آخر میں اناطولیہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس زمانے میں سلجوقی سلطنتِ روم کمزور ہو رہی تھی، منگول حملوں نے خطے کا سیاسی نظام ہلا دیا تھا اور اناطولیہ میں بہت سے ترکمان قبائل اپنی اپنی چھوٹی ریاستیں قائم کر رہے تھے۔ انہی قبائل میں عثمان بن ارطغرل کا قبیلہ بھی شامل تھا۔ عثمان نے تقریباً 1290ء کی دہائی میں شمال مغربی اناطولیہ کے علاقے سوغوت کے گرد اپنی طاقت مضبوط کی۔ ان کی ریاست ابتدا میں ایک چھوٹی سی سرحدی ریاست تھی، جس کی سرحد بازنطینی سلطنت سے ملتی تھی۔ اس جغرافیائی حیثیت نے عثمانیوں کو بازنطینی علاقوں کی طرف مسلسل توسیع کا موقع دیا۔
عثمان کے بعد ان کے بیٹے اورخان نے ریاست کو منظم کیا۔ 1326ء میں برصہ فتح ہوا اور اسے دارالحکومت بنایا گیا۔ فوج مضبوط ہوئی، انتظامی نظام بہتر ہوا اور عثمانیوں نے اناطولیہ سے نکل کر یورپ میں قدم رکھا۔ 1354ء میں گلی پولی پر قبضہ عثمانیوں کا یورپ میں مستقل داخلہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد بلقان میں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔
مراد اول نے ادرنہ کو مرکز بنایا اور بلقان میں عثمانی اقتدار کو وسعت دی۔ بایزید اول نے اناطولیہ میں کئی ترک ریاستوں کو زیرِنگیں کیا اور یورپ میں بھی پیش قدمی جاری رکھی، لیکن 1402ء میں تیمور لنگ کے ہاتھوں انقرہ کی جنگ میں شکست کے بعد عثمانی ریاست شدید بحران کا شکار ہوگئی۔ بایزید کے بیٹوں کے درمیان اقتدار کی جنگ ہوئی، جسے عثمانی تاریخ میں دورِ فترت کہا جاتا ہے۔
محمد اول نے دوبارہ سلطنت کو متحد کیا، جبکہ مراد ثانی نے اسے مزید مضبوط کیا۔ پھر 1453ء میں محمد ثانی، یعنی سلطان محمد فاتح، نے قسطنطنیہ فتح کر کے بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ واقعہ عثمانیوں کے ایک علاقائی ترکمان بیلیک سے ایک عظیم سلطنت میں تبدیل ہونے کا اہم ترین مرحلہ تھا۔
بعد کے سلاطین نے شام، مصر، حجاز، عراق، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے وسیع علاقوں تک سلطنت کو پھیلایا۔ سولہویں صدی میں سلیم اول اور سلیمان قانونی کے زمانے میں عثمانی سلطنت اپنی طاقت کے عروج پر پہنچ گئی۔ یوں ایک چھوٹی سرحدی ریاست تقریباً چھ صدیوں میں تین براعظموں تک پھیلی ہوئی عظیم سلطنت بن گئی۔

عثمان بن ارطغرل عثمانی خاندان کے بانی تھے۔ انہی کے نام پر خاندان اور بعد میں سلطنت کا نام عثمانیہ پڑا۔ انہوں نے بازنطینی سرحدوں کے قریب اپنی چھوٹی ریاست قائم کی اور اردگرد کے علاقوں میں فتوحات شروع کیں۔ ان کے دور میں سلطنت ابھی ایک چھوٹی ریاست تھی، مگر مستقبل کی عظیم سلطنت کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔

اورخان نے اپنے والد کی قائم کردہ ریاست کو مضبوط سلطنت میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی۔ 1326ء میں برصہ فتح کیا اور اسے دارالحکومت بنایا۔ فوج اور انتظامیہ کو منظم کیا اور عثمانیوں کو پہلی مرتبہ یورپ میں مضبوط قدم رکھنے کا موقع ملا۔ ان کے دور میں عثمانی ریاست نے ایک باقاعدہ سیاسی و عسکری شکل اختیار کی۔

مراد اول نے عثمانی سلطنت کو بلقان میں وسیع کیا۔ ادرنہ فتح کیا اور اسے دارالحکومت بنایا۔ بلغاریہ، سربیا اور بلقان کے دوسرے علاقوں میں عثمانی اثر بڑھا۔ 1389ء میں جنگِ کوسوو کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ ان کے دور میں عثمانی ریاست واضح طور پر یورپی طاقت بن گئی۔

بایزید اول کو یلدرم یعنی بجلی کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اناطولیہ میں عثمانی اقتدار کو بہت وسیع کیا اور یورپ میں بھی فتوحات جاری رکھیں۔ 1396ء میں جنگِ نیکوپولس میں صلیبی فوج کو شکست دی۔ تاہم 1402ء میں انقرہ کی جنگ میں تیمور لنگ سے شکست ہوئی اور بایزید گرفتار ہوئے۔ ان کی شکست کے بعد عثمانی سلطنت شدید داخلی بحران میں داخل ہوگئی۔

بایزید کی شکست کے بعد ان کے بیٹوں کے درمیان اقتدار کی جنگ ہوئی۔ محمد اول نے اپنے بھائیوں کو شکست دے کر 1413ء میں سلطنت کو دوبارہ متحد کیا۔ اسی وجہ سے انہیں عثمانی ریاست کا دوسرا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سلطنت کو دوبارہ استحکام دیا۔

مراد ثانی نے بلقان میں عثمانی اقتدار دوبارہ مضبوط کیا۔ 1444ء میں وقتی طور پر تخت اپنے بیٹے محمد ثانی کے حوالے کیا، لیکن سیاسی و فوجی حالات کے باعث دوبارہ سلطان بنے۔ انہوں نے یورپ میں عثمانیوں کی طاقت کو مستحکم کیا اور اپنے بیٹے محمد فاتح کے لیے ایک مضبوط سلطنت چھوڑی۔

محمد فاتح عثمانی تاریخ کے عظیم ترین سلاطین میں شمار ہوتے ہیں۔ 1453ء میں انہوں نے قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ قسطنطنیہ عثمانی دارالحکومت بن گیا۔ انہوں نے بلقان، اناطولیہ اور بحیرۂ اسود کے اطراف میں بھی فتوحات کیں۔ ان کے دور میں عثمانی سلطنت ایک بڑی عالمی طاقت بن گئی۔

بایزید ثانی نے اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور نسبتاً پُرامن پالیسی اختیار کی۔ ان کے دور میں سلطنت مستحکم ہوئی۔ 1492ء میں اسپین سے نکالے گئے بہت سے یہودیوں کو عثمانی علاقوں میں پناہ ملی۔ انہوں نے سلطنت کے انتظامی اور معاشی نظام کو مضبوط کیا۔

سلیم اول کو یاووز سلیم کہا جاتا ہے۔ ان کے مختصر دور میں سلطنت بہت تیزی سے پھیلی۔ 1514ء میں چالدران کی جنگ میں صفوی شاہ اسماعیل کو شکست دی۔ 1516ء میں مملوکوں کو مرج دابق اور 1517ء میں ریدانیہ میں شکست دے کر شام، مصر اور حجاز عثمانی اقتدار میں لے آئے۔ مکہ و مدینہ بھی عثمانی سلطنت کے زیرِ اثر آگئے۔ ان کے دور میں عثمانی سلطنت مسلم دنیا کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بن گئی۔

سلیمان قانونی عثمانی سلطنت کے سب سے مشہور سلاطین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے دور کو عثمانی سلطنت کا عروج سمجھا جاتا ہے۔ بلغراد اور روڈس فتح ہوئے، 1526ء میں موہاچ کی جنگ میں ہنگری کو شکست دی گئی اور عثمانی طاقت وسطی یورپ تک پہنچ گئی۔ 1529ء میں ویانا کا محاصرہ کیا گیا۔ بحیرۂ روم میں عثمانی بحری طاقت بھی بہت مضبوط ہوئی۔ قانون سازی، انتظامیہ، فن تعمیر اور ادب میں بھی ان کا دور نمایاں تھا۔

سلیم ثانی کے دور میں سلطنت کی توسیع جاری رہی۔ 1571ء میں قبرص فتح کیا گیا۔ اسی سال لیپانٹو کی بحری جنگ میں عثمانی بحری بیڑے کو شکست ہوئی، اگرچہ عثمانیوں نے جلد ہی اپنا بحری بیڑا دوبارہ تعمیر کر لیا۔ اس دور میں سلطنت اب بھی ایک عظیم عالمی طاقت تھی۔

مراد ثالث کے دور میں عثمانیوں کی جنگیں صفوی ایران اور یورپی طاقتوں کے ساتھ جاری رہیں۔ 1578ء سے 1590ء کی جنگ کے نتیجے میں عثمانیوں نے قفقاز اور ایران کے بعض علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے دور میں سلطنت جغرافیائی اعتبار سے اپنے بڑے پھیلاؤ میں شامل رہی۔

محمد ثالث نے 1596ء میں ہنگری میں جنگِ ہاچوا کے دوران عثمانی فوج کی قیادت کی اور فتح حاصل کی۔ تاہم اس دور میں یورپ میں طویل جنگیں جاری رہیں اور سلطنت کو فوجی و معاشی دباؤ کا سامنا بڑھنے لگا۔

احمد اول کے دور میں عثمانیوں کو صفوی ایران اور یورپی طاقتوں سے جنگوں کا سامنا رہا۔ وہ فنِ تعمیر کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ ان کے دور کی سب سے معروف یادگار استنبول کی سلطان احمد مسجد ہے، جو بعد میں بلیو مسجد کے نام سے مشہور ہوئی۔

مصطفیٰ اول دو مرتبہ تخت پر بیٹھے۔ ان کا دور سیاسی عدم استحکام سے متاثر تھا۔ عثمانی دربار میں فوج، درباری گروہوں اور شاہی خاندان کے درمیان طاقت کی کشمکش بڑھ رہی تھی۔

عثمان ثانی، المعروف نوجوان عثمان، نے فوج اور ریاست میں اصلاحات کی کوشش کی۔ انہوں نے 1621ء میں پولینڈ کے خلاف جنگ کی، مگر جانشین فوجی گروہوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ 1622ء میں ینی چری فوج کے ایک بغاوتی دھڑے نے انہیں معزول کرکے قتل کر دیا۔

مراد رابع نے مرکزی حکومت کو دوبارہ مضبوط کیا۔ انہوں نے سخت نظم و ضبط قائم کیا اور 1638ء میں بغداد دوبارہ صفویوں سے فتح کیا۔ 1639ء کے معاہدۂ زہاب نے عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان ایک اہم سرحدی بندوبست قائم کیا، جس کا اثر بعد کی ایران-ترکی سرحد پر بھی پڑا۔

ابراہیم کے دور میں درباری سیاست اور مالی مشکلات بڑھیں۔ ان کے زمانے میں عثمانیوں نے وینس کے خلاف کریٹ کی جنگ شروع کی۔ سیاسی بحران کے نتیجے میں 1648ء میں انہیں معزول کر دیا گیا۔

محمد رابع کا طویل دور تھا۔ ابتدا میں سلطنت شدید سیاسی بحران سے دوچار رہی، لیکن کوپرولو خاندان کے وزرائے اعظم نے انتظامیہ اور فوج کو مضبوط کیا۔ عثمانیوں نے یورپ میں کئی کامیابیاں حاصل کیں، تاہم آخرکار 1683ء میں ویانا کا محاصرہ ناکام ہوا اور اس کے بعد عثمانی سلطنت کو یورپ میں مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

سلیمان ثانی کے دور میں عثمانیوں کو یورپی اتحاد کے خلاف مسلسل جنگیں لڑنا پڑیں۔ سلطنت اپنے یورپی علاقوں کے دفاع میں مشکلات کا شکار رہی۔

احمد ثانی کے دور میں آسٹریا کے ساتھ جنگیں جاری رہیں۔ عثمانی سلطنت کو وسطی یورپ میں مسلسل فوجی دباؤ کا سامنا تھا۔

مصطفیٰ ثانی نے فوجی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ 1697ء میں زینتا کی جنگ میں عثمانی فوج کو بڑی شکست ہوئی۔ 1699ء کے معاہدۂ کارلووٹز کے نتیجے میں عثمانیوں نے وسطی یورپ کے وسیع علاقے کھو دیے۔ یہ عثمانی زوال کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا۔

احمد ثالث کے دور کو عموماً عثمانی تاریخ کا ’’عہدِ لالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یورپ کے علم، فن، ادب اور ثقافت میں دلچسپی بڑھی۔ پرنٹنگ پریس کے استعمال کو فروغ ملا۔ تاہم روس اور آسٹریا کے ساتھ جنگیں بھی ہوئیں۔ 1730ء میں پاترونا خلیل کی بغاوت کے بعد انہیں تخت چھوڑنا پڑا۔

محمود اول نے بغاوت کے بعد سلطنت کو دوبارہ مستحکم کیا۔ روس اور آسٹریا کے خلاف جنگوں میں عثمانیوں نے بعض کامیابیاں حاصل کیں۔ فوجی نظام میں اصلاحات کی کوششیں بھی ہوئیں۔

عثمان ثالث کا دور مختصر تھا۔ ان کے زمانے میں کوئی بڑی علاقائی توسیع نہیں ہوئی اور سلطنت نسبتاً استحکام کے مرحلے میں رہی۔

مصطفیٰ ثالث نے فوجی اصلاحات کی اہمیت محسوس کی، مگر روس کے ساتھ جنگ میں عثمانیوں کو شدید شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1768ء سے 1774ء کی روسی جنگ کے بعد سلطنت کو معاہدۂ کوچک کینارکا میں اہم نقصان اٹھانا پڑا۔

عبدالحمید اول کے دور میں روس کے ساتھ تعلقات اور جنگیں مرکزی مسئلہ رہیں۔ کریمیا پر روسی قبضے نے عثمانیوں کو بڑا نقصان پہنچایا۔ سلطنت میں اصلاحات کی ضرورت مزید واضح ہوئی۔

سلیم ثالث اصلاحات کے حوالے سے بہت اہم سلطان تھے۔ انہوں نے ’’نظامِ جدید‘‘ کے نام سے فوجی اور انتظامی اصلاحات شروع کیں اور یورپی طرز کی نئی فوج بنانے کی کوشش کی۔ لیکن ینی چری اور قدامت پسند حلقوں کی مخالفت کے باعث اصلاحات کے خلاف بغاوت ہوئی اور 1807ء میں انہیں معزول کر دیا گیا۔

مصطفیٰ رابع کا دور بہت مختصر تھا اور اصلاح پسند اور مخالف دھڑوں کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ انہیں جلد ہی معزول کر دیا گیا۔

محمود ثانی عثمانی اصلاحات کے بڑے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1826ء میں انہوں نے ینی چری فوج کا خاتمہ کیا، جسے ’’خیرِ مقدّم‘‘ کا واقعہ کہا جاتا ہے، اور جدید فوجی نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ مرکزی حکومت کو مضبوط کیا اور انتظامی اصلاحات شروع کیں۔ تاہم ان کے دور میں یونان کی آزادی اور مصر کے محمد علی پاشا کا مسئلہ سلطنت کے لیے بڑے چیلنج تھے۔

عبدالمجید اول کے دور میں تنظیمات کے نام سے وسیع اصلاحات شروع ہوئیں۔ 1839ء کا فرمانِ گلخانہ اور 1856ء کا فرمانِ اصلاحات ریاستی، قانونی اور انتظامی تبدیلیوں کے اہم مراحل تھے۔ 1853ء تا 1856ء کی کریمیا کی جنگ میں عثمانیوں نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر روس کا مقابلہ کیا۔

عبدالعزیز نے فوج اور بحریہ کو جدید بنانے پر توجہ دی۔ عثمانی بحریہ دنیا کی بڑی بحری طاقتوں میں شامل ہونے لگی۔ تاہم مالی مشکلات اور سیاسی بحران بڑھتے گئے اور 1876ء میں انہیں معزول کر دیا گیا۔

مراد خامس صرف چند ماہ سلطان رہے۔ ان کی ذہنی و جسمانی صحت کے مسائل کے باعث انہیں معزول کرکے ان کے بھائی عبدالحمید ثانی کو سلطان بنایا گیا۔

عبدالحمید ثانی عثمانی سلطنت کے آخری طاقتور سلاطین میں شمار ہوتے ہیں۔ 1876ء میں آئین نافذ کیا گیا، اگرچہ بعد میں پارلیمنٹ معطل کردی گئی اور طویل عرصے تک مرکزی اقتدار ان کے ہاتھ میں رہا۔ ان کے دور میں روس کے ساتھ جنگ، بلقان کے مسائل اور یورپی طاقتوں کا دباؤ بہت بڑھ گیا۔ انہوں نے خلافت اور مسلم دنیا کے اتحاد کے تصور کو بھی سیاسی طور پر نمایاں کیا۔ 1908ء میں نوجوان ترک انقلاب کے بعد آئینی نظام دوبارہ بحال ہوا اور 1909ء میں عبدالحمید ثانی کو معزول کر دیا گیا۔

محمد خامس کے دور میں عثمانی سلطنت کو تاریخ کے شدید ترین بحرانوں کا سامنا ہوا۔ اٹلی کے ساتھ جنگ میں طرابلس کے علاقے کا نقصان ہوا، بلقان کی جنگوں میں یورپی علاقے بڑی تعداد میں ہاتھ سے نکل گئے، اور پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی سلطنت جرمنی کے ساتھ شامل ہوئی۔ جنگ کے نتیجے میں سلطنت شکست سے دوچار ہوئی اور اس کے وسیع علاقے تقسیم ہونے لگے۔

محمد ششم عثمانی سلطنت کے آخری سلطان تھے۔ ان کے دور میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد اتحادی طاقتوں نے عثمانی علاقوں پر قبضہ اور تقسیم شروع کی۔ ترکی میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں قومی تحریک اٹھی۔ 1922ء میں ترک قومی اسمبلی نے سلطنتِ عثمانیہ ختم کر دی اور محمد ششم ملک چھوڑ گئے۔ یوں تقریباً چھ سو سال تک قائم رہنے والی عثمانی سلطنت کا اختتام ہوا۔

عثمانی کامیابی صرف فوجی طاقت کا نتیجہ نہیں تھی۔ ان کے عروج میں کئی عوامل شامل تھے۔ سب سے پہلے ان کا جغرافیائی مقام اہم تھا؛ ان کی ابتدائی ریاست بازنطینی سلطنت کی سرحد پر واقع تھی، جہاں مسلسل فتوحات کے مواقع موجود تھے۔ دوسرا اہم عنصر منظم فوج تھی۔ عثمانیوں نے گھڑسوار دستوں کے ساتھ بعد میں ینی چری فوج اور جدید توپ خانے کو استعمال کیا۔ تیسرا عنصر مضبوط مرکزی انتظامیہ تھا۔ فتح شدہ علاقوں میں مقامی نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے کئی جگہ مقامی اداروں کو مخصوص حدود میں برقرار رکھا گیا۔ اس کے علاوہ عثمانیوں نے تجارت، شہروں، مذہبی اداروں اور تعمیرات کو بھی ترقی دی۔

عثمانی زوال اچانک نہیں آیا بلکہ کئی صدیوں میں بتدریج ہوا۔ یورپ میں سائنسی، صنعتی اور عسکری انقلاب آیا جبکہ عثمانی نظام کئی شعبوں میں پیچھے رہ گیا۔ روس اور آسٹریا جیسی طاقتوں نے مسلسل عثمانی علاقوں پر دباؤ ڈالا۔ بلقان میں قوم پرستانہ تحریکوں نے سلطنت کو مزید کمزور کیا۔ اندرونی سیاسی کشمکش، مالی مشکلات اور انتظامی مسائل بھی بڑھتے گئے۔ انیسویں صدی میں اصلاحات کی متعدد کوششیں کی گئیں، مگر سلطنت اپنے پرانے وسیع علاقوں کو برقرار نہ رکھ سکی۔

پہلی جنگِ عظیم عثمانیوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ شکست کے بعد سلطنت کے عرب علاقوں سمیت وسیع خطے اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ ترکی میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں قومی تحریک نے نئی ترک ریاست کی بنیاد رکھی۔ 1922ء میں سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا، جبکہ 1923ء میں جمہوریہ ترکی قائم ہوئی۔ 1924ء میں خلافت کا ادارہ بھی ختم کر دیا گیا۔

عثمانی سلطنت کی ابتدا ایک چھوٹی سی ترکمان سرحدی ریاست سے ہوئی تھی، لیکن عثمان اول اور ان کے جانشینوں نے اسے مرحلہ وار ایک عظیم سلطنت میں تبدیل کیا۔ اورخان نے اسے منظم کیا، مراد اول نے یورپ میں پھیلایا، بایزید اول نے اناطولیہ میں طاقت بڑھائی، محمد اول نے بحران کے بعد اسے دوبارہ متحد کیا، محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرکے اسے عالمی طاقت بنایا، سلیم اول نے شام، مصر اور حجاز کو سلطنت میں شامل کیا اور سلیمان قانونی کے دور میں یہ اپنی عظمت کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔ اس کے بعد اگرچہ کئی طاقتور سلاطین گزرے، مگر سلطنت کو بتدریج یورپی طاقتوں، داخلی مسائل اور جدید دنیا کی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر 1922ء میں اس سلطنت کا خاتمہ ہوگیا، مگر تقریباً چھ سو سالہ عثمانی تاریخ نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ، شمالی افریقہ اور مسلم دنیا کی سیاست، تہذیب، فنِ تعمیر اور تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top