سلطنتِ عثمانیہ — حصہ دوم

پہلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ عثمان اول سے سلطان ابراہیم تک عثمانی سلطنت ایک چھوٹی سی سرحدی ریاست سے بڑھ کر تین براعظموں پر پھیلی ہوئی عظیم سلطنت بن چکی تھی۔ لیکن سترہویں صدی کے وسط کے بعد سلطنت کو اندرونی سیاسی کشمکش، معاشی مشکلات، فوجی کمزوری اور یورپی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود عثمانی سلطنت مزید دو صدیوں سے زیادہ عرصے تک قائم رہی اور کئی طاقتور سلاطین نے اصلاحات کے ذریعے اسے سنبھالنے کی کوشش کی۔

محمد رابع کا دور طویل تھا۔ ابتدائی زمانے میں سلطنت سیاسی بحران کا شکار رہی، لیکن کوپرولو خاندان کے وزرائے اعظم نے انتظامیہ اور فوج کو مضبوط کیا۔ عثمانیوں نے یورپ میں کئی کامیابیاں حاصل کیں اور کریٹ پر قبضہ مکمل کیا۔ تاہم 1683ء میں ویانا کا دوسرا محاصرہ ناکام ہوا۔ اس کے بعد یورپی طاقتوں نے عثمانیوں کے خلاف ایک بڑا اتحاد قائم کیا اور سلطنت کو مسلسل فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 1687ء میں محمد رابع کو معزول کر دیا گیا۔

سلیمان ثانی کے دور میں یورپی اتحاد کے ساتھ جنگیں جاری رہیں۔ عثمانی سلطنت کو ہنگری اور بلقان کے محاذ پر کئی نقصانات اٹھانے پڑے۔ اس دور میں سلطنت کو واضح طور پر دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔

احمد ثانی کے دور میں آسٹریا کے ساتھ جنگ جاری رہی۔ 1691ء میں سالانکامن کی جنگ میں عثمانیوں کو شکست ہوئی۔ سلطنت کے یورپی علاقوں پر دباؤ بڑھتا گیا اور اس کی فوجی کمزوری نمایاں ہونے لگی۔

مصطفیٰ ثانی نے سلطنت کی فوجی طاقت کو بحال کرنے کی کوشش کی اور خود بھی فوجی مہمات میں شریک ہوئے۔ ابتدا میں کچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں، لیکن 1697ء میں زینتا کی جنگ میں عثمانی فوج کو شدید شکست ہوئی۔ 1699ء کے معاہدۂ کارلووٹز کے نتیجے میں عثمانیوں کو وسطی یورپ کے وسیع علاقے، خصوصاً ہنگری کے بڑے حصے، آسٹریا کے حوالے کرنے پڑے۔ یہ معاہدہ عثمانی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا کیونکہ پہلی مرتبہ سلطنت نے یورپ میں بڑے پیمانے پر علاقے مستقل طور پر کھوئے۔

احمد ثالث کے دور کو ’’عہدِ لالہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں عثمانی اشرافیہ میں یورپی فن، ادب، ثقافت اور طرزِ زندگی میں دلچسپی بڑھی۔ مطابع اور کتابت کے فروغ کی کوششیں ہوئیں۔ روس اور آسٹریا کے ساتھ جنگیں بھی ہوئیں اور بعض مواقع پر عثمانیوں نے کامیابیاں حاصل کیں۔ تاہم 1730ء میں پاترونا خلیل کی بغاوت کے نتیجے میں احمد ثالث کو تخت چھوڑنا پڑا۔

محمود اول نے بغاوت کے بعد سلطنت کو دوبارہ مستحکم کیا۔ ان کے دور میں روس اور آسٹریا کے خلاف جنگیں ہوئیں۔ 1739ء میں بلغراد کے معاہدے کے بعد عثمانیوں نے آسٹریا کے خلاف اہم کامیابی حاصل کی اور بلغراد دوبارہ عثمانیوں کے قبضے میں آیا۔ فوجی اصلاحات اور ریاستی استحکام پر بھی توجہ دی گئی۔

عثمان ثالث کا دور بہت مختصر تھا۔ ان کے زمانے میں کوئی بڑی علاقائی توسیع نہیں ہوئی۔ سلطنت کو بنیادی طور پر اندرونی انتظام اور موجودہ علاقوں کے دفاع کے مسائل کا سامنا رہا۔

مصطفیٰ ثالث نے فوجی اصلاحات کی ضرورت کو محسوس کیا، لیکن روس کے ساتھ جنگ میں عثمانیوں کو شدید مشکلات پیش آئیں۔ 1768ء میں روس کے ساتھ جنگ شروع ہوئی اور عثمانی فوج کو کئی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1774ء میں معاہدۂ کوچک کینارکا ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے بحیرۂ اسود اور عثمانی علاقوں میں اپنا اثر بہت بڑھا لیا۔ یہ عثمانی زوال کا ایک اور اہم مرحلہ تھا۔

حصہ دوم — اصلاحات اور آخری سلاطین

عبدالحمید اول نے روس کے ساتھ ہونے والے نقصانات کے بعد سلطنت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ لیکن روس کی طاقت مسلسل بڑھ رہی تھی۔ 1783ء میں روس نے کریمیا کو اپنے قبضے میں لے لیا، جو عثمانیوں کے لیے بڑا نقصان تھا۔ اس دور میں فوجی اصلاحات کی ضرورت مزید واضح ہوئی۔

سلیم ثالث عثمانی اصلاحات کے اہم ترین سلاطین میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ’’نظامِ جدید‘‘ کے نام سے نئی فوج قائم کرنے کی کوشش کی اور یورپی طرز کے فوجی و انتظامی نظام متعارف کرانے کا آغاز کیا۔ انہوں نے جدید فوجی تربیت اور تعلیم پر توجہ دی۔ لیکن ینی چری اور قدامت پسند حلقوں نے ان اصلاحات کی مخالفت کی۔ 1807ء میں بغاوت کے نتیجے میں سلیم ثالث کو معزول کر دیا گیا۔

مصطفیٰ رابع کا دور بہت مختصر تھا۔ اصلاحات کے مخالف عناصر نے اقتدار پر اثر قائم رکھا۔ دوسری طرف اصلاح پسند حلقے سلیم ثالث کے نظام کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے تھے۔ سیاسی کشمکش کے دوران مصطفیٰ رابع بھی اقتدار برقرار نہ رکھ سکے۔

محمود ثانی عثمانی اصلاحات کے اہم معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1826ء میں ینی چری فوج کا خاتمہ تھا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے جدید فوج تشکیل دینے کی کوشش کی اور مرکزی حکومت کو مضبوط کیا۔ انتظامیہ، تعلیم اور فوج میں اصلاحات شروع کی گئیں۔ تاہم ان کے دور میں یونان کی آزادی اور مصر کے محمد علی پاشا کی طاقت جیسے بڑے مسائل سامنے آئے۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک ایسی اصلاحی بنیاد قائم کی جس پر بعد کے عثمانی حکمرانوں نے مزید کام کیا۔

عبدالمجید اول کے دور میں ’’تنظیمات‘‘ کے نام سے وسیع اصلاحات کا آغاز ہوا۔ 1839ء کا فرمانِ گلخانہ اور 1856ء کا فرمانِ اصلاحات عثمانی قانونی اور انتظامی تاریخ کے اہم واقعات تھے۔ ریاستی اداروں، تعلیم، فوج اور عدالتی نظام میں تبدیلیاں کی گئیں۔ 1853ء سے 1856ء تک کریمیا کی جنگ میں عثمانیوں نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر روس کا مقابلہ کیا۔

عبدالعزیز نے فوج اور خصوصاً بحریہ کو جدید بنانے پر توجہ دی۔ عثمانی بحری بیڑا اس زمانے میں دنیا کی بڑی بحری طاقتوں میں شامل ہونے لگا۔ تاہم بیرونی قرضوں، مالی مشکلات اور اندرونی سیاسی بحران نے سلطنت کو کمزور کیا۔ 1876ء میں انہیں معزول کر دیا گیا۔

مراد خامس صرف چند ماہ سلطان رہے۔ ان کی صحت کے مسائل کے باعث انہیں حکومت کے لیے موزوں نہ سمجھا گیا اور انہیں معزول کرکے ان کے بھائی عبدالحمید ثانی کو سلطان بنا دیا گیا۔

عبدالحمید ثانی عثمانی سلطنت کے آخری طاقتور سلاطین میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے دور میں 1876ء کا آئین نافذ ہوا اور پارلیمانی نظام قائم ہوا، لیکن جلد ہی پارلیمنٹ معطل کر دی گئی اور سلطان نے مرکزی اقتدار مضبوط کر لیا۔ 1877ء تا 1878ء کی روسی جنگ میں عثمانیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور بلقان کے کئی علاقے ہاتھ سے نکل گئے۔ عبدالحمید ثانی نے خلافت کے مذہبی و سیاسی تصور کو مضبوط کیا اور مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کی۔ ریلوے، خصوصاً حجاز ریلوے، ان کے دور کا نمایاں منصوبہ تھا۔ 1908ء میں نوجوان ترک انقلاب کے بعد آئینی نظام دوبارہ بحال ہوا اور 1909ء میں عبدالحمید ثانی کو معزول کر دیا گیا۔

محمد خامس کے دور میں عثمانی سلطنت اپنے آخری اور انتہائی مشکل مرحلے میں داخل ہوئی۔ 1911ء میں اٹلی کے ساتھ جنگ ہوئی اور شمالی افریقہ میں طرابلس کے علاقے کا عثمانی اقتدار ختم ہوگیا۔ 1912ء اور 1913ء کی بلقان جنگوں میں عثمانیوں نے یورپ کے اپنے بیشتر باقی ماندہ علاقوں سے ہاتھ دھو لیا۔ پھر پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی اور عثمانی سلطنت جرمنی کے ساتھ مرکزی طاقتوں میں شامل ہوگئی۔ جنگ کے نتیجے میں عثمانیوں کو شکست ہوئی اور سلطنت کے بیشتر عرب علاقے بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔

محمد ششم عثمانی سلطنت کے آخری سلطان تھے۔ ان کے دور میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد اتحادی طاقتوں نے عثمانی علاقوں پر قبضہ اور ان کی تقسیم شروع کردی۔ دوسری طرف اناطولیہ میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ترک قومی تحریک مضبوط ہوتی گئی۔ 1920ء کے معاہدۂ سیورے نے عثمانی سلطنت کو انتہائی محدود کرنے کی کوشش کی، لیکن ترک قومی تحریک نے اس منصوبے کو عملی طور پر ناکام بنا دیا۔ بالآخر 1922ء میں ترک قومی اسمبلی نے سلطنتِ عثمانیہ ختم کر دی۔ محمد ششم ملک چھوڑ گئے اور تقریباً چھ سو سال پر محیط عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔

سلطنت کے خاتمے کے بعد بھی خلافت کا ادارہ کچھ عرصہ باقی رہا۔ عبدالمجید ثانی کو 1922ء میں سلطان نہیں بلکہ خلیفہ مقرر کیا گیا، لیکن ان کے پاس کوئی سیاسی سلطنت نہیں تھی۔ 3 مارچ 1924ء کو ترکی کی قومی اسمبلی نے خلافت بھی ختم کر دی اور عبدالمجید ثانی کو جلاوطن کر دیا گیا۔ یوں عثمانی خاندان کی سیاسی حکمرانی اور خلافت دونوں کا تاریخی دور اختتام پذیر ہوگیا۔

عثمانی سلطنت کے زوال کی بنیادی وجوہات

عثمانی سلطنت کا زوال کسی ایک سلطان یا ایک جنگ کا نتیجہ نہیں تھا۔ یورپ میں سائنسی، صنعتی اور فوجی انقلاب نے طاقت کا توازن بدل دیا۔ روس، آسٹریا اور بعد میں برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی طاقتیں زیادہ مضبوط ہوتی گئیں۔ بلقان میں قوم پرستی نے عثمانی اقتدار کو چیلنج کیا۔ سلطنت کے اندر مالی بحران، بدعنوانی، درباری کشمکش اور انتظامی مشکلات بھی پیدا ہوئیں۔ عثمانیوں نے تنظیمات اور دیگر اصلاحات کے ذریعے خود کو جدید بنانے کی کوشش کی، مگر یہ اصلاحات سلطنت کے تمام مسائل حل نہ کرسکیں۔

پہلی جنگِ عظیم عثمانی سلطنت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ عثمانیوں نے جرمنی کے ساتھ اتحاد کیا، لیکن جنگ میں شکست کے بعد سلطنت کے عرب علاقوں سمیت وسیع خطے اس سے الگ ہوگئے۔ اتحادی طاقتوں نے عثمانی علاقوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ اناطولیہ میں مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ترک قومی تحریک نے اس تقسیم کے خلاف جنگ کی اور بالآخر ایک نئی ترک ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی۔

نتیجہ

سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ تقریباً چھ صدیوں پر محیط ہے۔ اس کا آغاز عثمان بن ارطغرل کی ایک چھوٹی سرحدی ریاست سے ہوا، جو پہلے اناطولیہ میں پھیلی، پھر یورپ میں داخل ہوئی، قسطنطنیہ فتح کیا، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک پہنچی اور ایک وقت میں تین براعظموں پر پھیلی ہوئی عظیم سلطنت بن گئی۔ سلیم اول اور سلیمان قانونی کے ادوار میں اس کی طاقت عروج پر پہنچی، لیکن بعد کے زمانے میں یورپ کی عسکری و صنعتی ترقی، مسلسل جنگوں، معاشی مشکلات اور اندرونی سیاسی مسائل نے اسے بتدریج کمزور کیا۔ اس کے باوجود عثمانیوں نے اصلاحات کے ذریعے اپنی سلطنت کو بچانے کی بارہا کوشش کی۔ آخرکار پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنت کا خاتمہ ہوا اور 1924ء میں خلافت بھی ختم کر دی گئی۔ یوں ایک چھوٹے سے ترکمان قبیلے سے شروع ہونے والی یہ داستان دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں میں سے ایک بن کر تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوگئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top