ہندوستان میں مغل اقتدار کا آغاز اور عروج
1۔ مغل سلطنت کیا تھی اور اس کی بنیاد کیسے پڑی؟
مغل سلطنت برصغیر کی سب سے طاقتور اور طویل عرصے تک قائم رہنے والی سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1526ء میں ہوا، جب وسطی ایشیا کے حکمران ظہیر الدین محمد بابر نے پانی پت کی پہلی جنگ میں دہلی کے سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دی۔
بابر کا تعلق تیموری خاندان سے تھا۔ اس کے والد کی طرف سے وہ امیر تیمور کی نسل میں سے تھا، جبکہ اس کی والدہ کی طرف سے اس کا تعلق چغتائی خاندان سے تھا، جو چنگیز خان کے بیٹے چغتائی خان کی نسل تھی۔
اسی وجہ سے بابر کے پاس وسطی ایشیا کی دونوں بڑی شاہی روایات یعنی تیموری اور چنگیزی نسبت موجود تھی۔
2۔ بابر سے ہمایوں تک — سلطنت کا مشکل آغاز
1526ء میں بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی اور آگرہ پر قبضہ کیا، لیکن اس کی حکومت ابھی مضبوط نہیں ہوئی تھی۔
بابر کو ہندوستان میں کئی طاقتور مخالفین کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے 1527ء میں خانوا کی جنگ میں راجپوت حکمران رाणा سانگا کو شکست دی۔ اس کے بعد 1528ء میں چندیری اور 1529ء میں گھاگھرا کی جنگوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔
بابر کی وفات 1530ء میں ہوئی اور اس کا بیٹا ہمایوں تخت پر بیٹھا۔
ہمایوں کو شیر شاہ سوری سمیت کئی طاقتور مخالفین کا سامنا کرنا پڑا۔ 1540ء میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان سے نکال دیا۔ ہمایوں نے کئی سال جلاوطنی میں گزارے اور بالآخر 1555ء میں دوبارہ دہلی پر قبضہ کر لیا، لیکن اگلے ہی سال 1556ء میں اس کی وفات ہوگئی۔
۔ اکبر — مغل سلطنت کا اصل استحکام
ہمایوں کے بعد اس کا بیٹا جلال الدین محمد اکبر تخت پر بیٹھا۔ اس وقت اکبر کی عمر تقریباً 13 سال تھی۔
ابتدائی دور میں اکبر کی طرف سے بیرم خان نے حکومت کے معاملات سنبھالے۔ 1556ء میں پانی پت کی دوسری جنگ ہوئی، جس میں مغل فوج نے ہیمو کو شکست دی۔
اکبر نے رفتہ رفتہ سلطنت کو بہت وسیع اور مضبوط بنایا۔ اس نے راجپوت ریاستوں کے ساتھ جنگ بھی کی اور سیاسی اتحاد بھی قائم کیے۔ گجرات، بنگال، مالوہ، گونڈوانہ اور دیگر علاقوں کو سلطنت میں شامل کیا گیا۔
اکبر نے حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے منصبداری نظام، مالیاتی اصلاحات اور صوبائی انتظام کو منظم کیا۔ اس کے دور میں مغل سلطنت ایک مضبوط مرکزی ریاست بن گئی۔
4۔ جہانگیر اور شاہ جہاں — مغل سلطنت کا عروج
اکبر کے بعد اس کا بیٹا نور الدین محمد جہانگیر بادشاہ بنا۔ جہانگیر کے دور میں مغل سلطنت پہلے سے قائم بنیادوں پر چلتی رہی۔
اس کے دور میں مغل دربار میں نور جہاں کا سیاسی اثر بھی بہت نمایاں تھا۔ جہانگیر کو فنون، مصوری اور فطرت سے خاص دلچسپی تھی، اور اس کے دور میں مغل مصوری نے ترقی کی۔
اس کے بعد شاہ جہاں بادشاہ بنا۔ اس کا دور مغلیہ فنِ تعمیر کے عروج کے لیے مشہور ہے۔
اسی دور میں تاج محل، لال قلعہ دہلی اور جامع مسجد دہلی جیسی عظیم عمارتیں تعمیر ہوئیں۔
شاہ جہاں کے زمانے میں مغل سلطنت دولت، فنِ تعمیر، دربار اور شاہی شان و شوکت کے لحاظ سے اپنے عروج پر پہنچ گئی۔
۔ اورنگزیب — سلطنت کی سب سے بڑی وسعت
1658ء میں اورنگزیب عالمگیر اقتدار میں آیا۔ اس نے مغل سلطنت کو جغرافیائی اعتبار سے اس کی سب سے بڑی حدود تک پہنچایا۔
دکن میں طویل جنگوں کے نتیجے میں بیجاپور اور گولکنڈہ جیسی ریاستیں مغل سلطنت میں شامل ہوئیں۔
اورنگزیب کے دور میں مغل سلطنت شمال میں افغانستان کے بعض علاقوں سے لے کر جنوب میں دکن تک پھیل گئی تھی۔
لیکن اتنی وسیع سلطنت کو مسلسل جنگوں کے ذریعے قابو میں رکھنا بہت مشکل تھا۔ مراٹھوں، سکھوں، جٹوں، راجپوتوں اور دیگر طاقتوں کی مزاحمت نے مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھایا۔
اورنگزیب کی وفات 1707ء میں ہوئی۔
۔ اورنگزیب کے بعد مغل سلطنت کا زوال
اورنگزیب کے بعد مغل تخت پر کئی بادشاہ آئے، لیکن ان میں پہلے جیسی سیاسی اور فوجی طاقت نہیں تھی۔
صوبائی حکمران طاقتور ہونے لگے اور حیدرآباد، بنگال، اودھ اور دیگر علاقوں میں مرکزی مغل حکومت کا اثر کم ہوتا گیا۔
1739ء میں ایرانی حکمران نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا اور مغل سلطنت کی کمزوری پوری دنیا پر واضح ہوگئی۔
اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کے حملوں اور مختلف علاقائی طاقتوں کے عروج نے مغل سلطنت کو مزید کمزور کیا۔
دہلی پر کبھی مراٹھوں اور کبھی دوسری طاقتوں کا اثر قائم رہا، جبکہ اصل مغل بادشاہ زیادہ تر نام کا حکمران بن کر رہ گیا۔
۔ انگریز اور مغل سلطنت کا خاتمہ
18ویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی ایک بڑی سیاسی اور فوجی طاقت بن کر ابھری۔ 1757ء کی جنگِ پلاسی اور 1764ء کی جنگِ بکسر کے بعد بنگال اور شمالی ہندوستان میں کمپنی کا اثر بہت بڑھ گیا۔
مغل بادشاہ کی سیاسی حیثیت مسلسل کم ہوتی گئی، اگرچہ مغل بادشاہ کا نام کچھ عرصے تک ہندوستان کی رسمی سیاسی علامت کے طور پر باقی رہا۔
1857ء میں ہندوستان میں بڑی بغاوت ہوئی۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بغاوت کے بعد انگریزوں نے گرفتار کر لیا اور رنگون (موجودہ یانگون، میانمار) جلاوطن کر دیا۔
بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کے ساتھ 1858ء میں مغل سلطنت کا باقاعدہ خاتمہ ہوگیا اور ہندوستان براہِ راست برطانوی تاج کے زیرِ حکومت آگیا۔
خلاصہ
مغل سلطنت کا آغاز 1526ء میں بابر نے کیا اور تقریباً تین صدیوں تک برصغیر کی سیاست پر اس کا گہرا اثر رہا۔
بابر نے بنیاد رکھی، ہمایوں نے مشکلات کے بعد سلطنت واپس حاصل کی، اکبر نے اسے مضبوط اور منظم کیا، جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں سلطنت نے ثقافتی اور تعمیراتی عروج دیکھا، جبکہ اورنگزیب کے دور میں اس کی حدود سب سے زیادہ وسیع ہوئیں۔
اورنگزیب کے بعد مرکزی طاقت کم ہوتی گئی اور بالآخر 1858ء میں بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کے ساتھ مغل سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔
مغل سلطنت کا سب سے بڑا تاریخی ورثہ صرف اس کا وسیع علاقہ نہیں بلکہ انتظامی نظام، فارسی و ہندوستانی ثقافت کا امتزاج، فنِ تعمیر، مصوری، ادب اور برصغیر کی سیاسی تاریخ پر اس کا گہرا اثر ہے۔
اہم حوالہ جاتی کتابیں
- بابر نامہ — ظہیر الدین محمد بابر
- ہمایوں نامہ — گل بدن بیگم
- اکبر نامہ — ابوالفضل
- آئینِ اکبری — ابوالفضل
- تزکِ جہانگیری — جہانگیر
- معاصر مغلیہ تاریخیں — بدایونی وغیرہ
- The Mughal Empire — John F. Richards
- The Mughal Empire in India — Satish Chandra
- The Mughal Empire — Annemarie Schimmel
