شیر شاہ سوری

مغلوں کے درمیان سوری سلطنت کا عروج

شیر شاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ وہ افغان سوری قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی پیدائش تقریباً 1486ء میں ہوئی۔ اس کے والد حسن خان سوری بہار کے علاقے میں ایک جاگیردار تھے۔

فرید خان نے ابتدا میں اپنے والد کی جاگیر کے انتظام میں حصہ لیا۔ اس نے انتظامی امور، فوجی معاملات اور مقامی سیاست کو قریب سے سمجھا اور آہستہ آہستہ اپنی طاقت بڑھائی۔

اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ وہ ہندوستان میں اپنی سیاسی طاقت قائم کرے، اور آخرکار اس نے مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔

فرید خان کی زندگی میں ایک مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے ایک شیر کو مار ڈالا، جس کے بعد اسے شیر خان کہا جانے لگا۔

بہار میں اس نے اپنی سیاسی طاقت مضبوط کی اور افغان سرداروں میں اپنا مقام بنایا۔ بعد میں وہ بنگال کی سیاست میں بھی طاقتور ہوگیا۔

اس وقت ہندوستان میں ہمایوں مغل سلطنت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن شیر خان بھی تیزی سے ایک بڑی طاقت بن رہا تھا۔

دونوں کے درمیان مقابلہ آخرکار کھلی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

1539ء میں جنگِ چوسہ میں شیر خان نے ہمایوں کو شکست دی۔ اس کامیابی کے بعد اس نے شیر شاہ کا لقب اختیار کیا۔

اگلے سال 1540ء میں جنگِ قنوج (بلگرام) میں شیر شاہ نے ہمایوں کو دوبارہ شکست دی۔

ہمایوں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوگیا اور ایران کی طرف چلا گیا۔

اس طرح شیر شاہ سوری نے دہلی اور آگرہ پر قبضہ کرکے سوری سلطنت قائم کر دی۔

شیر شاہ کی حکومت کا دور زیادہ طویل نہیں تھا، تقریباً 1540ء سے 1545ء تک، لیکن صرف پانچ سال میں اس نے ہندوستان کے انتظامی نظام پر گہرا اثر ڈالا۔

شیر شاہ سوری کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا انتظامی اور مالیاتی نظام تھا۔

اس نے زمین کی پیمائش اور پیداوار کی بنیاد پر لگان/محصول مقرر کرنے کی کوشش کی۔ کسانوں کے ساتھ ریاستی محصول کا واضح نظام قائم کیا گیا۔

اس نے سلطنت کو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا تاکہ حکومت کو مقامی سطح تک منظم کیا جاسکے۔

شیر شاہ نے سڑکوں، سراؤں اور ڈاک کے نظام کو بھی بہتر بنایا۔ بڑی شاہراہوں پر سرائیں قائم کی گئیں جہاں مسافروں کے لیے قیام کی سہولت موجود ہوتی تھی۔

اسی سلسلے میں مشہور شاہراہِ اعظم (Grand Trunk Road) کو بہتر اور منظم کرنے کا کام بھی شیر شاہ کے دور سے خاص طور پر منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ راستہ بنگال سے شمالی ہندوستان، پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقوں کی طرف جاتا تھا۔

شیر شاہ نے ایک باقاعدہ چاندی کا سکہ جاری کیا جسے روپیہ کہا جاتا تھا۔

بعد کے ادوار میں یہی اصطلاح برصغیر کے مالیاتی نظام میں بہت اہم ہوگئی۔

اس نے وزن اور معیار کے لحاظ سے سکوں کو منظم کیا اور تجارت کے لیے نسبتاً مستحکم مالیاتی نظام قائم کیا۔

اس کے اقدامات سے تجارت، سفر اور سرکاری محصولات کی وصولی میں آسانی پیدا ہوئی۔

شیر شاہ ایک قابل فوجی حکمران بھی تھا۔

اس نے اپنی فوج کو منظم کیا اور گھوڑوں کی شناخت اور فوجیوں کے ریکارڈ رکھنے جیسے انتظامات کیے۔

اس نے شمالی ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ بنگال، بہار، دہلی، آگرہ اور پنجاب سمیت وسیع علاقے اس کے زیرِ حکومت آگئے۔

اس نے راجپوت علاقوں میں بھی اپنی طاقت بڑھائی اور رنتھمبور، رائسین اور کالنجر جیسے علاقوں کے خلاف مہمات چلائیں۔

شیر شاہ سوری زیادہ عرصہ حکومت نہ کرسکا۔

1545ء میں کالنجر کے قلعے کے محاصرے کے دوران بارود کے دھماکے میں شدید زخمی ہوا اور وفات پا گیا۔

اس کے بعد اس کا بیٹا اسلام شاہ سوری حکمران بنا۔

اسلام شاہ نے کچھ عرصہ سلطنت کو سنبھالے رکھا، لیکن شیر شاہ جیسی مضبوط شخصیت نہ ہونے کی وجہ سے بعد میں سوری خاندان میں اندرونی اختلافات شروع ہوگئے۔

افغان سرداروں کی باہمی لڑائی اور سیاسی کمزوری نے مغلوں کے لیے دوبارہ ہندوستان میں داخل ہونے کا راستہ کھول دیا۔

بالآخر 1555ء میں ہمایوں نے دوبارہ دہلی پر قبضہ کرلیا اور سوری اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔

شیر شاہ سوری نے ہندوستان پر صرف تقریباً پانچ سال حکومت کی، لیکن اس مختصر دور میں اس نے ایسے انتظامی، مالیاتی، فوجی اور مواصلاتی اقدامات کیے جن کا اثر بعد کی مغل حکومت پر بھی پڑا۔

خصوصاً زمین کے محصول کا نظام، منظم سکہ، سڑکیں، سرائیں، ڈاک کا نظام اور مرکزی انتظام اس کے اہم کارناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

اسی لیے شیر شاہ سوری کو صرف وہ حکمران نہیں سمجھا جاتا جس نے ہمایوں کو شکست دی، بلکہ اسے برصغیر کے اہم ترین انتظامی اصلاح کار حکمرانوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

اہم حوالہ جاتی کتابیں

  • تاریخِ شیر شاہی — عباس خان سروانی
  • اکبر نامہ — ابوالفضل
  • ہمایوں نامہ — گل بدن بیگم
  • The Mughal Empire — John F. Richards
  • Medieval India: From Sultanat to the Mughals — Satish Chandra
  • Sher Shah and His Times — K.R. Qanungo

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top