خلافتِ عثمانیہ کا اختتام

حصہ اول: عثمانی سلطنت کا خاتمہ اور عرب دنیا کی تقسیم

انیسویں صدی کے آخر تک سلطنتِ عثمانیہ کو یورپی طاقتوں کی مسلسل پیش قدمی، اندرونی سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور قوم پرستانہ تحریکوں کا سامنا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم 1914ء میں شروع ہوئی اور عثمانی سلطنت جرمنی کے ساتھ شامل ہوگئی۔ 1918ء میں جنگ میں شکست کے بعد عثمانیوں کی وسیع سلطنت ٹوٹنے لگی۔ عرب علاقوں پر برطانیہ اور فرانس کا قبضہ یا مینڈیٹ قائم ہوا اور عثمانی سلطنت کے سابقہ علاقوں سے جدید قومی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔

ترکی عثمانی سلطنت کا مرکزی اور آخری بچ جانے والا حصہ تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد مصطفیٰ کمال پاشا نے ترک قومی تحریک کی قیادت کی۔ 1922ء میں ترک قومی اسمبلی نے سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ کردیا۔ 1923ء میں معاہدۂ لوزان کے بعد جمہوریہ ترکی قائم ہوئی اور مصطفیٰ کمال اتاترک اس کے پہلے صدر بنے۔ 1924ء میں خلافت کا ادارہ بھی ختم کردیا گیا۔ یوں عثمانی سلطنت اور عثمانی خلافت دونوں کا تاریخی دور مکمل ہوا۔

یمن کا بڑا حصہ عثمانی سلطنت کے زیرِ اقتدار تھا، لیکن پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر عثمانی فوجیں یمن سے نکل گئیں۔ شمالی یمن میں امام یحییٰ بن محمد حمید الدین نے اقتدار سنبھالا اور متوکلّی مملکتِ یمن قائم ہوئی۔ یمن اس لحاظ سے ان علاقوں میں شامل تھا جو عثمانی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ نسبتاً براہِ راست الگ ہوگئے۔

حجاز میں مکہ اور مدینہ واقع تھے اور عثمانی دور میں یہ علاقہ سلطنت کا اہم مذہبی مرکز تھا۔ 1916ء میں شریفِ مکہ حسین بن علی نے عثمانیوں کے خلاف عرب بغاوت شروع کی اور مملکتِ حجاز قائم کی۔ بعد میں نجد کے حکمران عبدالعزیز ابن سعود نے حجاز فتح کرلیا۔ پھر نجد، حجاز اور دوسرے علاقوں کو متحد کرکے 1932ء میں مملکتِ سعودی عرب قائم کی گئی۔ اس لیے سعودی عرب کو صرف ’’عثمانی سلطنت سے آزاد ہونے والا ملک‘‘ کہنا مکمل تصویر نہیں؛ اس کی موجودہ ریاست مختلف عرب علاقوں کے مرحلہ وار اتحاد سے بنی۔

عراق عثمانی سلطنت کے تین اہم صوبوں بغداد، بصرہ اور موصل پر مشتمل خطے سے تشکیل پایا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے یہاں اپنا اقتدار قائم کیا اور 1921ء میں فیصل بن حسین کو عراق کا بادشاہ بنایا گیا۔ عراق نے بتدریج خودمختاری حاصل کی اور 1932ء میں برطانوی مینڈیٹ کا خاتمہ ہوا اور عراق لیگ آف نیشنز میں آزاد ریاست کے طور پر شامل ہوا۔ عراق کے پہلے بادشاہ فیصل اول تھے، جنہوں نے جدید عراقی ریاست کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

عثمانی دور میں شام ایک وسیع خطے کا حصہ تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد فیصل بن حسین نے دمشق میں عرب مملکت قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن 1920ء میں فرانسیسی فوج نے شام پر قبضہ کرلیا۔ شام فرانسیسی مینڈیٹ کے تحت آگیا۔ کئی سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد 1946ء میں فرانسیسی فوج کے انخلا کے ساتھ شام کو مکمل آزادی ملی۔ جدید شام کے قیام میں فیصل بن حسین اور بعد میں شامی قوم پرست تحریکوں کا اہم کردار تھا۔

لبنان کا موجودہ علاقہ عثمانی دور میں شام کے بڑے انتظامی خطے کا حصہ تھا، جبکہ بیروت اور جبل لبنان کی اپنی مخصوص انتظامی حیثیتیں بھی تھیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد لبنان فرانسیسی مینڈیٹ کے تحت آگیا۔ 1926ء میں جمہوریہ لبنان کا آئینی نظام قائم ہوا اور 1943ء میں لبنان نے آزادی حاصل کی، اگرچہ فرانسیسی فوجیں کچھ عرصہ مزید موجود رہیں۔ جدید لبنان کے قیام میں بشارہ الخوری اور ریاض الصلح جیسے رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا۔

اردن کا موجودہ علاقہ عثمانی دور میں شام اور حجاز کے درمیان مختلف انتظامی علاقوں میں شامل تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد امیر عبداللہ بن حسین نے 1921ء میں امارتِ شرق اردن قائم کی اور برطانوی سرپرستی میں حکومت شروع کی۔ 1946ء میں اردن کو مکمل آزادی ملی اور یہ مملکتِ ہاشمیہ بن گیا۔ امیر عبداللہ اول اس جدید ریاست کے بانی حکمران تھے۔

فلسطین بھی عثمانی سلطنت کا حصہ تھا اور پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانوی مینڈیٹ میں چلا گیا۔ فلسطین کو باقی عرب ممالک کی طرح ایک واضح آزاد مسلم ریاست کی شکل میں آزادی نہیں ملی۔ 1947ء میں اقوام متحدہ نے تقسیم کا منصوبہ پیش کیا، 1948ء میں برطانوی مینڈیٹ ختم ہوا اور اسرائیل قائم ہوا۔ اسی جنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ فلسطینی ریاست کا مسئلہ آج تک حل طلب ہے، اس لیے فلسطین کو دیگر سابق عثمانی علاقوں کی طرح سادہ ’’آزادی کی تاریخ‘‘ دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔

عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد عرب دنیا ایک ہی ریاست میں متحد نہیں ہوئی بلکہ مختلف علاقوں میں تقسیم ہوگئی۔ عراق، شام، لبنان، اردن اور فلسطین جیسے علاقے پہلے برطانوی یا فرانسیسی انتظام کے تحت آئے، جبکہ حجاز میں عرب حکمرانی قائم ہوئی اور بعد میں ابن سعود نے مختلف علاقوں کو متحد کرکے سعودی عرب بنایا۔ یوں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا وہ نقشہ بننا شروع ہوا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top